{"title":"Nazir Laghari","description":null,"products":[{"product_id":"ایران-اور-انقلاب-nazir-lghari-نذیر-لغاری-iran-aur-inqalab","title":"ایران اور انقلاب | نذیر لغاری | ایران اور انقلاب","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eخانہ فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید طالبی نیا گزشتہ دو سالوں سے کراچی میں تعینات ہیں۔ وہ بڑی خلوص، لگن اور محنت سے نہ صرف دونوں ممالک کے ثقافتی بلکہ معاشی اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے 9 جولائی تا 16 جولائی 2023ء کو دورۂ ایران کیلئے ایک چار رکنی وفد تشکیل دیا جس میں پاکستان کے نامور صحافی، محقق اور ادیب نذیر لغاری، نامور اینکر مذہبی پروگرام اویس ربانی، خانہ فرہنگ کے اردو اور فارسی مترجم زین نقوی اور یہ بندہ ناچیز شامل تھا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eمحترم نذیر لغاری کا میں ہمیشہ سے مداح رہا ہوں۔ ان کے ساتھ سفر کرنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ ایران میں سات دنوں کے دوران ہم نے تہران اور اصفہان کے لگ بھگ 27 اہم مقامات کا دورہ کیا۔ اصفہان سے واپسی پر ہمیں روضہ معصومہ قم، حضرت بی بی فاطمہ بنت امام موسیٰ کاظم کی زیارت کا مختصر موقع ملا۔ اس کے بعد امام خمینی ایئرپورٹ تہران سے ہماری واپسی کی فلائٹ تھی۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eاس مختصر سے سفر کی نذیر لغاری صاحب نے 56 دلچسپ اور معلوماتی اقساط تحریر کیں۔ ان کی تحریر نے مجھے حیران کر دیا۔ جس باریک بینی اور فصاحت سے انہوں نے سفرنامہ قلمبند کیا، مجھے بہت سی باتوں کا ادراک ان کی تحریروں سے ہوا کہ ہاں، یہ بھی تو دیکھا تھا۔ اس سفر کے دوران آشکار ہوا کہ نذیر لغاری نہ صرف صاحبِ طرز صحافی ہیں بلکہ نہایت حساس، اعلیٰ ظرف اور بہت خیال رکھنے والے اور تعاون کرنے والے انسان بھی ہیں، جن میں انسانیت اور خلوص کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ اس سفر کے دوران ہم نے ایک بہت مختلف اور ترقی یافتہ ایران دیکھا، بالخصوص آزادی نسواں کا مشاہدہ کیا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایرانی ترقی دیکھی، ڈیفنس ٹیکنالوجی میں میزائل اور جدید اسلحہ کے ایرانی تیار کردہ شاہکار دیکھے۔ ایک ماڈرن اور جدید ایران دیکھا، جس نے 43 سال کی عالمی پابندیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت میں دنیا کی 18ویں بڑی معیشت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ نذیر لغاری کے اس سفرنامے میں آپ کو ان سب باتوں کا علم ہو جائے گا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eمنظر نقوی\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eایڈیٹر ان چیف، فنانشل ڈیلی، کراچی\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 9.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169533083745,"sku":null,"price":750.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/safarnama_Iran_1_8d5db43b-298a-45cf-8331-79cecfe97607.jpg?v=1790425471"},{"product_id":"بھوئیں-کوں-کون-وسارے-نذیر-لغاری","title":"بھوئیں کوں کون وسارے | نذیر لغاری | Nazir Laghari","description":"\u003cp\u003eبھوئیں کوں کون وسارے  | نذیر لغاری\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169541800033,"sku":null,"price":500.