{"title":"Syed Faizan Naqvi","description":null,"products":[{"product_id":"لہور-دی-کھوج-syed-faizan-naqvi-lahore-di-khoj-punjabi","title":"لہور دی کھوج Syed Faizan Naqvi Lahore Di khoj (Punjabi)","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eلہور دی کھوج\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتحریر سید فیضان عباس نقوی\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\" سورہ بقرہ 212 ، القران ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا کرتا ہے ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ جو رزق علم جو مجھے عطا ہو رہا ہے اور اہل بیت رسول ؑ کے کرم و فیض سے بے حساب عطا ہو رہا ہے ۔ خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ پنجابی زبان میں لکھی میری پہلی کتاب ہے ، میں پنجابی ہوں میری زبان پنجابی ہے جو کہ میں نے اپنے گھر سے لی لیکن اس میں ادبی ذوق کا تڑکا نامور ادیب ، دانش ور ، پنجابی صحافت کا درخشندہ ستارہ ، استاد ڈاکڑ جمیل احمد پال صاحب کی وجہ سے پیدا ہوا اس کے بعد اس میں مزید گرہیں اقبال قیصر صاحب نے کھولیں اور پنجابی سنگت کی وجہ سے یہ شوق و عشق میرے اندر مزید بڑھتا گیا ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eپنجابی زبان میں لاہور کے عنوان پر آج تک لکھی گئی کتابیں اتنی ہیں جو کہ انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں ، شاید سب سے پہلی کتاب کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور تھی جو 1937 میں شائع ہوئی اس کے بعد لاہور کے نامور پنجابی ادیب و دانش ور مدثر بشیر صاحب کی کتاب لہور دی وار جو کہ 2010 میں شائع ہوئی اس کے بعد دو غیر ملکی خواتین کی کتابوں کے ترجمے لٹھے لوک لہور دے ہرکیرت کور چاہل اور لہور کنی دور ، سلطانہ بیگم ، کے نام سے شایع ہوئیں ۔ اس کے بعد شاید یہ کتاب ہے جو لاہور پر ہے اور پنجابی شاہ مکھی مین شایع ہوئی ہے ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب کو لکھنے کا خیال 2021 میں آیا تھا جب میری انگلش اور اردو والی کتاب ابھی شایع ہونے کے کوئی حالات و آثار دکھائی نہ دیتے تھے اس وقت اس کا پنجابی ترجمہ کرنا شروع کیا تھا خواہش تھی کہ اسے کوئی پنجابی ادارہ شایع کر دے پھر میرے دیرینہ دوست پروفیسر چاند شکیل نے اس کی پنجابی اغلاط کو درست کیا اور یہ کتاب 2022 میں ادارہ پلاک کے حوالے کر دیا ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب کو ادارہ پلاک نے فوٹو گرافک البم کے انداز میں شائع کیا ہے انتہائی خوب صورت رنگین تصاویر اور آرٹ پیپر نے اس کتاب کی شان و شوکت کو چار چاند لگا دئیے ہیں ۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر پلاک جناب عاصم صاحب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں خصوصی دل چسپی لی اور محترمہ بینش فاطمہ ساہی صاحبہ ڈائریکٹر جنرل پلاک کا انتہائی شکریہ جنہوں نے اس کتاب کو میری خواہش کے مطابق اسی انداز اور کوالٹی میں انتہائی مہنگے بجٹ میں شائع کیا ۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ کتاب لاہور ڈسٹرکٹ میں واقع گم نام اور نظر انداز کئے گئے ورثے کے متعلق میری پچھلے 18 سال کی محنت ہے تحریر اور تصویر کے ساتھ پیش خدمت ہے اس میں لاہور کے 135 تاریخی ، اہم لیکن گم نام مقامات کی تاریخ ، مقام اور تصاویر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔اس میں شامل ابواب میں مساجد ، مندر ، گرودوارے ، سمادھیں ، مقبرے و مزارت ، بنگلے و حویلیاں ، ادارے شامل ہیں ۔ ایک طرف اس کی تاریخ اور دوسری طرف اس کی رنگین تصاویر ہیں ۔ یہ کتاب 300 رنگین اور آرٹ پیپر صفحات پر مشتمل ہے ۔\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169502740577,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/622379784_3322960444535495_4551957598329064365_n.jpg?v=1790425350"},{"product_id":"muntisher-awarq-e-lahore-منتشر-اوراق-لاہور-syed-faizan-naqvi","title":"Muntisher Awarq E Lahore منتشر اوراق لاہور  Syed Faizan Naqvi","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور! ایک شہر ہی نہیں، ایک عہد ہے، تہذیب، تاریخ، محبت، علم وادب اور روحانیت کا ایسا گہوارہ جس نے صدیوں سے دلوں کو گرمایا، آنکھوں کو چک دی، قلم کو روانی دی اور زبان کو مٹھاس عطا کی۔ اس کے کوچے، اس کی فضاء اس کی مٹی، اس کے بوسیدہ در و دیوار ، سب کے سب ایک تاریخ ہیں، ایک روایت ہیں، ایک احساس ہیں۔ لاہور، صرف ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک تہذ یہی تسلسل، ایک جمالیاتی تجربہ ، اور ایک تاریخی احساس ہے۔ اس کی گلیوں میں وقت کی سانسیں گونجتی ہیں، اس کے در و دیوار پر صدیوں کے افکار مثبت ہیں، اور اس کی فضا میں علم، ادب، تصوف، سیاست، مزاحمت اور محبت کی خوشبور چی بھی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eزیر نظر کتاب منتشر اوراق لاہور \" ابھی یاد گار خوشبوؤں، ان مٹ نقوش اور ان چھپے ہوئے گوشوں کو یکجا کرنے کی ایک عظیم ادبی و فکری کاوش ہے۔ اس کتاب میں سو کے قریب اہل قلم، محققین، ادباء، مورخین اور لاہور شناس اور شخصیات کے مضامین شامل ہیں، جن کی تحریریں لاہور کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے، سمجھے اور محسوس کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ منتشر اوراق لاہور \" دراصل ان جذبوں، مشاہدوں ، یادوں اور تحقیق کا ایسا گل دستہ ہے جسے سو سے زائد اہل علم، فن، ادب، تاریخ اور عشق لاہور رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب محض مضامین کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا اجتماعی مرقع ہے جو لاہور کی گم گشتہ روح کو صفحہ قرطاس پر زندہ کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور پر مشتمل یہ اوراق منتشر تھے جو کہ مختلف میگزین، اخبارات، رسالوں کا حصہ تھے ، زیادہ تر مضامین سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے جریدے ماہنامہ احوال لاہور میں شائع ہوئے تھے ۔ اس کے علاوہ کچھ فیس بک سے لئے گئے اور کچھ احباب نے دستی لکھ کر حوالے کئے ۔ یہ منتشر اوراق اب ایک کتابی شکل میں ہیں ، اب ان میں ایک ربط ہے، کو اور بھی ایک تسلسل ہے، جو قاری کو لاہور کے ماضی، حال اور کبھی کبھار مستقبل کی جھلک بھی دکھاتا ہے۔ کسی صفحے پر تاریخ بولتی ہے، کسی پر معماری کا جمال ہے، کہیں بازاروں کی رونق ہے، کہیں گلیوں کی خامشی، اور کہیں کسی استاد، کسی درویش، کسی شاعر یا کسی مجاہد ملت کا تذکرہ ہے، جو لاہور کی پہچان بنا۔ اس کتاب کا سب سے حسین پہلو اس کی کثرت آرا میں وحدت کا\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eپیغام ہے۔ یعنی سب کا موضوع ہی لاہور ہے ۔ مختلف موضوعات ہونے کے باوجو د سب ہی تحریروں میں لاہور سے عشق و محبت کا جذبہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں مختلف مکاتب فکر ، نسلوں، طبقات اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے صرف لاہور کے لیے لکھا ہے، کہ اس شہر کا کمال یہی ہے کہ یہ سب کو اپنا لیتا ہے ، سب کو سمو لیتا ہے ۔ \"منتشر اوراق لاہور \" اہل لاہور ہی نہیں، بلکہ اُن تمام عاشقانِ لاہور کے لیے ایک تحفہ ہے، جو اس شہر کو صرف ایک مقام نہیں، بلکہ ایک محبت، ایک تجربہ ، ایک خواب سمجھتے ہیں۔ یہ \" اوراق \" اگر چہ منتشر ہیں، مگر ان کا مجموعی تاثر قاری کو ایک مربوط، زندہ متحرک لاہور کی جھلک دکھاتا ہے۔ ایک ایسا لاہور جو بیک وقت قدیم بھی ہے اور جدید بھی، محبت بھی ہے اور مزاحمت بھی، جمال بھی ہے اور کرب بھی۔ ہر مضمون اس شہر کی ایک پرت کو کھولتا ہے۔ یہ کتاب لاہور کے ان تمام پہلوؤں کی تصویر ہے جو تاریخ کی گرد میں دب کر دھندلے ہو چکے تھے ، یا جنہیں آج کی نسل نے محض سنا ہے، دیکھا نہیں۔ اس کتاب کا مقصد ان عکسوں کو دوبارہ روشن کرنا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمیں ان تمام اہل قلم حضرات کا ممنون ہوں کہ جنہوں نے اپنی یادوں، تحقیق، مشاہدے اور جذبات کو الفاظ کی صورت میں پیش کیا اور لاہور کی روح کو ایک بار پھر زندہ کر دیا۔ دعا ہے کہ یہ کاوش نہ صرف پڑھنے والوں کے دل کو چھوئے بلکہ لاہور سے ہمارے رشتے کو مزید گہرا کرے۔ یہ کتاب ان تمام قارئین کے لیے ہے جو لاہور کو صرف پڑھتے یا دیکھتے ہی نہیں، بلکہ محسوس کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eوالسلام\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eسید فیضان عباس نقوی\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eلاہور کا کھوجی، ریسرچ اسکالر\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003ePages 648\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN 9786277675195\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169503592545,"sku":null,"price":2200.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_4.jpg?v=1790425357"},{"product_id":"ضلع-لاہور-کا-جغرافیہ-راے-منشی-گلاب-سنگھ-lahore-ky-zila-ka-jugrafiya-rae-munshi-gulab-singh","title":"ضلع لاہور کا جغرافیہ | راے منشی گلاب سنگھ | Lahore ky Zila Ka Jugrafiya | Rae Munshi Gulab Singh","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eادارہ نے پچھلے کچھ سالوں سے لاہور پر لکھی گیی قدیم اور نادر کتب جو ناپید ہو چکی ہیں کوی پبلشر شایع کرنے کو تیار نہیں ان قدیم کتب اور مصنفین کی لاہور سے محبت اور ان کی محنت کو دیکھتے ہوئے ان کے تعارف کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ان قدیم کتب کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eزیر نظر کتاب ضلع لاہور کا جغرافیہ سال 1896 میں شایع ہوی تھی ۔جسے ہمارے دوست پروفیسر شعیب رضا (ویر جی )نے حواشی تحریر کر کے کم و بیش سوا سو سال بعد اپڈیٹ کیا ہے۔ یہ کتاب بتایے گی کہ 130 سال پہلے لاہور کیسا تھا۔ جو آج کے لاہور سے کتنا مختلف تھا۔ \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eمنجانب چیر مین ادارہ لاہور شناسی ۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eسید فیضان عباس نقوی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; mso-bidi-language: ER;\"\u003eISBN 9786277656119\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169515061345,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/LahoreKaJagriyfa_723f45c4-d6ce-4601-a2bc-1d6312a8f123.jpg?v=1790425402"},{"product_id":"لاہور-جو-شہر-تھا-انیس-ناگی-lahore-jo-shahr-tha-anees-nagi","title":"لاہور جو شہر تھا  | انیس ناگی  | Lahore Jo Shahr Tha | Anees Nagi","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eشہر کو دریافت کیا جانا ضروری ہے، شخصی حوالے سے یا تاریخی واسطے سے۔ شہر بظاہر خاموش ہوتے ہیں لیکن اس کے درو دیوار اور آسمان علامتوں کی طرح پہم محو سخن رہتے ہیں۔ ان کی بات سننا ضروری ہے۔ یہ بیک وقت تین زمانوں کی کہانی کو بیک وقت بیان کرتے ہیں۔ یہ تین زمانے تاریخ کی تشکیل کرتے ہیں۔ انسان اور شہر تاریخ کے اندر ہوتے ہیں۔ شہر کا ہر باسی کسی نہ کسی طرح سے شہر سے مربوط ہوتا ہے۔ بعض اپنے کام کاج کے حوالے سے بعض جذباتی طور پر وابستہ ہوتے ہیں۔ ایک ہی شہر میں رہتے رہتے، ایک ہی طرح کے درودیوار دیکھتے دیکھتے یکسانیت کا احساس ہوتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ ان میں کوئی خاص بات نہیں لیکن جب بھی انسان اس یکسانیت سے نکل کر ایک اجنبی کی طرحدیکھتا ہے تو اس کے اندر چیزوں کے لئے تجس پیدا ہوتا ہے اور ان کے معانی دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ماضی کی تاریخ اسی لئے دلچسپ ہوتی ہے کہ ہم زمانی طور اس سے ہوتے ہیں۔ ایک اجنبی کی طرح اس کا نظارہ ایک فاصلے سے کرتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eلاہور جو شہر تھا میں لاہور کے ماضی اور حال کے اسلوب زندگی کو ایک فاصلے سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ لاہور کا مربوط حال نہیں ہے۔ تاہم ان شخصیتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے اس شہر سے مربوط رہی ہیں۔ ان کے بیان میں اور بہت سی باتیں بھی در آتی ہیں۔ جو اس شہر کی طبیعت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ بظاہر تو سارے شہر ایک سے ہوتے ہیں لیکن وہ اندر سے پہم انسانی زندگی کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ لاہور کسی زمانے میں ایک سست شہر تھا، لیکن آج اس شہر کی رفتار بہت تیز ہے۔ مزاج کی اس تبدیلی میں اس شہر کے رہنے والوں کی داستان بھی مضر ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eیہ آج اور کل کے لاہور کے بعض پہلوؤں کی تصویر ہے جس میں تخیل یا سنی سنائی باتوں کی بجائے تاریخی حقائق کو ترجیح دی گئی ہے۔ جنہیں آج ہم رومان سمجھتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003eانیس ناگی\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 20.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"mso-bidi-language: ER;\"\u003eISBN 9786277656126\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003ePages 157\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169515257953,"sku":null,"price":400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/LahoreJoSehr.jpg?v=1790425404"},{"product_id":"لاہور-میں-عزاداری-اور-محرم-syed-faizan-naqvi-سید-فیضان-نقوی","title":"لاہور میں عزاداری اور محرم | Syed Faizan Naqvi | سید فیضان نقوی","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003eلاہور میں عزاداری اور محرم | Syed Faizan Naqvi | سید فیضان نقوی \u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cstrong\u003eلاہور صدیوں سے ایک تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا ہے مسلمانوں کی تاریخ میں عیدین کے علاوہ بھی بے شمار ایسے تہوار ہیں جو مذہبی حیثیت رکھتے ہیں انہی میں ہی محرم الحرام بھی ایسا  ایونٹ ہے جس کو بڑے ذوق و شوق کے اور عقیدہ تو احترام سے منایا جاتا ہے اس کی ایک اپنی تاریخ ہے جس کی تاریخ بھی صدیوں پر محیط ہے لاہور جو کہ عزاداری کا ایک اہم مرکز ہے اور اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں امام بارگاہ موجود ہیں جس میں عزاداری عقیدت و احترام سے ہر سال منائی جاتی ہیں یہ کتاب جس میں لاہور میں ہونے والی عزاداری کی تہذیب اور ثقافت پر روشنی ڈالی گئی ہے یہ کتاب مجموعہ ہے مختلف مضامین کا جس میں اپ کو معلوم ہوگا کہ لاہور میں عزاداری کی تہذیب و ثقافت اتنی پرانی ہے اور کون کون سے امام بارگاہ اور کون کون سے مقام اور مراکز ایسے ہیں جس میں عزاداری صدیوں سے جاری ارہی ہے اس کتاب کو پڑھنے اور سیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپ تہذیب اور ثقافت کے بارے میں جان سکیں\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\" data-mce-style=\"text-align: right;\"\u003eصفحات 