{"title":"Bertrand Russell","description":"","products":[{"product_id":"azadi-ki-rahain","title":"Azadi Ki Rahyn  آزادی کی راہیں","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eآزادی کی راہیں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈ رسل\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت اور اکثریت میں تصادم.!\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسیاست کے مختلف تعریفیں کی جاسکتی ہے اور مختلف ہونے کی وجوہ اس کے مختلف نوعیت کی بنا پر کی جاتی ہے بہرحال یہاں سیاست کی ایک خاص عنصر کو مہو گفتگو بناکر ایک الگ نکتہ نظر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسیاست یا اجتماعی زندگی میں ہمیشہ دو طبقات کسی نہ کسی صورت میں متصادم ہوتی ہے، ایک وہ طبقہ جس کے پاس دولت اور طاقت کا ارتکاز زیادہ ہو جس کے باعث وہ بالادست ہوجاتا ہے لیکن یہ طبقہ ہمیشہ اقلیت میں ہوتا ہے اور دوسرا وہ طبقہ جس پر دولت اور طاقت کا مرتکز ہونے کا \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eانحصار اس اقلیت بالادست طبقے کی ہوتی ہے، اور یہ طبقہ ہمیشہ اکثریت میں ہوتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت اور اکثریت تاریخ کے جھروکوں میں حاکم اور محکوم، آقا اور غلام، حکمران اور رعایا کی صورت میں متصادم ہوتی چلی آرہی ہے. جب سے نجی ملکیت کا تصور ابھرا ہے تب سے یہ دو طبقات ہمیشہ دست و گریبان رہے ہیں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاقلیت طبقہ جس کے پاس زر اور دولت جمع ہوجاتی ہے تو وہ اس زر و دولت کے سہارے طاقت اور اقتدار کا مالک بن جاتا ہے اور اکثریت طبقہ اس دولت اور طاقت کو پورے سماج میں تحلیل کرنے کیلئے بغاوت پر اتر آجاتے ہیں. پورے انسانی تہذیب و تمدن کی ارتقاء پر نگاہ ڈالی جائے تو پوری انسانی ارتقاء اس تصادم کے گرد گھومتی ہے لیکن اس کی نوعیت الگ ہوتی ہے ورنہ بنیاد وہی ہوتی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eموجودہ عصر حاضر میں تمام ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے بل بوتے پر کھڑی ہے. اگر تھوڑی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ہر ملک میں ایک مخصوص طبقہ ریاست کے مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کے حمایتی نظر آتے ہیں جبکہ بالمقابل ایک مخصوص طبقہ اس مرکزی طاقت اور دولت کو صوبوں اور ضلعوں تک تحلیل کرنے کے تگ و دود میں رہتے ہیں. یہ سلسلہ پہلے غلامانہ نظام سے لیکر جاگیردارانہ نظام تک، جاگیرداری سے لیکر سرمایہ دارانہ نظام تک اور سرمایہ دارانہ نظام کو مزید سموتھ شکل دینے کے لیے جمہوریت، جمہوریت سے لیکر لیبرل جمہوریت اور اب سوشل جمہوریت تک یہ سلسلہ وار تصادم جاری ہے اور یہ جاری رہے گی تب تک سرمایہ دارانہ نظام کو بھی اکھاڑ پھینک کر اس کی جگہ ایک اشتراکی نظام سوشل ازم نافذ کردیا جائے. یہ کب اور کس طرح ممکن ہوگا یہ ایک الگ بحث ہے بہرحال اب تک جس شکل میں جو بھی نظام موجود ہے وہ اس اقلیت بالادست اور اکثریت محکوم طبقات کے تصادم کے نتیجے میں ابھری ہے مطلب حالیہ ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ نظام ان دو طبقاتی کشمکش کی مرہون منت ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمثال کے طور پر، پاکستان میں اس وقت فوجی آمریت سیول مارشل لاء کی شکل میں صرف اسٹیبلشمنٹ اور اس سے جڑی ہوئی تمام اجزاء پر دولت اور طاقت دونوں مرتکز ہے اور اس کے مقابل محکوم اقوام بائیس کروڑ عوام کی شکل میں اکثریت ہوتے ہوئے بھی اس اقلیت طبقہ کی زیر تسلط اقتصادی، سیاسی او قومی محکومیت میں زندگی بسر کررہے ہیں. ملکی سطح پر صوبوں کی صورت میں اور صوبوں کے اندر مذہبی اور ریاستی آلہ کارو کی صورت میں اس بالادست طبقے کی مفادات اور ریاستی مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ جو قومی مفادات اور محکوم طبقات کے حق میں اس مرکزی طاقت اور دولت کو مرکز سے لیکر صوبوں اور