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_82.jpg?v=1790425519"},{"product_id":"وساخ-wisakh-nazir-laghari","title":"وساخ | وساخ | نذیر لغاری","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنف: نذیر لغاری\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eصدی کا عظیم ناول 'وساخ'\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eسرائیکی دیس کے کسی علاقے سے نہ شائع ہوا اور نہ ہی کہیں دستیاب ہے، سوشل میڈیا پر چرچا تھا، 'وساخ' آ گیا ہے، اشتیاق بہت تھا، جاوید عنبر کا شکریہ کہ انہوں نے 'وساخ' تک رسائی دی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک چاول پوری دیگ کا ذائقہ بتا دیتا ہے۔ میں نے بھی 25، 30 صفحات دیکھے تو دل باغ باغ ہو گیا۔ میری تو اللہ نے مراد پوری کر دی، حسرت تھی کہ میری زندگی میں ایک ایسی کتاب آئے جس میں سرائیکی کے آغاز سے انجام تک کی بات ہو۔ 'وساخ' کے آنے سے میرا خواب پورا ہوا، یہ صدی کا سب سے بڑا ناول ہے۔ یہ وہ کتاب ہے اگر آدھی صدی پہلے آتی تو ہمیں اپنے دیس کے بہت سے معاملات کی سمجھ آ گئی ہوتی۔ میں نے 'وساخ' کو صدی کا بڑا ناول کہا ہے، میری بات صرف سرائیکی کی نہیں بلکہ تمام زبانوں کی ہے۔ یہ خوشامد والی بات بھی نہیں کیونکہ میں نذیر لغاری کو اچھا نہیں سمجھتا، اب وہ مجھے بھی اچھا نہیں لگتا۔ سیاسی اختلاف بھی ہے کہ اس کے دل کے اندر کوئی اور بستا ہے اور میرے دل میں سرائیکی کے سوا کوئی نہیں ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eیہ تو آپس کی باتیں ہیں جو ہوتی رہیں گی، ہم 'وساخ' کی بات کریں، 'وساخ' سرائیکی کا ایک ایسا نصاب ہے جس میں تاریخ، فلسفہ، تصوف، شاعری، موسیقی، سب کچھ ہے۔ ہر تحریر کا ایک دائرہ ہوتا ہے، دائرہ ایک 'وساخ'، ایک بستی، ایک وسیب، ایک ملک بھی ہو سکتا ہے اور سارا جہاں بھی ہو سکتا ہے۔ 'وساخ' میں سارا جہاں آ جاتا ہے۔ کتاب میں وقت اور زمانے کی بات بھی ہوتی ہے، سال چھ مہینے کا قصہ ہوتا ہے، صدی دو صدی کی بات ہوتی ہے اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں ازل سے لے کر اب تک اور آگے آنے والے وقت کی جھلکیاں بھی ہوتی ہیں۔ 'وساخ' ایک ابدی ناول ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eپہلا صفحہ دیکھیں تو بہادر شاہ ظفر کے دور کی بات ہے، اور تارا بائی کے ٹھاٹھ بھیروی کی بات ہے۔ پہلے لفظ ’’چھن چھن چھن چھنن چھن چھنن چھن‘‘ ہیں۔ ناول میں ایک فلسفی کی بات کو آگے بڑھایا گیا ہے، پروفیسر اختر خان بتاتے ہیں انسان کیا ہے؟ انسان کا وطن کیا ہے؟ اس کی جنم بھومی کیا ہے؟ ریاستی ایجنٹ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں کہ یہ شخص وطن پرستی اور زبان و زمین کی بات کر کے تعصب پھیلا رہا ہے۔ یہ ملک اور مذہب کا دشمن ہے۔ درحقیقت 'وساخ' کی بات پروفیسر اختر کی زبان میں نذیر لغاری کی بات ہے۔ لغاری صاحب آپ کو پیشگی مبارک ہو، پروفیسر اختر والے فتوے آپ پر بھی آئیں گے۔ 'وساخ' میں رنجیت سنگھ کی بات بھی آئی ہے جو کہ بالکل ان پڑھ، انتہائی ظالم، دنیا کا سفاک انسان تھا جس نے 20 شادیاں کر رکھی تھیں۔ 'وساخ' میں احمد خان کھرل کی بات کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ملکہ برطانیہ 1837ء سے 1857ء یعنی 20 سال کے عرصے تک اس قدر پریشان نہیں ہوئی تھی جتنی وہ نیلی بار، ساندل بار، گنجی بار میں 70 سال احمد خان کھرل کی دلیری، بہادری، بے خوفی اور اس کی حریت پسندی سے پریشان رہی تھی۔ 'وساخ' میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جب انگریزوں نے دہلی فتح کی تو لاہور، سیالکوٹ، جالندھر اور ہوشیار پور بہت خوش تھے۔ سرائیکی دیس کا گوگیرہ انگریز سے لڑ رہا تھا۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eپیر اور پیرانیاں، جاگیردار اور جاگیردارنیاں ہر دور میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں، آج بھی ہیں، 'وساخ' میں شرمین جاگیردارنی اور سلطانہ پیرانی کا ذکر بھی ہے۔ جاگیرداروں کی شاہی میں ایک غریب جب کچا مکان بنانے کے لیے اینٹیں لاتا ہے، صرف اس کی اینٹیں ہی نہیں چوری کی جاتیں بلکہ بھٹہ بھی چھین لیا جاتا ہے۔ غریب جب تک زندہ رہتا ہے پکے مکان کے خیال سے بھی ڈرتا رہتا ہے۔ جاگیردارنی شرمین اپنی سہیلی سلطانہ سے جو کہ پیرانی ہوتی ہے، پوچھتی ہے کہ ڈہرکی کے پیر کا کیا حال ہے، ابھی بھی الٹا سوتے ہیں یا سیدھا سونا شروع کر دیا ہے؟\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمختصر یہ کہ یہ سارا احوال پڑھنے کے لائق ہے، اس میں ٹھگ پیر اور ظالم جاگیرداروں کے دوہرے معیار اور برے کردار کی ساری کہانی آ جاتی ہے۔ کتاب میں دولت کے پجاری پیر کا ذکر بھی ہے۔ پیر معشوق کی بیٹی جتنی بہت خوبصورت ہے وہ خود اتنا ہی بدصورت ہے، ہر جگہ بیٹی کو آگے کرتا تھا۔ رات کی کالی چادر اوڑھ کر ہر رات بیٹی کو بھیجتا تھا، آخر تھک کر بیٹی کہتی ہے ابا! اب بس کرو۔ تم نے دولت کے انبار لگا دیے ہیں، منوں کے حساب سے سونا اکٹھا کر لیا ہے، میں تھک گئی ہوں، پچھلی رات بھی جہاں بھیجا تھا وہ تم سے بیس سال بڑا تھا اور منہ کھولے پڑا تھا۔ 'وساخ' میں اس طرح کی باتوں کا ایک جہاں آباد ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e'وساخ' میں بہت سارے سرائیکی کے ٹھیٹھ الفاظ آئے ہیں جو اب فراموش ہوتے جا رہے تھے، 'وساخ' کی ایک لغت بھی بن سکتی ہے۔ اسلوب وہی سرائیکی اور دل پسند ہے، کتاب کے 525 صفحات ہیں اور ایک کم سو ابواب ہیں۔ ہر حصہ الگ ایک کہانی ہے۔ 'وساخ' مجھ جیسے کم پڑھے لکھے سے لے کر پی ایچ ڈی اسکالر تک سب کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اردو اور انگریزی کے ناولوں سے خیال لیے گئے ہیں، کچھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ناول کے معیار پر پوری نہیں اترتی کیونکہ اس میں ربط نہیں ہے، ایک خیال کی بجائے بہت سے خیالات، بہت سے نظریے اور بہت سی سوچیں آ گئی ہیں۔ میں اس بات کو نہیں مانتا کیونکہ یہ افسانہ نہیں ہے، افسانے میں ایک داستان ہوتی ہے اور ناول میں ایک جہاں ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کون لکھ رہا ہے؟ جیسے کنویں کا پانی صرف کیاریوں کی پیاس بجھاتا ہے، دریا اور سمندر کی بات الگ ہوتی ہے۔ لکھنے والے نذیر لغاری کو لوگ علم کا دریا اور میں سمندر کہتا ہوں۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eظہور دھریجہ\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169553563745,"sku":null,"price":600.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Wisaakh_fdede713-e009-4aca-b8d0-c53af39b6d35.jpg?v=1790425601"},{"product_id":"reflections-of-a-concerned-global-citizen","title":"صحرا کا رقص | Nazir Leghari","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eصحرا کا رقص | نذیر لغاری\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003e(عرب دنیا کی نامور شاعرات کا لازوال کلام)\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan\u003eنذیر لغاری\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169565229153,"sku":"9789695626573","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Nazir-1-scaled_3a0c4882-d1f3-4266-86a8-66cb31b3e577.jpg?v=1790425737"},{"product_id":"تاریخ-خطوط","title":"تاریخی خطوط | نظیر لغاری","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eHistorical Letters | Nazir Leghari\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eNazir Leghari\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\n\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ صرف فنکارانہ یا ادبی تخلیقی شاہکار نہیں، کوئی فلسفیانہ علمی مباحث نہیں بلکہ ان سب سے بڑھ کر تاریخ ساز انسانوں کی روحانی کیفیات کی سچی تصویریں ہیں۔ نذیر لغاری نے ہمیشہ کی طرح اپنے منفرد تخلیق کی تسکین کے لئے زمین زادوں کی روحانی کیفیات کو انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے جو محض ترجمے سے بڑھ کر کوئی شے ہے۔ سیاٹل کے ریڈ انڈین سردار کے روح کو سرشار کر دینے والے خط سے لے کر لیڈی ڈیانا کی دلی کیفیات کو بیان کرتے ہوئے یہ خطوط ہر باشعور قاری کے سامنے موجود دنیا کے جنم \u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003eکا قصہ بن جاتے ہیں۔ ریڈ انڈین سردار سیلتھ، والٹیئر، نیپولین، ہٹلر، سگمنڈ فرائڈ، چی گویرا، فیدل کاسترو، ایمینویل کانٹ، جینی مارکس، ماؤ زے تنگ، چو این لائی، ہو چی منہ، بھگت سنگھ، ایمیل زولا، لیڈی ڈیانا، مارلن منرو، جیکولین کینیڈی، جان ایڈمز، ابراہم لنکن جیسے کئی باکمال لوگ نذیر لغاری کے تراجم کے ذریعے ہمارے سامنے اپنے اپنے دل کی باتیں کرتے ہیں۔ ان خطوط کا انتخاب محض اتفاقیہ نہیں ہے بلکہ یہ کسی حد تک نذیر لغاری جیسے زمین زاد کے اپنے ذہنی سفر اور روحانی وارداتوں کا سراغ بھی دیتے ہیں۔ پاکستان کے چند گنے چنے باشعور، باذوق اور باعمل صحافیوں میں سے ایک، نذیر لغاری نے زندگی خود اپنے ہاتھوں سے کشید کی اور ہر ہر قطرہ کی تلخیوں کے سرور میں سب زمین زادوں کو شامل کرنے کے لیے \"سینے جھوکاں دیدیں ڈیرے\"، 'عرضِ حال'، 'تاریخ بولتی ہے'، 'سیاست داروں'، 'صحرا کا رقص' اور 'تاریخ ساز لوگ' جیسی کتابیں لکھیں۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eیہ کتاب مجھے ایسے کئی خواب دیکھنے والوں کی زندگی سے معمور تعبیرات عطا کرتی ہے۔ یہاں زمین بیچنے کے لیے نہیں ہے بلکہ آسمان، بارش، ہوا، پہاڑ، ندی، صحرا، جنگل کے ساتھ اور اس میں بسنے والے ہر ذی روح کے ساتھ، اور اس میں بسنے والے زمین زادوں کے ساتھ سانس لیتی ہے۔ ان تراجم میں نذیر لغاری کی اپنی روح اور اپنی زمین کی خوشبو بھی ہے۔۔۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eجاوید چانڈیو۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169565524065,"sku":"9789695627051-1","price":780.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Nazir-2--scaled_886eefbc-6236-4b78-88c8-c1342fe61eb0.jpg?v=1790425740"},{"product_id":"تاریخ-ساز-لوگ","title":"تاریخ ساز لوگ | نذیر لغاری","description":"\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتاریخ ساز لوگ (انٹرویوز)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمصنف | نذیر لغاری\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eصفحات: 456 ( بڑا سائز)\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e’تاریخ ساز لوگ‘\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eریویو: لیاقت علی ایڈووکیٹ\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنذیر لغاری گذشتہ چار دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔’ تاریخ ساز لوگ‘ ان انٹرویوز پر مشتمل ہے جو انھوں نے تیس سال قبل سیاست دانوں اور ماہرین قانون سے لئے تھے اور یہ سب ماہنامہ ’اخبار جہاں‘ میں چھپے تھے۔ اس کتاب میں دو سیاست دانوں ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں ان کے دو تاثراتی مضامین شامل ہیں جو ان دونوں سے نذیر لغاری کی ملاقاتوں اور گفتگو پر مشتمل ہیں جب کہ 43 سیاست دانوں سے انھوں نے براہ راست انٹرویوز لیے تھے۔ خان عبدالولی خان سے شاہ محمد امروٹی تک 41 انٹرویوز 1986 اور 1987 کے درمیان لئے گئے تھے جب کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا دوسرا انٹرویو 1990 اور میاں محمد نواز شریف کا انٹرویو 2005 میں لیا گیا تھا۔ جن 45 سیاست دانوں کے انٹرویوز اس مجموعہ میں شامل ہیں ان میں سے 12 سیاست دان اور 2 ماہرین قانون بقید حیات ہیں جب کہ 32 شخصیات اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔ ’تاریخ ساز لوگ‘ میں شامل دو کے سوا باقی تمام انٹرویوز جنرل ضیاء الحق کے عہد ستم میں لئے گئے اور اسی دور میں شایع ہوئے تھے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eنذیر لغاری بھٹو سے متاثر ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان کی سیاست میں عوام کا ڈکشن ذوالفقار علی بھٹو نے رائج کیا تھا، اُن کی گفتگو میں دریائے سندھ کا بہاؤ تھا‘۔ وہ بھٹو کی شخصیت اور طرزِ سیاست کے مداح ہیں۔ محمد حنیف رامے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی رہے۔ جب بھٹو حکومت کا ہر طرف طوطی بول رہا تھا عین اس وقت حنیف رامے پیپلز پارٹی سے علیحدہ ہوکر پیر پگاڑا کی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔ انھوں نے مساوات پارٹی بھی بنائی تھی۔ پنجاب کی تاریخ کے حوالے سے انھوں نے ’پنجاب کا مقدمہ‘ کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’میں مارکسسٹ نہیں ہوں، میں نے دوسرے معاشرتی علوم کی طرح مارکس ازم کا فلسفہ پڑھا ہے لیکن میں اپنے لئے روشنی کا منبع قرآنِ عظیم کو سمجھتا ہوں‘۔ ان کے نزدیک ’جب تک پنجاب اپنے حقوق کی خاطر آواز نہیں اٹھاتا اور انھیں حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اسے چھوٹے صوبوں کے حقوق کا احساس نہیں ہوگا۔ جب تک پنجابی زبان، پنجابی ثقافت اور پنجابی عوام کے حقوق کی بات نہیں ہوگی اس وقت تک دوسرے صوبوں سے ابھرنے والی اس قسم کی آواز کو پنجاب والے پاکستانی ثقافت، اردو زبان، اور پاکستان کے خلاف تصور کریں گے‘۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eعبدالحفیظ پیرزادہ کا شمار پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ وہ بھٹو کابینہ میں وزیر تعلیم اور اطلاعات و نشریات کے وزیر رہے تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ سے وزارتِ اطلاعات لے کر بھٹو نے مولانا کوثر نیازی کو دی تھی جو نذیر لغاری کے نزدیک بھٹو کی ’ہمالیائی غلطی‘ تھی کیونکہ وزارتِ اطلاعات کے ذریعے مولانا نے جو ’پاکستان کا بیانیہ تشکیل دیا وہ پاکستان کے تاریخی تقاضوں کے بالکل برعکس تھا‘۔ نذیر لغاری عبدالحفیظ پیرزادہ سے انٹرویو کے تعارف میں کہتے ہیں کہ ’میں اس تکلیف دہ حقیقت کا انکشاف اور اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے بھٹو کے عدالتی قتل کے پسِ پشت بہت سے دوسرے کرداروں کی طرح عبدالحفیظ پیرزادہ کا کردار بھی نظر آتا ہے‘۔ نذیر لغاری کہتے ہیں کہ بھٹو کی سزائے موت کے خلاف کراچی کے وکیل شفیع محمدی نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی وساطت سے شریعت کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی درخواست کی تھی۔ عدالت نے یہ درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی تھی لیکن دوسرے روز عبدالحفیظ پیرزادہ نے عدالت میں پیش ہوکر یہ درخواست واپس لینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے شفیع محمدی کی پٹیشن خارج کردی تھی۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eائیر مارشل (ر) اصغر خان اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا تھا تو پاکستان قومی اتحاد کی پوری قیادت کو ’حفاظتی تحویل‘ میں لے لیا گیا تھا لیکن جماعتِ اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد اور مسلم لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا کو مارشل لا حکام نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ اس ایک واقعہ سے ان کے فوج کے ساتھ قریبی تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مشیر پیش امام کا شمار ائیر مارشل اصغر خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ وہ تحریکِ استقلال کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ اپنے انٹرویو میں ائیر مارشل اصغر خان کے بارے میں کہتے ہیں ’تعمیری سیاست کرنا ائیر مارشل (ر) اصغر خان کے مزاج میں ہی شامل نہیں ہے۔ ان میں کسی کے ساتھ چلنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ وہ جب بھی کسی چیز کو بنتا دیکھتے ہیں اس سے الگ ہونے میں وہ پہل کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ الگ سے اپنا کام کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست میں ایسے لوگوں کی بہت کم گنجائش ہوتی ہے جو دوسروں سے بات بھی نہ کرنا چاہتے ہوں‘۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمولانا فضل الرحمان کا شمار ایسے سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ ایوانِ اقتدار کے گرد و نواح میں موجود رہتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں ہوکر اقتدار کے مزے لوٹتے اور اقتدار میں رہ کر اپوزیشن کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ’اب پوری قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ قیامِ پاکستان کے وہ مقاصد ہی نہیں تھے جن کا قوم سے وعدہ کیا گیا تھا اور کہیں قیامِ پاکستان کے درپردہ مقاصد یہ تو نہیں تھے جن کی اب تکمیل کی جارہی ہے‘۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمیر غوث بخش بزنجو پاکستان میں قوم پرست سیاست کا اہم نام تھے۔ وہ سیاسی افہام و تفہیم سے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے پر یقین رکھتے تھے۔ بلوچستان کے مسائل پر ان کی نظر بہت گہری تھی۔ اپنے تیس سال قبل دیئے گئے انٹرویو میں انھوں نے بلوچستان کی سیاست کے بارے میں جو بات کہی تھی وہ آج حرف بہ حرف درست ثابت ہورہی ہے۔ کہتے ہیں ’بلوچستان میں پہلے مرکز گریزی کی حد تک اختلافات تھے لیکن اب بات مملکت گریزی کی طرف جارہی ہے۔ بات یہ ہے کہ نواب خیر بخش مری اور عطاء اللہ مینگل ہمارے حکمرانوں کے رویہ سے اس حد تک مایوس ہوگئے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ نہ اس ملک میں وفاقی وحدتوں اور قومیتوں کو حقوق ملیں گے اور نہ ہی جمہوریت آئے گی‘۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمعراج محمد خان پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کا اہم ترین حوالہ تھے۔ وہ پاکستان قومی اتحاد کی بھٹو مخالف تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جماعتِ اسلامی نے پی۔این۔اے کی تحریک کو فوج کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اسلام کے مقدس نام پر پورے ملک کو فرقوں میں بانٹ دیا گیا۔ یہ بات پی۔این۔اے کے مقاصد میں شامل نہیں تھی بلکہ پی۔این۔اے کی آڑ میں کھل کھیلنے والوں کے مقاصد میں شامل تھی۔ پی۔این۔اے کی تحریک میں قربانیاں دینے والے برے نہیں تھے لیکن مفاد پرستوں نے عوام کے خون کا سودا کیا‘۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eکے۔ایچ۔ خورشید قائدِ اعظم کے سیکرٹری تھے۔ کشمیری نژاد کے۔