256\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169534689377,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/38.jpg?v=1790425480"},{"product_id":"تہذ-یب-عزا-عزاداری-سید-الشہدا-کا-ثقافتی-تاریخی-اور-مشاہداتی-جائزہ","title":"تہذ یب عزا عزاداری سید الشہدا  کا ثقافتی ، تاریخی اور مشاہداتی جائزہ","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"2org7\" data-offset-key=\"97imq-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"97imq-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"97imq-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتہذ یب عزا\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"2org7\" data-offset-key=\"7i7mp-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"7i7mp-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"7i7mp-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاس کتاب میں شیعہ ثقافت اور حضرت امام حسین کی یاد میں برپا ہونے والی عزاداری اور اس سے متعلق تقریبات و رسومات کو تاریخی اور ثقافتی جائزے کے تحت پیش کیا گیا ہے۔ یہ تمام رسومات اور اعمال شیعہ کتب فکر کے لوگ بہ نیت ثواب و برائے خوشنودی اہل بیت انجام دیتے ہیں ممکن ہے دیگر مکتبہ فکر کے ہاں ان اعمال کی حرمت پائی جاتی ہو یا ان کے ہاں جائز نہ سمجھے جاتے ہوں لیکن فی زمانہ معاشرے میں یہ سب عزاداری میں رائج ہیں جس کے بارے میں غیر شیعہ افراد بہت کم جانتے ہیں یا شیعہ نقطہ نظر سے واقف نہیں ہوتے ۔ اس لئے ان کا تذکرہ عام فہم طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ تا کہ دیگر مکتبہ فکر کے لوگ ان اعمال اور ان کے جواز سے واقف ہوسکیں۔ یہ سب شیعہ تہذیب کا حصہ ہیں۔ البتہ ان میں بہت کی چیزوں کا اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث ان کی اصل شکل میں کچھ تبدیلی آگئی ہے جس کی وجہ سے دیکھنے والے ان اعمال پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ اس کتاب میں جن رسم و رواج کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ ضروری نہیں کہ سب مذہبی نوعیت کی ہوں بلکہ ان کا تعلق ثقافت سے بھی بہت گہرا ہے۔ الغرض جو بھی ہے فی زمانہ رائج چیزوں کو مشاہدے اور مطالعے کے بعد قلم بند کیا گیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"2org7\" data-offset-key=\"194lt-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"brebh-0-0\" data-editor=\"2org7\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv data-auto-logging-id=\"f18b5413626a4c4\" class=\"_1mf _1mk\" data-offset-key=\"brebh-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"brebh-0-0\"\u003eتہذ یب عزا\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"7v9p3-0-0\" data-editor=\"2org7\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mk\" data-offset-key=\"7v9p3-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"7v9p3-0-0\"\u003eعزاداری سید الشہدا کا ثقافتی ، تاریخی اور مشاہداتی جائزہ\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"rff3-0-0\" data-editor=\"2org7\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv data-auto-logging-id=\"f2ac1e04129d074\" class=\"_1mf _1mk\" data-offset-key=\"rff3-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"rff3-0-0\"\u003eصفحات 182\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169546518625,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/gggkjh.jpg?v=1790425540"},{"product_id":"تعزیہ-تاریخ-تہذیب-روایت-فن-و-ثقا-فت-کا-مرقع","title":"تعزیہ تاریخ ، تہذیب ،  روایت ، فن و  ثقا فت کا مرقع","description":"\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"2org7\" data-offset-key=\"dg28b-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"dg28b-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"dg28b-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتعزیہ تاریخ کے آئینے میں\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"\" data-block=\"true\" data-editor=\"2org7\" data-offset-key=\"dff6o-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"dff6o-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"dff6o-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتعزیہ برآمد کرنے کی با قاعدہ مرتب تاریخ تو ہمیں نہیں ملتی کہ تعزیہ کا آغاز کس سال میں ہوا تھا لیکن برصغیر میں تعزیہ سازی کی روایت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ جلتا ہے کہ تعزیہ کے آغاز کی پہلی روایت مغل بادشاہ تیمور نے اپنے دور حکمرانی 1370 ، 1405ء میں رکھی تھی کہا جاتا ہے کہ چودھویں صدی میں امیر تیمور نے کربلا ( عراق ) کا دورہ کیا اور وہاں سے حضرت امام حسین کی شبیہ دہلی لے کر آیا اور اس شبیہ پر خاک کربلا کا لیپ کیا گیا تھا اور اس شبیہ کو مغلیہ طرز تعمیر کے مطابق تعمیر بھی کیا گیا اور بعد ازاں مغلیہ طرز تعمیر کے ساتھ اونچے تعزیے تعمیر کئے جاتے رہے اور یوں امیر تیمور کی پیروی میں ہندوستان بھر میں تعزیوں کی تعمیر کی روایت پڑ گئی اور آنے والے وقتوں میں لکڑی کے ساتھ ساتھ کھجور کے تنے، کتوں اور پلاسٹک کین کے ساتھ بھی تعزیے بنائے جانے لگے جن کو عاشور کے دن دریا برد کر دیا جاتا تھا اور اسے تعزیہ ٹھنڈا کرنے کی رسم بھی کہتے ہیں۔ امیر تیمور کے دور سے لیکر مغلیہ، سکھ اور انگریز عہد حکومت اور آج تک تعزیہ سازی کی یہ رسم جاری و ساری ہے اور اسی طرح محرم الحرام میں تعزیوں کا جلوس برآمد ہوتا ہے تعزیہ سازی کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر تعزیے مغلیہ دور سے شیعہ کی بجائے سنی حضرات کی جانب سے بنائے جاتے ہیں اور آج بھی پاک و ہند میں اکثر قدیم ترین تعزیوں کے لائسنس دارسنی بریلوی \u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"dff6o-0-0\" class=\"_1mf _1mk\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"av3g3-0-0\" data-editor=\"2org7\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mk\" data-offset-key=\"av3g3-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"av3g3-0-0\"\u003eتعزیہ\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"dt9su-0-0\" data-editor=\"2org7\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mk\" data-offset-key=\"dt9su-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"dt9su-0-0\"\u003eتاریخ ، تہذیب ، روایت ، فن و ثقا فت کا مرقع\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-offset-key=\"a4uhr-0-0\" data-editor=\"2org7\" data-block=\"true\" class=\"\"\u003e\n\u003cdiv class=\"_1mf _1mk\" data-offset-key=\"a4uhr-0-0\"\u003e\u003cspan data-offset-key=\"a4uhr-0-0\"\u003eصفحات 190\u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cspan data-offset-key=\"dff6o-0-0\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eحضرات ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ تعزیہ سازی میں ہندؤںاور سکھوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔\u003c\/span\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169546715233,"sku":null,"price":450.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/kjh.jpg?v=1790425540"},{"product_id":"لاہور-جو-میں-نے-دیکھا-lahore-jo-m-ny-dekha","title":"لاہور جو میں نے دیکھا | Lahore Jo M Ny Dekha","description":"\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمسعود حیات صاحب کا تعلق پہلوانوں کے خاندان سے تھا جو بڑے نامور ہوگذرے ہیں ۔ لاہور بلکہ برصغیر پاک و ہند میں ان پہلوانوں نے بڑا نام کمایا ہے ۔ آج مسعود حیات عوامی طور پر مشہور نہیں لیکن فن پہلوانی فن مصوری ، فن موسیقی کے حلقے ضروران کے نام سے واقف ہیں ۔ مسعود حیات 15 ستمبر 1936ء کو لاہور میں فاروق گنج کے علاقے میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد کا نام شیخ غلام دستگیر اور والدہ کا نام امیر بیگم تھا۔ ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ سے تعلیم حاصل کی ۔ 1962ء میں نیشنل \u003ca data-mce-fragment=\"1\" tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003eبنک آف پاکستان میں اکاؤنٹس آفیسر کے پیشے سے منسلک ہوۓ۔ 1969ء میں ان کی شادی ماہ جبین نامی خاتون سے ہوئی ۔ان سے تین بچے ہوۓ ۔ جن میں بڑا بیٹا عثمان مسعود ، پھر دو بیٹیاں آمنہ مسعود اور رابعہ مسعود ہیں ۔ بچپن سے ہی مصوری کا شوق تھا بہت کم عمری میں نہایت خوبصورت پینٹنگ بنائی جس پر سب حیران رہ گئے اس کے بعد با قاعدہ طور پر پینٹنگ سیکھتے رہے۔ برصغیر پاک ہند کے نامور مصور عبد الرحمن چغتائی اور استاد اللہ بخش کی شاگردی میں ان سے مصوری کے اسرار و رموز سیکھے ۔ مصوری میں ان کا موضوع لا ہور کی گمشدہ ثقافت ، تاریخی عمارات ماحول اور انسانی اقدار کی کمی ان کا خاص موضوع تھا۔ لاہور اور اسلام آباد میں ان کی پینٹگز کی نمائشیں منعقد ہوتی رہیں لیکن کبھی بھی کسی سرکاری یا نجی سطح پر کوئی حوصلہ افزائی اور ایوارڈ یا انعام نہیں دیا گیا۔ اپنے خاندانی فن پہلوانی کوفروغ دینے کے لئے انہوں نے نیشنل اسٹائل ریسلنگ ایسویسی ایشن نامی تنظیم قائم کی ۔ اس تنظیم کی جانب سے چھوٹے اور غیرمعروف پہلوانوں کو متعارف کیا۔فن پہلوانی اور اکھاڑوں کی تاریخ پر ایک کتاب بھی ترتیب دی ۔ سماجی، اخلاقی اقدار کے علمبردار تھے ان موضوعات پر روز نامه جنگ ، روز نامہ خبریں ، روز نامہ ایکسپریس، روز نامه امروز ، روزنامہ نواۓ وقت ، ہفت روز فیملی میگزین ، ہفت روزہ اخبار جہاں ، ماہنامہ اردو ڈائجسٹ میں مضامین لکھتے رہے ۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے حامی تھے۔ اسلامی نظام کے نفاذ کو ملک کی مضبوطی اور عوام کی خوشحالی کی وجہ سمجھتے تھے ۔ زندگی کے آخری سالوں میں خان نشین ہوکر رہ گئے۔ صرف مصوری اور مضامین لکھنے میں وقت گزارنے لگے ۔ پچھلے 90 سالوں کے اخبارات کے تراشے اور جمع کردہ تصاویر، لکھے گئے سینکڑوں مضامین اور دو کتا ہیں ان کی علمی میراث ہیں ۔ انہوں نے 17 ستمبر 2020 ءکولاہور میں وفات پائی۔ بیرون شیر نوالہ دروازہ مسجد میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور میانی صاحب قبرستان میں ان کے خاندانی احاطے نظام الدین میں سپردخاک کیا گیا۔ ان کی علمی میراث کو ان کے بیٹے عثمان مسعود سنبھالے ہوۓ ہیں ۔ یہ کتاب ان کی لاہور میں زندگی کے مشاہدے پر مشتمل ہے جس میں لاہور کی تہذیب و ثقافت ، انسانی و اخلاقی اقدار کی تبد یلی اور بدلا ؤ جس کو آنکھوں دیکھا اس کا بیان شامل ہے ۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eلاہور جو میں نے دیکھا\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمصنف مسعود حیات\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eتالیف سید فیضان عباس نقوی\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eصفحات 256\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169551859809,"sku":null,"price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/1_0f3686e6-e555-4cf7-8774-9c562c736bfd.jpg?v=1790425582"},{"product_id":"قدیمی-لاہور-گائید-1909","title":"قدیمی لاہور گائید 1909 | Qadimi  Lahore Guid 1909","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eلاہور گائیڈ\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x14z9mp xat24cr x1lziwak x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eآج میں آپ کو سیر کروانے جا رھا ہوں 1909 کے لاہور شہر کی جب اس کی آبادی صرف ڈیرھ لاکھ تھی۔ یہ نادر کتاب در اصل لاہور گائیڈ کے نام سے شائع ہوئی تھی جو دسمبر 1909 میں لاہور میں ہونے والی تاریخی صنعتی نمائش کے موقع پر آنے والے مہمانوں کی رہنمائی کیلئے شائع کی گئی تھی۔ یہ وہ مشہور نمائش ہے جس میں ہندوستان میں پہلی بار ہوائی جہاز کی نمائش کی گئی تھی۔۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eکتاب میں آپکو لاہور شہر کی مختصر تاریخ پڑھنے کو ملتی ہے۔ کچھ نقشے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لاہور آنے والی اور یہاں سے جانے والی ریل گاڑیوں کی ٹائمنگ کا شیڈول بھی ملتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eآپکو لاہور شہر کی تاریخی عمارتوں کا احوال بھی ملتا ہے اور جدید عمارات کے حوالے سے بھی فہرست ملتی ہے۔۔ بہت سی تاریخی اور کچھ جدید عمارتوں کے آج آپکو نشان بھی نہیں ملتے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eشہر کے باغوں سیر گاہوں کا احوال بھی ملتا اور شہر کے کارخانوں دستکاریوں بارے بھی معلومات دی گئی ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eچڑیا گھر بھی بنا ہے جہاں ہاتھی کے علاوہ ساری دنیا کے جانور ہیں۔ چند سال پہلے بننے والا ایک سٹیٹ آف آرٹ لارنس باغ بھی ہوتا تھا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eہوٹلوں کی بھی فہرست ملے گی۔ اور نیڈو ہوٹل جو ایک سال پہلے پوری لش بش کے ساتھ کھلا ہے اس بارے دلچسپ بات لکھی ہے کہ اس کے ارد گرد سبزہ ہی سبزہ ہے۔بجلی کی روشیاں اور پنکھے لگے ہوئے ہیں۔ ۔۔۔لائبریریوں اخباروں پرنٹنگ پریس بازاروں کے بارے بھی بتایا گیا ہے۔ آخر میں نمائش کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔۔۔۔۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169563033697,"sku":null,"price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Lahore-Guide-scaled.jpg?v=1790425713"},{"product_id":"lahore-guide","title":"سیر لاہور | Seir Lahore | Syed Faizan Abbas Naqvi","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eسیر لاہور\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eمصنف | رائے صاحب منشی گلاب سنگھ\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eترتیب و حواشی | سیّد فیضان عباس نقوی\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاشاعت | 2020ء\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eصفحآت 144\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cstrong\u003eلاہور کا شمار برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے، اس بارے کوئی دو آرا نہیں ہیں۔ اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ اس بات پر ہے کہ لاہور کو کس نے اور کب بسایا اور اس کے نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کو بسانے کے پس پشت مذہبی، تجارتی اور معاشی وجوہات رہی ہیں اور اس کو بسانے والا کوئی ایک شخص نہیں بلکہ قبائل اور برادریاں تھیں۔