صوبائی سطح پر اس دولت اور طاقت کو علاقوں تک عوام میں تحلیل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں،مطلب یہاں بھی واضح طور اقلیت کی بالادستی اور اکثریت کی محکومیت کا تصادم مختلف صورتوں میں جاری ہے اور اس لڑائی میں مرکزی طاقت کو تحلیل کرنے میں جو بھی سامنے آتا ہے وہ اپنے وقت کا سب بڑا ترقی پسند اور انسان دوست تصور کیا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eبیسویں صدی کا مشہور فلسفی مبلغ برٹرینڈ رسل اپنے کتاب \" آزادی کی راہیں\" میں موجودہ سیاسی و اقتصادی نظاموں کیپٹل ازم، سوشل ازم، سنڈیکلیزم اور انارکسیزم کا موازنہ کرتے ہیں اور اپنے انداز میں ان نظاموں کے ایمپلیمنٹیشن پر سیر حاصل بحث کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ایک معتدل طریقہ رائج اور نظام کی تجویز پیش کرتے ہیں.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں برٹرینڈ رسل نے ان ریاستوں کو مخاطب کیا ہے جو اس وقت تیسری دنیا کیلئے ترقی اور خوشحالی کیلئے آئیڈیل کو طور پر مانا جاتا ہے. ہمارے ہاں یوں موضوعات پر بحث کرنا اور ان کو رائج کرنے کیلئے جدوجہد کرنا تو فلحال محال ہے کیونکہ یہاں ابھی تک یہ کنفرم نہیں ہورہا کہ ریاست کا بھی مذہب ہوسکتا ہے کہ نہیں، یہاں ابھی تک جمہوریت مسلمان نہیں ہوچکا ہے اور یہاں ابھی تک مادہ اور خیال کو الگ نہیں کیا جاسکتا اور ان کو ایک ہی پیمانے پر تولا جاتا ہے.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e=== زاہد اللہ زاہد ===\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%DB%8C_%DA%A9%DB%8C_%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%DA%BA?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZVIi1ZnzlavvanRgb60cAXklEL3SWS1XshcG_MzGTA6MTsV7o3JvEpk7zN6S-gZrI1KM7p0WavP_B7tGmGmjNYsl-iRc4TUvq4yLdFVyttHSw\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"qi72231t nu7423ey n3hqoq4p r86q59rh b3qcqh3k fq87ekyn bdao358l fsf7x5fv rse6dlih s5oniofx m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk srn514ro oxkhqvkx rl78xhln nch0832m cr00lzj9 rn8ck1ys s3jn8y49 icdlwmnq cxfqmxzd d1w2l3lo tes86rjd\" tabindex=\"0\"\u003e#آزادی_کی_راہیں\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e، \u003cspan\u003e\u003ca role=\"link\" href=\"https:\/\/www.facebook.com\/hashtag\/%D8%A8%D8%B1%D9%B9%D8%B1%DB%8C%D9%86%DA%88_%D8%B1%D8%B3%D9%84?__eep__=6\u0026amp;__cft__%5B0%5D=AZVIi1ZnzlavvanRgb60cAXklEL3SWS1XshcG_MzGTA6MTsV7o3JvEpk7zN6S-gZrI1KM7p0WavP_B7tGmGmjNYsl-iRc4TUvq4yLdFVyttHSw\u0026amp;__tn__=*NK-R\" class=\"qi72231t nu7423ey n3hqoq4p r86q59rh b3qcqh3k fq87ekyn bdao358l fsf7x5fv rse6dlih s5oniofx m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk srn514ro oxkhqvkx rl78xhln nch0832m cr00lzj9 rn8ck1ys s3jn8y49 icdlwmnq cxfqmxzd d1w2l3lo tes86rjd\" tabindex=\"0\"\u003e#برٹرینڈ_رسل\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507277779220,"sku":"9789695621936","price":280.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/Azadi-ki-Rahain-1-scaled.jpg?v=1693300563"},{"product_id":"logon-ko-sochny-do","title":"Logo Ko Sochany Do | Bertrand Russell | Qazi Javed  لوگوں کو سوچنے دو","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"9qo45-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9qo45-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9qo45-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈ رسل کو آپ کے فلسفے کی تاریخ کا آخری بڑا فلسفی قرار دے سکتے ہیں۔ زندگی میں ہی اس کی شہرت تمام براعظموں تک پھیل گئی تھی اس کی شہرت صرف علمی اور فکری حلقوں تک محدود نہ رہی تھی بلکہ ارباب ادب و فن اور تعلیم یافتہ عوام تک بھی پہنچی تھی۔ رسل کی تحریروں کو چاہنے والوں کے علاوہ ان کی مخالفت کرنے والے بھی ہر جگہ موجود تھے۔ بہت سے ایسے لوگ تھے جو رسل کو بیسویں صدی کے ضمیر کی آواز سمجھتے تھے اور اس کو تہذیب اور انسانیت کا نمائندہ خیال کرتے تھے۔ اس کی وفات کے لگ بھگ نصف صدی بعد کسی اور فلسفی کو یہ اعزاز اور یہ مقبولیت حاصل نہیں ہوئی ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"e0g4k-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبرٹرینڈرسل کی زیر نظر کتاب چند مضامین کا مجموعہ ہے جو مذہب اور انسانی زندگی میں اس کے کردار پر رسل کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں.\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"2khqk-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"2khqk-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"2khqk-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr data-text=\"true\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"9far2-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"9far2-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"9far2-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eلوگوں کو سوچنے دو | برٹرینڈرسل\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"632u9-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"632u9-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"632u9-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ قاضی جاوید\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"62jod-0-0\" data-mce-fragment=\"1\" style=\"text-align: right;\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"62jod-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"62jod-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات | 224\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"8slud\" data-offset-key=\"30s5c-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507280335124,"sku":"9789695622537-","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/files\/logo_ko_sochny_do_adjsted.jpg?v=1753210729"},{"product_id":"main-maseehi-kyon-nahi","title":"Main Masihi Ku Nahi? | Bertrand Russell  میں مسیحی کیوں نہیں؟","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eWhy I Am Not a Christin book by Bertrand Russell.\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیں مسیحی کیوں نہیں ؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eترجمہ | صفدر حسین\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات 232\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیں مسیحی کیوں نہیں؟ | Mein Msihi Ku Nahi?\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507287413012,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-3-1-1-2-1-1-2-7-2-8-2-6-1-15-7-1-1-1-3-4-4-7-8-1-2-1-1","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/Why-I-Am-Not-A-Christian-scaled.jpg?v=1693300731"},{"product_id":"رسل-کی-آپ-بیتی","title":"Rasal Ki App Biti | Qazi Javed رسل کی آپ بیتی","description":"\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eرسل کی آپ بیتی | برٹنرڈ رسل\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eترجمہ | قاضی جاوید | صفحات :405\u003c\/span\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507380900116,"sku":null,"price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/TheStoryofPhilosophy22.jpg?v=1693302177"}],"url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/collections\/bertrand-russell.oembed","provider":"RohtasBooks","version":"1.0","type":"link"}