ایچ خورشید پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے 1959-1964 صدر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’1965 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جو کارروائی (ان کا اشارہ آپریشن جبرالٹر کی طرف تھا) ہوئی تھی اس کا کشمیر کی آزادی سے کم اور جنرل ایوب خان کو ناکام بنانا زیادہ تھا۔ اور پھر ایوب خان نے تسلیم کیا تھا کہ 1965 کی جنگ انھیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش تھی۔ 1965 میں جب حکومت نے ’مجاہدین‘ بھیجے تھے تو میں نے اس کی مخالفت کی تھی‘۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتیس سال قبل لئے گئے یہ انٹرویوز پڑھ کر افسوس ہوتا ہے کہ زمانے کی اس تیز حرکت میں سیاسی، سماجی، اقتصادی اور سائنسی ارتقا میں ہم نے کوئی ایک بھی اہم اور قابلِ ذکر قدم نہیں اٹھایا۔ ہماری ریاست کے طاقتور عناصر اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کو ایک طاقتور اور آمرانہ مرکزیت کے ذریعے متحد رکھا جاسکتا ہے۔ حکمران اشرافیہ کے ذہن میں یہ بے بنیاد تصور جاگزیں ہوچکا ہے کہ یہ ملک کانچ کا بنا ہوا ایسا گھر ہے جو ایک پتھر لگتے ہی دھڑام سے ٹوٹ کر زمین بوس ہوجائے گا۔ حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اس ملک کے عوام میں سیاسی شعور مفقود ہے اور سیاسی عمل سے وہ بے بہرہ ہے۔ ان کے نزدیک پاکستان کے عوام ایک جمہوری اور رضاکارانہ وفاق کے اندر رہنے کی صلاحیت اور اہلیت نہیں رکھتے، اس لیے ضروری ہے کہ عوام سے ان کی زبانیں، تاریخ و ثقافت، آزادانہ طرزِ فکر و عمل اور ان کی جمہوری خواہشات چھین لی جائیں تاکہ وہ آمریت کے زیرِ سایہ مجہول زندگی گذاریں اور ریاست پر قابض اشرافیہ کو کسی طور چیلنج نہ کریں۔ عوام کو بار بار باور کرایا جائے کہ وہ ہزار ہا برس سے غلام ہیں اور وہ نوآبادیاتی ریاستی اور سماجی ڈھانچے کے اندر ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ گذشتہ ستر سالوں میں اس ملک کے عوام کی سیاسی و سماجی ترقی اور اپنی تاریخ و ثقافت سے جڑنے کے عمل کی راہ میں بے پناہ رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ عوام کی ترقی و خوشحالی کی امنگوں کو کرپشن کی چکی میں پیس دیا گیا ہے اور دہشت گردی کے دیو نے ان کے حوصلوں کو پست کر دیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169569587297,"sku":"9789695622537-5-1-2","price":700.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Ahad-Saz-Logs-Copy-scaled.jpg?v=1790425784"},{"product_id":"walo-watnen","title":"ولووطنیں | Walowatanay | نذیر لغاری","description":"\u003cp\u003e\u003cspan\u003eشمالی اور جنوبی امریکہ کے درمیان بحیرہ کیریبین کے جزیرے مارٹنیک کی عظیم شخصیت، فرانز فینن کے استاد، سریلزم کے بانی اور 60 سال تک مارٹنیک کے میئر اور فرانس کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی رہنے والے سیاستدان، کمیونسٹ اسکالر اور عالمی شہرت یافتہ شاعر ایمی سیزر کی طویل نظم \"میڈی مادھرتی ول آون دی ہک نوٹ بک\" (اپنی سرزمین کی واپسی کی ایک ڈائری) کا میں نے \"ولووطنیں\" کے نام سے سرائیکی ترجمہ کیا ہے۔ اس نظم کا دیباچہ ہمارے دوست محبوب تابش نے لکھا ہے۔ دوست اس کتاب کا ٹائیٹل دیکھیں۔ بیک کور پر میرے فکشن ہاؤس سے شائع ہونے والی چار کتابوں کے ٹائیٹل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169584332897,"sku":"978969562958-1-2-2-3-1","price":225.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Walowatanay-Fiction-House-1687687722603_cfee6f55-696d-4f72-8335-d8f7690fd2a1.jpg?v=1790425910"}],"url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/collections\/nazir-laghari.oembed","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}