لاہور کا نام لاہو، لوہارو، لاوا یا کچھ اور تھا اس بابت بھی مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ لاہور کی ابتدائی تاریخ کی بابت مصدقہ معلومات بہت کم ہیں۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eلاہور پر مختلف ادوار میں غزنوی، غوری، مغل،ابدالی اور سکھ حکمران رہے لیکن سولہویں صدی کے اواخر اور اٹھارویں صدی کی ابتدا تک مغل دور اقتدار میں لاہور کو بہت زیادہ اہمیت رہی کیونکہ مغلوں نے کچھ سالوں تک اس کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eانیسویں صدی کے اوائل میں جب رنجیت سنگھ نے پنجاب پر اپنی حکومت قائم کی تو اس نے اپنی سرکار کو لاہور دربار کا نام دیا تھا۔رنجیت سنگھ کے دور اقتدار نے لاہور کو نئی شناخت دی اور لاہور نہ صرف ہندوستان بلکہ بین الاقوامی طور پر بہت زیادہ اہمیت اختیار کرگیا تھا۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eسکھ سلطنت کے انہدام کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں تاج برطانیہ لاہور پر قابض ہوا تو لاہور کی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا۔ اب لاہور برصغیر کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی تحریکوں کا اہم مرکز بن گیا تھا۔کوئی سیاسی اور سماجی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی تھی جب تک کہ لاہور اس تحریک کی تائید نہیں کرتا تھا۔برطانیہ سے مکمل آزادی کی قراردار ہو یا قیام پاکستان کی قرارداد دونوں ہی لاہور میں منظور ہوئی تھیں۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eبرطانوی عہد کا لاہور متعدد مذاہب، متنوع ثقافتوں اور لسانی شناختوں کا مرقع تھا۔ خوبصورت مندر، عالی شان مساجد، گردوارے اور چرچ اس کی پہچان تھے۔ لاہور کے تعلیمی ادارے اور اس کے کشادہ اور روشن بازار اور باغات اس کو پورے برصغیر میں اپنی مثال آپ تھے۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eلاہور کی پہچان جہاں اس کی ماضی کی شاندار تاریخ ہے جس کے آثار و باقیات آج بھی ہم میں موجود ہیں اور دوسرے وہ اہل علم ہیں جنھوں نے لاہور کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔انھوں نے لاہور بارے اپنے تذکروں اور یادداشتوں میں جس انداز میں لاہور کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا ہے اس نے لاہور کو زندہ جاوید بنادیا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eبرطانوی قبضے کے بعد لاہور بارے سب سے پہلی کتاب مولوی نور احمد چشتی نے 1868میں تحقیقات چشتی کے عنوان سے لکھی تھی۔ نوراحمد چشتی کی یہ کتاب لاہور بارے معلومات کا خزانہ ہے۔ لاہور بارے اس کے بعد جو دوسری کتاب لکھی گئی وہ رائے بہادر کنہیا لعل ہندی کی تاریخ لاہور تھی جو اپنے مواد اور زبان و بیان کے اعتبار سے آج بھی بہت مقبول ہے۔ اندرون شہر لاہور سے تعلق رکھنے والے سید محمد لطیف کی تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہور اور منشی محمددین فوق کی مآ ثر لاہور،لاہور کی تاریخ پر بہت اہم کتابیں ہیں۔ ان کتابوں میں لاہور کی تاریخ، تاریخی عمارتوں، مذاہب، ثقافتوں اوراس کے وسنیکوں کی زندگی کے مختلف رنگوں کو بیان کیا گیا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eتقسیم ہند کے بعد لاہور سے بحالت مجبوری نقل مکانی کرنے والے ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم لکھاریوں نے اپنی جنم بھومی لاہور سے زبردستی جدا کئے جانے کے غم اور اداسی کو اپنی یاداشتوں میں سمویا۔ان میں سوم آنند کی’کہاں گیا میرا شہر لاہور‘،گوپال متل کی’لاہورکا جو ذکر کیا‘، سنتوش کمار کی ’لاہور نامہ‘ ایسی کتابیں ہیں جن میں لاہور کا وہ رنگ نظر آتا ہے جو ہم اب ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں اور یہ وہ لاہور تھا جو آج کے فرقہ ورانہ تنازعات اور بنیاد پرستی کی فضا میں لتھڑے ہوئے لاہور کے مقابلے میں ایک خواب لگتا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003e’سیر لاہور‘ پروفیسر گلاب سنگھ کی تحریر کردہ ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ جغرافیہ کے استاد تھے۔ یہ کتاب انھوں نے 1936 میں لکھی تھی جو سکول کے ابتدائی کلاسز کے طلبا کے لئے تھی۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے طلبا کے ذہنی معیار اور صلاحیت کے پیش نظر رکھتے ہوئے لاہور کی نہایت آسان پیراے میں لاہور کی سیر کروائی ہے۔ پروفیسر گلاب سنگھ نے لاہور کی تمام قابل ذکر عمارتوں۔۔ ٹاون ہال،عجائب گھر، اسمبلی ہال، چڑیا گھر، گورنر ہاوس کو متعارف کروایا ہے۔ لاہور کی تاریخی عمارتوں۔۔ مقبرہ جہانگیر، شالا مار باغ، سمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ،سماج گورو ارجن دیو جی، بادشاہی مسجد، اور شاہی قلعہ کا بیان بھی بہت دلچسپ ہے۔ گلاب سنگھ اندرون شہر، اس کے مختلف بازار وں، محلوں اور وہاں موجود مختلف عمارتوں اور ان کی تاریخ کو آسان اور سلیس زبان میں بیان کرتے ہیں۔