{"title":"Mudassar Bashir","description":null,"products":[{"product_id":"lahore-di-waar-mudassar-bashir-لاہور-دی-وار-مدثر-بشیر","title":"لاہور دی وار | مدثر بشیر","description":"\u003cp\u003eلاہور دی وار | مدثر بشیر\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169495302241,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/WhatsAppImage2026-06-20at6.05.19PM_7f59b03e-060b-4135-a008-a10cd7a97fd3.jpg?v=1790425315"},{"product_id":"goyal-noval-mudassar-bashir","title":"گوئل | ناول | مدثر بشیر","description":"\u003cp\u003eگوئل | نوول | مدثر بشیر\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003eصفحات 560\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e80 گرام آف وائٹ پیپر\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House ( New Arrival )","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169523679329,"sku":null,"price":1650.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_38.jpg?v=1790425433"},{"product_id":"rani-joon-khawab-mudassar-bashir-yaseen-junijo","title":"رانی جوں خواب | مدثر بشیر | یاسین جونیجو","description":"\u003cp\u003eرانی جوں خواب | مدثر بشیر | یاسین جونیجو\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House ( New Arrival )","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169524334689,"sku":null,"price":520.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_44_c6ef0100-45f8-4f1e-ae30-46fd6873e397.jpg?v=1790425435"},{"product_id":"اتہاسک-لاہور-مدثر-بشیر-ithaski-lahore-muddassar-bashir","title":"تاریخی لاہور | مدثر بشیر | Ithaski Lahore | Muddassar Bashir","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Microsoft Uighur';\"\u003eلاہور کی تاریخ پر ایک طالب علم کی حیثیت سے کام کرتے سالہا سال بیت گئے۔ گلیاں گھومتے، پرانی عمارات کو گرتے، تباہ ہوتے دیکھا، کئی قبرستانوں پر جا کر عہدِ رفتہ کے مدفون خزانوں کو سلام پیش کیا۔ اپنی دانست میں جو بن پڑا، رکھتے مناظر کو پچھلی تحریروں سے ملا کر لکھنے کی کوشش بھی جاری رکھی۔ کام اپنی مختلف اشکال میں احباب کی رسائی تک آیا، کبھی بذریعہ اخبارات تو کبھی جرائد کا حصہ بنتے ہوئے۔ ستمبر 2011ء میں مادری زبان پنجابی میں کچھ کام کتابی صورت \"لہور دی وار\" میں آیا۔ اب \"اتہاسک لاہور\" حاضرِ خدمت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Microsoft Uighur'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\"اتہاسک لاہور\" میں اُن شخصیات کا تذکرہ ہے جو اُردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دے چکی ہیں اور وفات کے بعد جن کی جائے مدفون کا اعزاز لاہور کے قبرستانوں کو حاصل ہوا۔ صرف اُردو زبان کے حوالے سے اس شہر میں بے شمار قدآور شاعر، ادیب اور صحافی مدفون ہیں۔ اُن تمام مشاہیر کا احاطہ کرنے کے لیے شاید اس طرح کی دس کتب بھی کم ہوں۔ اُن میں سے چنیدہ شخصیات کو اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ وہ شخصیات جو اس کتاب کا حصہ نہیں، وہ کسی طور بھی کسی سے کم تر ہیں۔ ہر ادیب، شاعر اور صحافی کا اپنا ایک خاص طرزِ تحریر اور طرزِ بیان ہوتا ہے۔ حضرتِ انسان کی تاریخ میں کوئی ایسی کسوٹی ایجاد نہیں ہوئی جو تحریروں کے معیار کو جانچ سکے۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ چشمِ فلک نے کئی ایسے عظیم شعرا اور ادبا کو دیکھا جنھیں اُن کے اپنے عہد میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ لیکن اُن حضرات کی زندگی کے بعد جب اُن کے کام کو ازسرِ نو دیکھا گیا تو وہ ادب کی عمارت کے مضبوط ترین ستون دکھائی دیے۔ اس حوالے سے انگریزی زبان کے شاعر جان کیٹس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ غور کیجیے تو تاریخ میں کئی ایسے درباری شاعر اور ادیب بھی دکھائی دیے جو شاہ کے مصاحب تھے اور اپنے عہد کے بڑے نام، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی پہچان ختم ہوتی گئی۔ زیرِ نظر کتاب کی تحقیق و تحریر میں سب سے پہلا اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ کئی ایسے عظیم لوگ جن کا بے پناہ اعلیٰ درجے کا کام موجود تھا، تقسیم کے بعد وہ کس طرح نئی نسل اور آنے والی نسلوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے گئے۔ ہمارے ہاں ایسے طلبا کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ڈگری یافتہ تو ہے لیکن وہ محمد دین تاثیر اور اختر شیرانی جیسے ناموں سے نابلد ہے۔ اس کتاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری نصابی کتب میں اکثر جگہوں پر یہ تحریر واضح طور پر ملتی ہے کہ جنگِ آزادی یا غدر کے بعد مسلمانوں پر جدید تعلیم اور ترقی کے دروازے بند کر دیے گئے۔ جب اُردو ادب کی تاریخ کو دیکھا جائے اور خصوصاً انیسویں اور بیسویں صدی کے ادب پر توجہ مرکوز کی جائے تو یہ سوال اپنی جگہ آن کھڑا ہوتا ہے کہ انگریز سرکار ہی کے عہد میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان شاعر اور ادیب حضرات کہاں سے آگئے؟ کئی ایسے خاندان بھی دکھائی دیتے ہیں جن کا پس منظر انتہائی پڑھا لکھا تھا۔ منٹو کے خاندان کو بیرسٹرز کا خاندان کہا جاتا تھا۔ سید لطیف کے خاندان کو آج بھی ججوں کے خاندان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سب سے اہم ترین شے مسلمانوں کا عمومی رویہ تھا۔ اس ضمن میں میں کچھ حوالہ جات ایک مسلمان انڈین سول سرونٹ شوکت علی شاہ کی آپ بیتی \"خیال پور کا آدم خور\" سے پیش کر رہا ہوں جو۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 115%; font-family: 'Microsoft Uighur'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\"اتہاسک لاہور\" کی تحقیق و تحریر میں ایک اور اہم پہلو بھی مدِ نظر رکھا گیا ہے کہ لاہور میں مدفون اکثر بڑے شاعر اور ادیب حضرات پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔ ان لوگوں نے اپنی مادری زبان میں کام کیوں نہ کیا؟ اگر کیا تو قارئین سے چھپا کیوں رہا؟ اگر کہیں سے اُن کا کوئی کام ملا ہے تو اُسے بھی مناسب حد تک اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اُردو زبان شاید دنیا کی واحد زبان ہے جس کی بڑی خدمت ایک دوسری زبان کے افراد یعنی اہل پنجاب نے کی ہے۔ خصوصاً بیسویں صدی کے آغاز سے آج تک اُردو اہل پنجاب کی ممنون ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169534853217,"sku":null,"price":999.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/28.jpg?v=1790425484"},{"product_id":"چھتی-چوبارہ-کہانیاں-پنجابی-مدثر-بشیر","title":"چھتّی چوبارہ | کہانیاں | پنجابی | مدثر بشیر","description":"\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eچھتی چوبارہ | کہانیاں\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف | مدثر بشیر\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات 176\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cbr\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169541472353,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/chatiichubara.jpg?v=1790425517"},{"product_id":"سنہری-پتوں-کی-سر-زمین-مدثر-بشیر","title":"سرزمینِ زریں پتے | مدثر بشیر","description":"\u003cdiv class=\"xdj266r x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسفر وسیلہ ظفر ایک قدیم کہاوت ہے جس کے عملی طور پر درست ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ میں نے اندرونِ دیس کئی سفر کیے۔ اُن میں سے تین مختصر سفرنامے اپنی ایک کتاب \"سجن نال میلہ\" کے ذریعے بیان کر چکا ہوں۔ اس مرتبہ پہلی بار وطن کی سرحدوں سے پار سات سمندروں کی مسافت ہواؤں میں اُڑان بھرتے ہوئے طے کرنا تھی۔ اس لیے یہ اپنی جگہ پر ایک نیا تجربہ تھا۔ ہر مسافر ایک خاص زاویہِ نظر اور نظریے سے جگہوں، لوگوں اور اشیاء کو دیکھتا ہے۔ یہ اُس کا اپنا رویہ ہوتا ہے جو کسی بھی دوسرے شخص سے کلی یا جزوی \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eطور پر الگ ہو سکتا ہے۔ ایک دیس میں جاتے ہوئے کسی بھی دوسرے دیس کے شخص کو وقت، موسمی حالات اور زندگی کے دوسرے معاملات مختلف ہی ملتے ہیں۔ اس لیے کبھی بھی نئی جگہ پر لکھاری یا مسافر کو زندگی اپنے الگ رُوپ میں ملتی ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ میرے لکھے ہوئے ان سفرناموں سے کوئی دوسرا مسافر متفق نہ ہو۔ سو آنے والے صفحات پر تحریر تجربات و احساسات کو محض ایک شخص ہی کا تجربہ مانا اور جانا جائے۔ میں نے ذاتی طور پر کوشش یہی کی کہ جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا، اسے نفرت اور تقدیس کی عینک کے بجائے مکمل طور پر اپنی انسانی اور حقیقی آنکھ سے دیکھا جائے، سو جو سمجھ آیا، جو جان پایا، وہ تحریر کر دیا۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسنہری پتوں کی سر زمین\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e(کینیڈا کا سفرنامہ)\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصفحات 264\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169541505121,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/sunheripato.jpg?v=1790425518"},{"product_id":"دو-ناولٹ-سمے-___کون-مدثر-بشیر","title":"دو ناولٹ: سمے ___کون | مدثر بشیر","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\n\n\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e.. مصنف اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں اور محقق بھی ہیں، اس کا اندازہ تو دونوں ناولٹ سے ہو گیا تھا.. 