{"title":"Maxim Gorky","description":"","products":[{"product_id":"تین-راہی-میکسم-گورکی","title":"Teen rahi | maxism gorky تین راہی | میکسم گورکی","description":"\u003cp\u003eتین راہی ناول | میکسم گورکی \u003c\/p\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507251761428,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/IMG-20221106-WA0010.jpg?v=1693300134"},{"product_id":"بچپن","title":"Bachpan بچپن","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e28 جون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یومِ وفات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میکسم گورکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیکسم گورکی، نیزنی نوف گورود، روس میں 28 مارچ 1868ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی تحریروں سے دنیا کو متاثر کیا اور انقلاب میں روح پھونک دی۔ میکسم گورکی کا اصل نام الیکسی میکسیمووچ پیشکوف تھا۔ گورکی پانچ سال کا تھا جب اس کے باپ کا انتقال ہوا اور اسکی ماں اسے لے کر اپنے باپ کے یہاں چلی گئی، جو نیزنی نوف گورود میں رنگریزی کا کام کرتا تھا۔ اس وقت سے جوانی تک کی کتھا گورکی نے دو ناولوں میں بیان کی ہے۔ بچپن \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eاور منزل کی تلاش اور ایسے ناولوں کے لیے اس کی سرگزشت سے بہتر موضوع ملنا بہت مشکل ہے۔ پندرہ برس کی عمر میں گورکی نے شہر کازان کے ایک اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس نے ایک نان بائی کے ہاں ملازمت کرلی۔ گورکی چند ایسے طلبہ سے ملا جنھوں نے اس کے ذہن میں انقلاب پسندی کے بیج بو دیے۔ گورکی نے نان بائی کی دکان کو خیرباد کہا اور جنوب مشرقی روس میں دو تین سال تک بے کار پھرتا رہے۔ 1890ء میں وہ نووگورود کے ایک وکیل کا محرر ہوا اور وکیل کی ہمدردی و ہمت افزائی کی بدولت اس کی علمی اور ادبی قابلیت اتنی ہو گئی کہ وہ افسانے لکھنے لگا۔ 1892ء میں اس کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ 1898ء میں اس کے افسانوں کا مجموعہ دو جلدوں میں شائع ہوا۔ کچھ عرصہ میں وہ روس ہی میں نہیں بل کہ اس سے بھی زیادہ غیر ممالک میں مشہور اور ہر دل عزیز ہو گیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e1900ء میں شہر بدر کرکے نووگورود بھیج دیا گیا، مگر اس سزا کا اس کے طرزِعمل پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ 1902ء میں شاہی اکادمی کا رکن منتخب ہوا اور سرکار کے حکم سے انتخاب منسوخ کر دیا گیا تو چیخوف کو جو خود کچھ عرصہ پہلے منتخب ہوا تھا، اتنا غصہ آیا کی اس نے رکنیت سے استعفا دے دیا۔ 1905ء میں پہلے انقلاب روس کی تحریک اُٹھ رہی تھی تو گورکی قید کر دیا گیا، لیکن اس پر یورپ بھر میں ایسی نارضی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کو مجبوراً اسے رہا کرنا پڑا۔ انقلاب کا خاتمہ کر دیا گیا تو گورکی فنستان ہوتے ہوئے امریکا چلا گیا۔ امریکا کے بعد چند سال اٹلی کے مشہور جزیرے کیپری میں صحت کے خیال سے رہائش پزیر رہا۔ 1914ء میں جنگ عظیم شروع ہوئی۔ وہ کشت و خون پر افسوس کرتا فریقین میں سے کسی کے ساتھ اسے ہمدردی نہ تھی اور لڑائی کے انجام سے کوئی سروکار نہ تھا۔ البتہ جب 1917ء میں انقلاب کے آثار نظر آئے تو گورکی انقلاب کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔ اس دور میں گورکی نے صرف تین کتابیں اور لکھیں جن میں سے ایک میں تالستائی،کورولینکو، چیخوف اورآندریئف وغیرہ سے اس کی جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کے کچھ حالات ہیں، دوسری کتاب زندگی کی شاہراہ پر اور تیسری روزنامچہ ہے۔ ان میں جگہ جگہ پر افسانے اور ناول کا رنگ دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ متفرق مضامین، جن میں کمال دکھایا گیا ہے تو بڑھاپے کے آثار بھی بہت صاف نظر آتے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eگورکی کے ابتدائی افسانے روس کے غریب طبقے کا حال اسی طرح بتاتے ہیں جیسے دریا کی تہ سے مٹی اور گھونگھے جو جال کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ چلکاش (1895ء)، ہم سفر (1896ء) اور مالوا (1897ء) گورکی کے پہلے افسانوں کے مجموعے ہیں اور یہ زیادہ تر اس آوارہ گردی کی یادگار ہیں جو گورکی نے اوڈیسہ اور جنوبی روس میں کی تھی۔ گورکی کا ناول ماں (1907ء) انقلابی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کا دنیا کی بیشتر زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، فلمیں بھی بنیں۔ 1934ء میں میکسم گورکی سوویت ادیبوں کی انجمن کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے اور اپنی وفات (1936ء) تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ دنیائے ادب کا یہ عظیم ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی ماسکو اوبلاست میں 28 جون 1936ء کو جہان ِ فانی سے کوچ کر، گیا۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتخلیقات:\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" ماں\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" انسان کی پیدائش\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" اطالوی کہانیاں\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" تین راہی\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" بچپن\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" زندگی کی شاہراہ پر\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" منزل کی تلاش\"\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507313463572,"sku":"9789695628409-2-1-1-1-2-2-2","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/My-Childhood-I.jpg?v=1693301142"},{"product_id":"munzel-ki-talash-منز-ل-کی-تلاش","title":"Munzel Ki talash منز ل کی تلاش","description":"\u003cp\u003eمنز ل کی تلاش \u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eمیکسم گورکی\u003c\/p\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507315822868,"sku":"9789695625798","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/IMG-20190211-WA0037.jpg?v=1693301202"},{"product_id":"ماں-ناول","title":"Maa Novel | Maxim Gorky ماں ناول","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنام کتاب: ماں (ناول)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف: میکسم گورکی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eبڑا سائز (نیا ایڈیشین)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات: 416\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507346854164,"sku":"","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/DaleCargnig_2_5e06fbcc-972c-467a-9135-5e8f74da0bfe.png?v=1693301637"},{"product_id":"زندگی-کی-شاہراہ-پر","title":"Zindagi Ki Shahara Par زندگی کی شاہراہ پر","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاچھا تو لیجئیے چل پڑا میں زندگی کی شاہراہ پر. شہر کی بڑی سڑک پر جوتوں کی دکان میں \"بوائے\" ہو گیا ہوں. اس دوکان کا نام ھے: \"فیشن ایبل جوتے\" میرا مالک ناٹا سا, موٹا سا آدمی ھے. اس کا چہرا میلا اور بے جان ھے, پھولا ہوا اور خط و خال مٹے مٹے سے. اس کے دانتوں پر کائی سی جمی ہوئی ھے, آنکھیں دھندلی سی ہیں. مجھے تو وہ اندھا دکھائی دیتا ھے اس لیے آزمانے کو منہ چڑاتا ھوں.... دیکھوں اندھا ھے یا نہیں؟\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eوہ مجھ سے آہستگی سے لیکن درشتی سے کہتا ھے\"مت بگاڈو اپنا تھوبڑا\".\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\"زندگی کی شاہراہ پر\"\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفات 340\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507354947860,"sku":"","price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/In-the-World-II-Copy-scaled.jpg?v=1693301798"}],"url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/collections\/maxim-gorky.oembed","provider":"RohtasBooks","version":"1.0","type":"link"}