لاہور کا موسم، لاہور کے اردگرد موجود نہریں اور ندی نالے، ضلع لاہور کی سیر بذریعہ ریل، لاہور کا موسم اور لاہور سے متعلق ہر تفصیل پروفیسر گلاب سنگھ کی اس کتاب میں موجود ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eاس کتاب کو سید فیضان عباس نقوی نے مرتب کیا ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eکتاب: سیر لاہور\u003c\/strong\u003e\u003cbr\u003e\u003cstrong\u003eمصنف: رائے صاحب منشی گلاب سنگھ\u003c\/strong\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169563066465,"sku":"9789695628225","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/ihqdhd_7_358432b9-3d60-4782-8bc7-51c169a47c59.jpg?v=1790425713"},{"product_id":"sair-e-lahore","title":"پرانا لاہور | PUrana Lahore کرنل ایچ آر گولڈنگ","description":"\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cstrong\u003eلاہور کی مشہورِ زمانہ ’’ مال روڈ‘‘ کے 1851ء میں ارتقاء اور تعمیر( جب انارکلی سے میاں میرؒ جانے والی براہِ راست سڑک کو یہ نام دیا گیا) سے اس کی موجودہ حالت تک کی چند تفصیلات بیان کرنے کے بعد اس کا ایک تحریری خاکہ پیش کرنا دلچسپی کا باعث ہوسکتا ہے۔ میاں میرؒ کی طرف سے آتے ہوئے نہر پار کرنے کے بعد سڑک کے دونوں جانب چٹیل میدانوں کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملتا تھا، ماسوائے بائیں جانب ایک دو منزلہ پرانے سے بنگلہ کے، جو اب ہز ہائی نس مہاراجہ پٹیالہ کی ملکیت ہے۔ کچھ برس تک اس میں لاہور کے اینگلیکن بشپ بھی رہے، اسی کے باعث یہ ’’ بشپ بورن‘‘ (Bishop\\'s Bourne)کہلاتا تھا۔ مزید آگے چل کر سڑک کے اس جانب لارنس گارڈن اور لارنس و منٹگمری ہال دکھائی دیتے تھے۔ اس کی دوسری طرف گورنمنٹ ہائوس تھا۔ گورنمنٹ ہائوس سے ہوکر ہم ’’ارونڈل‘‘ تک پہنچ جاتے تھے، جس میں آر۔ برنی آئی سی ایس اور ان کے بعد سرکاری و غیر سرکاری افسروں کے علاوہ لاہور کی دیگر مشہور و معروف شخصیات قیام پذیر رہیں۔ کشمیر روڈ اور ’’ ارونڈل گیٹ وے‘‘ کے درمیان ایک چھوٹا سا قطۂ زمین ہے، میرے خیال میں ابھی تک کچھ لوگ اسے ’’برنی گارڈن‘‘ کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہم چلتے ہوئے قدیم پنجاب کلب تک آجاتے تھے، جو ایک مہیب سی بیرک نما عمارت کی شکل میں ہے۔ اس کے عقب میں ریکٹ کورٹ موجود ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایجرٹن روڈ قبل ازیں ’’ ریکٹ کورٹ روڈ‘‘ کے نام سے کیوں مشہور تھی۔ اس مقام پر نیڈو ہوٹل ( اب آواری ہوٹل قائم ہے جو اس سے قبل ہلٹن ہوٹل تھا)قائم تھا۔ سڑک کے دوسری جانب اس جگہ کوئی عمارت موجود نہیں تھی، جہاں 1916ء میں میسن لاج کی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ اسی طرح چیئرنگ کراس اور ہال روڈ چوک کے درمیان بھی کوئی عمارت نہیںتھی، ماسوائے مسٹر بریمر کے فوٹوگرافی سٹوڈیوکے، جو ایک خوبصورت انیکسی میں قائم تھا۔اس کے سامنے صرف تین بنگلے تھے۔ ایک بنگلہ جس میں اس وقت ڈائریکٹر آف انڈسٹریز کا دفتر قائم ہے، وہ دراصل مسٹر ڈیو جانسن کی جاگیر ’’ بیوپارک‘‘ تھا۔ اور اب جو عمارت فورڈ موٹر کمپنی کی ملکیت ہے، اس میں رڈیارڈ کپلنگ نے اخبار ’’ سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ میں صحافی کی حیثیت سے اپرنٹس شپ کی تھی۔ یہ عمارت 1880ء کے اوائل میں حکومتِ پنجاب کے ملٹری سیکرٹری کا دفتر بھی رہی۔ اس وقت جو عمارت سنی ویو ہوٹل کے نام سے معروف ہے، اسے لاہور کے سابق پوسٹ ماسٹر مسٹر جارج نے نجی رہائش گاہ کے طور پر تعمیر کروایا تھا، یہ عمارت مال روڈ سے ذرا ہٹ کر تعمیر کی گئی ہے۔ ہال روڈ چوک اور لارنس کے مجسمہ کے درمیانی حصہ میں سڑک کے دائیں جانب صرف ایک عمارت دکھائی دیتی تھی، جس میں کئی برس تک آنجہانی جیس ڈیوی سن کی کیرج شاپ قائم رہی۔ بائیں جانب دو پرانے بنگلے تھے، ان میں سے ایک حالیہ برسوں میں ’’ ایکسچینج بلڈنگ‘‘ کے نام سے مشور تھا۔ اسے مسمار کرکے سرگنگا رام کے کاروباری مرکز پر مشتمل بلاک کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ دوسری عمارت متعدد برس تک میسرز فلپس اینڈ کمپنی کے قبضہ میں رہی، اسے دو برس قبل بمبئے سائیکل اور موٹر ایجنسی کے شوروم اور ورکشاپوں کے لیے جگہ مہیا کرنے کی غرض سے مسمار کر دیا گیا۔ اب جس مقام پر لارنس کا مجمسہ ایستادہ ہے، اس کے قریب کہنہ پنجابی اینٹوں سے تعمیر ہونے والی ایک مشہور و معروف مینار نما چوکور عمار ت قائم تھی۔ یہ عمارت کئی برس تک برطانوی فوج کے ایک سابق افسر کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی، جس نے سکھ جنگوں کے دوران فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد پنجاب سول سیکرٹریٹ میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی تھی۔اس نے اپنی وفات تک یہ ملازمت کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ہندوستان میں کوئی دوست اور رشتہ دار نہیں تھا، چناں چہ اس نے باقی ماندہ زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔(کرنل ایچ آر گولڈنگ کی کتاب ’’ پرانا لاہور‘‘ سے اقتباس)\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169563132001,"sku":"9789695628065","price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Old-Lahore--scaled.jpg?v=1790425713"}],"url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/collections\/syed-faizan-naqvi.oembed","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}