{"title":"Safdar Nawaid Zaidi","description":null,"products":[{"product_id":"zard-qaidi-زرد-قیدی-a-tale-of-radioactive-apocalypse-safdar-zaidi","title":"زرد قیدی: تابکاری قیامت کی ایک داستان، صفدر زیدی","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eمہا بھارت میں درونا چاریہ کے بیٹے اشوت تھاما نے نرائنا ستر (اساطیری ایٹم بم) استعمال کیا تو کرشن نے اسے شیطان بنا کر ابدی زندگی کا شراپ دیا تھا۔ اس کے بعد سے اشوت تھاما زندہ ہے اور اس کی شیطانیت بھی، جو ایٹم بم کی صورت برصغیر باسیوں کے سروں پر بالخصوص منڈلا رہی ہے۔ صفدر زیدی اس شیطانی منبع کو تلاش کرتے ان یورینیم کی کانوں تک قاری کو لے جاتے ہیں، جن کا زہر کان کنوں کے پھیپھڑوں میں دھول کی شکل میں، اور حساس ذہنوں میں خوف کی صورت اتر کر ہر دم ایک نئی قسم کا نرائنا ستر بنا رہا ہے۔ ایٹم بم والا برصغیر اشوت تھاما کے بھوت سے نجات پانے کے لیے شانتی منتر ڈھونڈ رہا ہے جس کا ایک سر صفدر زیدی نے بھاگ بھری کی صورت پھونکا اور دوسرا زرد قیدی کی شکل میں۔ یہ دونوں ناول اصل میں اس اجتماعی ظلم کے خلاف قلمی مزاحمت ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eجدید اشوت تھاما سے بچاؤ کا راستہ صرف جغرافیائی فرار میں ہی نہیں، بل کہ اس ظلم کی پہچان اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہے، خواہ وہ ظلم ریاستی سطح کا مقامی ہو یا ماحولیاتی تباہی کا عالمی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eصفدر زیدی کے یہاں ایٹم بم محض ایک ہتھیار نہیں بل کہ انسانی اجتماعی ضمیر کے زوال، اخلاقی تباہی اور کرہ ارض کی ماحولیاتی بربادی کی علامت ہے۔ انھوں نے یورینیم کی کانوں میں کام کرنے والے ان مزدوروں کے ذریعے زمین کے دُکھ اور انسان کے لالچ کی تہ تک اُترنے کی کوشش کی ہے جو موت کی آغوش میں اُترتے ہوئے بھی انسان کے تحفظ کا خواب دیکھتے ہیں۔ زرد قیدی کے یہ مزدور زمین کے فطری رزق کو زہر میں بدلنے والے اس نظام کے گواہ ہیں جو ترقی کے نام پر تباہی لکھ رہا ہے۔ یورینیم کی کانوں کے اندھیرے، مزدوروں کے پسینے اور ایٹمی توانائی کے مصنوعی نور کے درمیان صفدر زیدی نے ایک ایسا بیانیہ تخلیق کیا ہے جو بہ یک وقت تہذیبی نوحہ بھی ہے اور انسانی شعور کے تجدیدی امکان کا اشارہ بھی۔ اس ناول میں ایلیز کا ظہور محض تخیلاتی حربہ نہیں بل کہ زمین کے باسیوں پر ایک خارجی نظر ہے یا وہ تمثیلاً انسانیت کا اجتماعی ضمیر ہیں جو کرہ ارض پر ہونے والے ظلم پر حیران ہیں کہ انسان اور اس کا یہ گھر دونوں ایک دوسرے سے کیسے اجنبی ہو چکے ہیں۔ انسان جس ترقی پر نازاں ہے، وہ دراصل بربادی ہے، اور ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب خود انسان کے پاس نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eغلام اصغر خان\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169495859297,"sku":null,"price":850.