'سمے' اور 'کون' میں سے 'کون' زیادہ پسند آیا کیونکہ پہلے کی نسبت یہ کچھ طویل ہے اور اس میں پنجابی کے مشہور شعراء کے اشعار بھی کافی ہیں جس سے اس ناولٹ میں دلچسپی زیادہ پیدا ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک گھنٹے کی طویل نشست میں رات ہی اسے پڑھ ڈالا.. الغرض ان دونوں ناولٹ کو اس ماہ کے بہترین ناولٹ آسانی سے کہا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\n\n\u003cspan\u003eبشکریہ سائیں نعمان ظہور (فکشن ہاؤس، لاہور) \u003c\/span\u003e\u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003e\u003c\/span\u003e\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan class=\"x3nfvp2 x1j61x8r x1fcty0u xdj266r xhhsvwb xat24cr xgzva0m xxymvpz xlup9mm x1kky2od\"\u003eنفیس حیدر \u003c\/span\u003e\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169547534433,"sku":null,"price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_-_2026-01-17T173628.337.jpg?v=1790425546"},{"product_id":"ابنارمل","title":"غیر معمولی | ابنارمل | اشو لال","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔۔۔۔ابنارمل\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eابنارمل اشو لال کے سرائیکی افسانوں\/کہانیوں کی پہلی کتاب ہے۔ اشو سرائیکی کے شہرہ آفاق تخلیقی جوہر کے مالک شاعر ہیں جن کی شاعری کے پانچ مجموعے شائع ہو کر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاس کتاب میں تیرہ افسانے\/کہانیاں شامل ہیں، جو 1992ء سے 2015ء کے درمیان لکھی گئی ہیں۔ لیکن بعض کے واقعات اس سے پہلے کے ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں: باوی، حافظ ڈاڈے دی شادی، مسیت دے لٹھے، پوہ مانہہ دے امب، خان وڈا، شیش نانگ، وتھ متوں ویلا، جنگل کہیڑ اتے جتاما، گنگا بشیرا اتے \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکملی، بے وطن، سیربین دا بڈھا، مکھن، ابنارمل۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eان کہانیوں میں لکھاری کے اپنے اردگرد کے علاقے اور لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اس کے اپنے شہر کے کردار بھی ہیں اور بہاول پور چولستان کے بھی۔ ان کو افسانے کہنے کی بجائے کہانیاں کہنا چاہیے جیسا کہ خود مصنف نے کہا ہے، اور یہ ایسی کہانیاں ہیں جن پر گارشیامارکیز کے مطابق یقین کیا جا سکتا ہے اور یہ قول کتاب کے شروع میں درج بھی ہے، جو ہمارے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکچھ کہانیوں کا تعلق تقسیم سے ہے۔ اس تقسیم سے لوگ جس انداز سے گزرے ہیں وہ قاری کے تقسیم کے بارے میں اعتبار کو متزلزل کر دیتا ہے اور دکھی بھی۔ تقسیم کی اذیت کے بعد لوگ پھر ضیاء کے دور، بھٹو کی پھانسی کے عہد سے بھی گزرے ہیں۔ وہ ان عذابوں کا ذکر کر کے پاکستانی لوگوں کو یاد دلاتا ہے کہ ان کو ان دکھوں سے دوسری بار بچنے کا احساس ہو سکے۔ یہ\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eافسانے کہانیاں ہی رہتے ہیں اور افسانہ نگار کسی نظریاتی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتا۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eHe should like to be a free artist and nothing more لیکن اس کے باوجود فکر اپنی روشنی پھیلاتی نظر آتی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e۔اور یہی کہانی کا فن ہے کہ وہ چپکے سے قاری کے اندر اترتی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکہانیوں میں کردار نگاری کا فن اپنے عروج پر ہے، بلکہ وہ اکثر کہانیوں کا حاصل ہے۔ ان میں شیش نانگ، حافظ ڈاڈے دی شادی، خان وڈا خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکہانیوں سے اس بات کا اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ یہ کس عہد اور کس جگہ کی کہانیاں ہیں؛ ضیاء دور کا عہد، بھٹو کو پھانسی لگنے کا زمانہ وغیرہ۔ اس طرح باوی کا دماغی امراض کا وارڈ اور چولستان میں پنجابی افسر رانا کمال کی تعیناتی جو 'ابنارمل' ہے اور اس بدبخت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ کتاب کا نام اسی کردار پر ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاشو جب کسی کہانی کا آغاز کرتے ہیں تو اس کے آغاز یا اس کے نام سے کہانی کے اختتام کا پتہ نہیں چلتا۔ بعض کہانیاں کہانی در کہانی بل کھاتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں، جیسے شیش نانگ وغیرہ۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاشو کی شاعری کی طرح ان کی کہانیاں بھی اپنی انفرادیت کی حامل ہیں۔ ان کا خیال، لغت، املا سب کچھ اشو کے اپنے مزاج اور فکر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eاسلم رسول پوری\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169562083425,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_34.jpg?v=1790425701"}],"url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/collections\/mudassar-bashir.oembed","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}