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/WhatsAppImage2026-06-20at5.19.18PM_10.jpg?v=1790425317"},{"product_id":"گوادر-کے-کیکڑے-صفدر-نواز-زیدی-gwadar-kay-kaykaray-safar-nawaz-zaidi","title":"گوادر کے سرخ کیکڑے | صفدر زیدی | Gwadar Kay Kaykaray | Safdar Zaidi","description":"\u003cp\u003eگوادر کے سرخ کیکڑے | صفدر زیدی | Gwadar Kay Surkh Kaykaray | Safdar Zaidi\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cstrong\u003eISBN 9786273002286\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House ( New Arrival )","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169518108769,"sku":null,"price":250.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/GawadarKaykary.jpg?v=1790425414"},{"product_id":"bhagg-bhari-safdar-nawaid-zaidi-cheni-jo-mithi-na-thi-bint-e-dahir","title":"بھاگ بھری | صفدر نوید زیدی | چینی جو میٹھی نہ تھی | بنتِ ظاہر | صفدر زیدی","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eیہ بھاگ بھری ناول ہے ،\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسید صفدر زیدی ناول نگار ہے، ہمارا دُور کا دوست ہے، یعنی اُدھر ولایت کسی بلاد میں بستا ہے، گھونگھے اور کیکڑے کھاتا ہے، سبزیاں بھی پکا پکا کر دکھاتا ہے اور ہمیں ناول پڑھاتا ہے۔ مَیں یہ ناول پڑھ چکا ہوں اور قدم قدم پر دہشت گردوں، اُن کے بنانے والوں، خون میں لت پت ہونے والوں اور زندگی کو شرمانے والوں کو اِس ناول میں ایسے دیکھ چکا ہوں کہ دل کی آنکھیں روتی ہیں۔ مرنے والوں کی مائیں اور اُن کے لٹ جانے والے بچے اِس ناول کا وہ منظر ہیں کہ تماشا اُن کا کرنے سے دل پھٹ کے رہ جاتا ہے۔ زیدی صاحب نے ناول میں ریاستی اور ملٹری کشمکش اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک طویل اور گہری خلیج، جو رویوں سے لے کر ذہنوں تک میں اُتر چکی ہے، ایسے فطری سلیقے سے دکھائی ہے کہ ایک آرٹسٹ اِس سے زیادہ نہیں دکھا سکتا۔ بیانیہ انتہائی دلچسپ ہے، رواں ہے اور صاف ہے۔ افغانستان اور برصغیر، ملا اور ملٹری کے درمیان ایسا سینڈوچ نظر آتا ہے جس کے اندر صرف اور صرف بارود کی غذا رکھی گئی ہے اور وہ دونوں طرف کی عوام کو مجبوراً کھانا پڑتی ہے۔ مجھے صفدر زیدی صاحب سے زیادہ ملاقاتوں کا ربط نہیں، نہ مَیں نے کبھی اُن کے کیکڑے اور جھینگے اور گھونگھے کھائے ہیں۔ بس یہ ناول پڑھا ہے اور پڑھ کر ایسی بے بسی کی حالت میں بیٹھا ہوں جس میں اب گھونگھے تو ایک طرف کوئی نفیس شے کھانے کو بھی جی نہیں کر رہا۔ میرا تربوز بھی دو دن سے فریج میں پڑا رہا ہے، آج صبح زاہد کاظمی کے ساتھ مل کے تھوڑا زہر مار کیا ہے۔ میاں زیدی صاحب، بھلے لاکھوں ماؤں کی گودیں اُجڑ جائیں، سینکڑوں گھر ویران ہو جائیں، ہزاروں لہو کی نہریں بہہ جائیں مگر آپ کے جرنیلوں کے پالے ہوئے مُلا، خالد خراسانی اور معاویہ یہی کچھ کرتے رہیں گے، میرے بھائی آپ نے ناول نہیں لکھا آگہی کا نوحہ لکھا ہے۔ میری طرف سے آپ کو مبارک، مگر دیکھیے گا پاکستان اب نہ آئیے گا، اگر آئے تو دیکھ بھال کے، کہ مار بہت پڑتی ہے ایسی بے باکیاں دکھانے پر۔\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eعلی اکبر ناطق\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e“\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eبنتِ داہر” کیوں پڑھیں؟\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eصفدر نوید زیدی کا ناول “بنتِ داہر” آج پڑھنا شروع کیا اور ابھی مکمل ہوا۔ یہ ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کی طرح کا ایک مقصدی ناول ہے جو بیک وقت تاریخی اور سماجی دستاویز ہے۔ یہ دستاویز ایک طرف ایک تاریخی روایت کو آج سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے تو دوسری طرف بہت سی انسانی جبلتوں کو آشکار کرتی ہے۔ اِس تاریخی روایت کی ڈی کنسٹرکشن اِس لیے ضروری ہے کہ اِس پر لگی مذہب اور سماجیات کی بہت سی\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Toppings \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eاِس کے جوہرِ اصلی کو خراب کر چکی ہیں اور سندھ کی روایتی رنگارنگی اب صرف میڈیا اور میلوں ٹھیلوں تک باقی رہ گئی ہے۔ تاریخی روایت کی ڈی کنسٹرکشن کا یہ کام دل لگا کر کیا گیا ہے جو یقیناً اِس ناول کا بنیادی مقصد ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e“\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eبنتِ داہر” کا پلاٹ جامد نہیں ہے۔ مکالمے اِس ناول کی جان ہیں جن میں پرانی رسومات کا ذکر اور جدید روحِ عصر دونوں موجود ہیں۔ مقصدی ناول ہونے کی وجہ سے مکالمے اپنی اپنی جگہ خوبصورت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Patchwork \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eہیں جن کی مستقل نامیاتی حیثیت بھی ہے، چنانچہ اِنھیں شارٹ فلم کی صورت میں کامیابی سے چلایا جا سکے گا اور تحریروں میں اقتباس بھی کیا جاتا رہے گا۔ سارے ناول اور مکالموں کی لفظیات حیران کن حد تک تازہ اور چست ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eناول میں مناظر کے چناؤ سے مصنف کے مقصد، منظر نگاری سے کرافٹ اور جزئیات نگاری سے ذوق کا پتہ ملتا ہے۔ \"بنتِ داہر\" میں یہ تینوں چیزیں بالکل سامنے رکھی ہیں۔ خلیفہ عبدالملک کی درباری مصروفیات اور بداخلاقیاں، محلاتی سازشیں، خلیفہ کے نظم و نسق اور فہم و فراست پہ تبصرے، بازاروں میں لونڈیوں کے کاروبار کی لونڈہار مچنا، محمد بن قاسم کا عبرت ناک انجام، وغیرہ، جیسے واقعاتی مناظر اِس ناول کا غالب حصہ ہیں۔ منظر نگاری میں عورتوں کا اپنے جسم کے اعضا کی ثنا بیان کرنا اور لبھانا نہایت زور شور سے ملتا ہے۔ رہی جزئیات نگاری، تو ناول میں سیکس کے بے باک منظر بھی موجود ہیں۔ یہ تسلیم کہ قارئین کے ذوق اور پسند کے پیشِ نظر ایسا مواد دلچسپی کے لیے شامل کیا جانا ضروری ہوتا ہے لیکن یہاں تڑکہ ذرا زیادہ ہو گیا ہے۔ ناول کے لفظیاتی اسلحے کے معائنے سے یہ تاثر بنتا ہے کہ خلیفے کا دربار، اُس کی فوجیں و کارندے، اور بالفاظِ دیگر ساری دنیائے اسلام، یہی کچھ کر رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ یکرخی تصویر اور انصاف سے بعید بات ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eمقصدی ناول کی اہم ترین خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اُس میں تصویر کا دوسرا رخ دکھانا ضروری ہی نہیں ہوتا۔ عام سمجھ کی بات ہے کہ جب ریاستوں کا حجم بڑھتا ہے تو اُن کو وسائل کی قلت کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں جنگ کا مقصد لوٹ مار نہیں بلکہ اپنی تجارت کو محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ اُس وقت کی عرب ریاست کو یہی مسئلہ درپیش تھا۔ چنانچہ جاننا چاہیے کہ سندھ پر عربوں کے حملے کے تناظر میں محمد بن قاسم تو محض بیانیے کا مجاہد تھا۔ اصل قصور اُس کا نہیں اُس کے بھیجنے والوں کا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسنجیدہ تحفظات کے ضمن میں صرف ایک چیز لکھتا ہوں۔ “بنتِ داہر” میں ٹی ایس ایلیٹ کے ذکر کردہ “تاریخی شعور” کے بروئے کار آنے میں واضح کمی محسوس ہوتی ہے۔ داہر ڈائناسٹی کی تاریخی روایت اُس وقت کی ہے جب اسلام کی سیاسی قوت سنی اور شیعہ میں تقسیم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی شیعہ روایت کا سیاسی نام و نشان بھی نہیں تھا۔ مصنف کے تاریخی شعور کی اِس افسوسناک کمی نے تاریخی روایت کو شیعہ مذہبی روایت بنانے کی اِس تصویر میں دھندل سی ڈال دی ہے۔ امید ہے کہ اِس ضروری پہلو کی طرف توجہ کی جا سکے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eحافظ صفوان محمد\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cstrong\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eفروری 2023ء\u003c\/span\u003e\u003c\/strong\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169519681633,"sku":null,"price":4000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/bhagBhariset_cd27cbc8-2ae3-455e-abe7-084fcc98fbdd.jpg?v=1790425419"},{"product_id":"بھاگ-بھری-سید-صفدر-زیدی-safdar-nawaid-zaidi-bhagg-bhari","title":"بھاگ بھری | صفدر زیدی | صفدر نوید زیدی | بھاگ بھری","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eیہ بھاگ بھری ناول ہے ،\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسید صفدر زیدی ناول نگار ہیں، ہمارے دُور کے دوست ہیں، یعنی ادھر ولایت کے کسی ملک میں بستے ہیں، گھونگھے اور کیکڑے کھاتے ہیں، سبزیاں بھی پکا پکا کر دکھاتے ہیں اور ہمیں ناول پڑھاتے ہیں۔ مَیں یہ ناول پڑھ چکا ہوں۔ اور قدم قدم پر دہشت گردوں، اُن کے بنانے والوں، خون میں لت پت ہونے والوں اور زندگی کو شرمانے والوں کو اِس ناول میں ایسے دیکھ چکا ہوں کہ دل کی آنکھیں روتی ہیں۔ مرنے والوں کی مائیں اور اُن کے لٹ جانے والے بچے اِس ناول کا وہ منظر ہیں کہ تماشا اُن کا کرنے سے دل پھٹ کے رہ جاتا ہے۔ زیدی صاحب نے ناول میں ریاستی اور ملٹری کشمکش اور اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایک طویل اور گہری خلیج، جو رویوں سے لے کر ذہنوں تک اُتر چکی ہے، ایسے فطری سلیقے سے دکھائی ہے کہ ایک آرٹسٹ اِس سے زیادہ نہیں دکھا سکتا۔ بیانیہ انتہائی دلچسپ ہے، رواں ہے اور صاف ہے۔ افغانستان اور برصغیر، ملا اور ملٹری کے درمیان ایسا سینڈوچ نظر آتا ہے جس کے اندر صرف اور صرف بارود کی غذا رکھی گئی ہے اور وہ دونوں طرف کی عوام کو مجبوراً کھانا پڑتی ہے۔ مجھے صفدر زیدی صاحب سے زیادہ ملاقاتوں کا واسطہ نہیں، نہ مَیں نے کبھی اُن کے کیکڑے اور جھینگے اور گھونگھے کھائے ہیں۔ بس یہ ناول پڑھا ہے اور پڑھ کر ایسی بے بسی کی حالت میں بیٹھا ہوں جس میں اب گھونگھے تو ایک طرف، کوئی نفیس شے کھانے کو بھی جی نہیں کر رہا۔ میرا تربوز بھی دو دن سے فریج میں پڑا رہا ہے، آج صبح زاہد کاظمی کے ساتھ مل کے تھوڑا زہر مار کیا ہے۔ میاں زیدی صاحب، بھلے لاکھوں ماؤں کی گودیں اُجڑ جائیں، سینکڑوں گھر ویران ہو جائیں، ہزاروں لہو کی نہریں بہہ جائیں مگر آپ کے جرنیلوں کے پالے ہوئے ملا، خالد خراسانی اور معاویہ یہی کچھ کرتے رہیں گے، میرے بھائی آپ نے ناول نہیں لکھا، آگہی کا نوحہ لکھا ہے۔ میری آپ کو مبارک، مگر دیکھیو پاکستان اب نہ آئیے گا، اگر آئیے گا تو دیکھ بھال کے، کہ مار بہت پڑتی ہے ایسی بے باکیاں دکھانے پر۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eعلی اکبر ناطق\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: left;\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eISBN 9786273001869\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169528365153,"sku":null,"price":825.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_79_c8b4f1ca-0f83-4ee4-bf1f-237d2dac7ac7.jpg?v=1790425448"},{"product_id":"چینی-جو-میٹھی-نہ-تھی-safdar-nawaid-zaidi-cheni-jo-mithi-na-thi","title":"چینی جو میٹھی نہ تھی | Safdar Nawaid Zaidi | Cheni Jo Mithi Na Thi | صفدر نوید زیدی","description":"\u003cp\u003eچینی جو میٹھی نہ تھی  | صفدر نوید زیدی | چینی جو میٹھی نہ تھی\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eISBN 9786273001883\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169528528993,"sku":null,"price":660.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/chin_jo_methi_naa_thiii_3436f039-0597-49d0-9a52-b491790a0f53.jpg?v=1790425449"},{"product_id":"بنتِ-داہر-bint-e-dahir-safdar-nawaid-zaidi","title":"بنتِ داہر | Bint e Dahir | صفدر نوید زیدی | Safdar Nawaid Zaidi","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e“بنتِ داہر” کیوں پڑھیں؟\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eصفدر نوید زیدی کا ناول “بنتِ داہر” آج پڑھنا شروع کیا اور ابھی مکمل ہوا۔ یہ ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کی طرح کا ایک مقصدی ناول ہے جو بیک وقت تاریخی اور سماجی دستاویز ہے۔ یہ دستاویز ایک طرف ایک تاریخی روایت کو آج سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے تو دوسری طرف بہت سی انسانی جبلتوں کو آشکار کرتی ہے۔ اِس تاریخی روایت کی ڈی کنسٹرکشن اِس لیے ضروری ہے کہ اِس پر لگی مذہب اور سماجیات کی بہت سی اضافی تہیں (Toppings) اِس کے جوہرِ اصلی کو خراب کرچکی ہیں اور سندھ کی روایتی رنگارنگی اب صرف میڈیا اور میلوں ٹھیلوں تک باقی رہ گئی ہے۔ تاریخی روایت کی ڈی کنسٹرکشن کا یہ کام دل لگاکر کیا گیا ہے جو یقینًا اِس ناول کا بنیادی مقصد ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; mso-ascii-font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-hansi-font-family: 'Urdu Typesetting'; mso-bidi-font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e“\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eبنتِ داہر” کا پلاٹ جامد نہیں ہے۔ مکالمے اِس ناول کی جان ہیں جن میں پرانی رسومات کا ذکر اور جدید روحِ عصر دونوں موجود ہیں۔ مقصدی ناول ہونے کی وجہ سے مکالمے اپنی اپنی جگہ خوبصورت پیوند کاری (Patchwork) ہیں جن کی مستقل نامیاتی حیثیت بھی ہے، چنانچہ اِنھیں شارٹ فلم کی صورت میں کامیابی سے چلایا جاسکے گا اور تحریروں میں اقتباس بھی کیا جاتا رہے گا۔ سارے ناول اور مکالموں کی لفظیات حیران کن حد تک تازہ اور چست ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eناول میں مناظر کے چناؤ سے مصنف کے مقصد، منظر نگاری سے کرافٹ اور جزئیات نگاری سے ذوق کا پتہ ملتا ہے۔ \"بنتِ داہر\" میں یہ تینوں چیزیں بالکل سامنے رکھی ہیں۔ خلیفہ عبدالملک کی درباری مصروفیات اور بداخلاقیاں، محلاتی سازشیں، خلیفہ کے نظم و نسق اور فہم و فراست پہ تبصرے، بازاروں میں لونڈیوں کے کاروبار کی ہاہاکار، محمد بن قاسم کا عبرت ناک انجام، وغیرہ، جیسے واقعاتی مناظر اِس ناول کا غالب حصہ ہیں۔ منظر نگاری میں عورتوں کا اپنے جسم کے اعضا کی ثنا بیان کرنا اور لبھانا نہایت زور شور سے ملتا ہے۔ رہی جزئیات نگاری، تو ناول میں سیکس کے بے باک منظر بھی موجود ہیں۔ یہ تسلیم کہ قارئین کے ذوق اور پسند کے پیشِ نظر ایسا مواد دلچسپی کے لیے شامل کیا جانا ضروری ہوتا ہے لیکن یہاں تڑکہ ذرا زیادہ ہوگیا ہے۔ ناول کے لفظیاتی اسلحے کے معائنے سے یہ تاثر بنتا ہے کہ خلیفے کا دربار، اُس کی فوجیں و کارندے، اور بالفاظِ دیگر ساری دنیائے اسلام، یہی کچھ کر رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ یکرخی تصویر اور انصاف سے بعید بات ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eمقصدی ناول کی اہم ترین خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اُس میں تصویر کا دوسرا رخ دکھانا ضروری ہی نہیں ہوتا۔ عام سمجھ کی بات ہے کہ جب ریاستوں کا حجم بڑھتا ہے تو اُن کو وسائل کی قلت کا سامنا ہوتا ہے۔ ایسے میں جنگ کا مقصد لوٹ مار نہیں بلکہ اپنی تجارت کو محفوظ کرنا ہوتا ہے۔ اُس وقت کی عرب ریاست کو یہی مسئلہ درپیش تھا۔ چنانچہ جاننا چاہیے کہ سندھ پر عربوں کے حملے کے تناظر میں محمد بن قاسم تو محض بیانیے کا مجاہد تھا۔ اصل قصور اُس کا نہیں اُس کے بھیجنے والوں کا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eسنجیدہ تحفظات کے ضمن میں صرف ایک چیز لکھتا ہوں۔ “بنتِ داہر” میں ٹی ایس ایلیٹ کے ذکر کردہ “تاریخی شعور” کے بروئے کار آنے میں واضح کمی محسوس ہوتی ہے۔ داہر ڈائناسٹی کی تاریخی روایت اُس وقت کی ہے جب اسلام کی سیاسی قوت سنی اور شیعہ میں تقسیم نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی شیعہ روایت کا سیاسی نام و نشان بھی نہیں تھا۔ مصنف کے تاریخی شعور کی اِس افسوسناک کمی نے تاریخی روایت کو شیعہ مذہبی روایت بنانے کی اِس تصویر میں دھندل سی ڈال دی ہے۔ امید ہے کہ اِس ضروری پہلو کی طرف توجہ کی جاسکے گی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eحافظ صفوان محمد\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 18.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eفروری 2023ء\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan style=\"text-decoration: underline;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eISBN 9786273001876\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169528561761,"sku":null,"price":550.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/43.jpg?v=1790425449"}],"url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/collections\/safdar-nawaid-zaidi.oembed","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}