{"product_id":"آواز-عصر","title":"آواز عصر | ارشد محمود | آواز عصر ","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e\n\n\u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e ارشد محمود کی آواز عصر \u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e\n\n\u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e تحریر: لیاقت علی \u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eارشد محمو د پاکستان کے روشن خیال اور خرد افروزی کے داعی حلقوں میں کسی کے تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ مسلسل کئی پاکستان سے سیاسی، نظریاتی اور فکری مسائل کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ ان کے مسائل کے تناظر میں ایک سوچی سمجھی رائے ہے کہ وہ مدلل انداز میں بلا جھجک بیان کرتے ہیں۔ ان کی فکر ترجیحات اور ان کی اپروچ سے اختلاف تو ہو سکتا ہے لیکن جس کی وجہ سے وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور جس سے بہادری اور بیباکی اس کا اظہار کرتے ہیں۔\u003cspan\u003e\u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e کی تحسین نہ کرنا تنگ دلی کے سوا کچھ نہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eسماجی میڈیا پر وہ بہت متحرک۔ شائد کوئی دن ایسا ہو کہ ان کے بک پیج پر کوئی نئی تحریر موجود نہ ہو۔ وہ سماجی میڈیا کو نظریاتی اور سماجی تبدیلی کے لیے بہت اہم خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eچند سال پہلے تک سوشل میڈیا عوام کی ناچلیوں کی دسترس سے باہر تھا۔ ان دنوں عام الناس کو اپنے خیالات و نظریات سے روشناس کا ذریعہ کتاب ہی ہے۔ ارشد محمود نے اپنے خیالات اپنی کتابوں کی صورت میں عام لوگوں تک پہنچانے کا مشورہ دیا۔ آپ نے تین کتابیں لکھی ہیں جن میں پاکستان کی مذہبی، سماجی اور نظریاتی صورت حال کے مختلف پہلوؤں کا احترام کیا گیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eان کی پہلی کتاب ''خدا'' کا تصور تھا جس میں مختلف تاریخی ادوار میں ''تصور خدا'' کی ابتداء، نشوو نما اور ارتقا کا جائزہ لینے کا موقف ہے کہ ''خدا'' کا کوئی ساکت و جامد تصور نہیں ہے۔ مختلف ادوار اور مذاہب میں 'تصور خدا' مسلسل ترقی پذیر رہا ہے۔ ماضی بعید میں 'خدا' سے اور صفات کی جگہ جاتی زمانہ جدید میں ان کی طاقت بدل سکتی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eان کی کتاب ثقافتی عورتیں اور پاکستانی معاشرہ 'جس میں دوسری سماجی پسماندگی اور اس کے نتیجے میں ثقافتی موضوع کو موضوع بنایا گیا۔ ثقافتی بحثن کے نتیجے میں جو اخلاقی بگاڑ کی پیدائش لیتا ہے ارشد محمود نے اس کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ اپنی علیحدہ کتاب 'اور ہماری قومی الجھنیں' میں ہماری تعلیم کے نتیجے میں جو مائنڈ سیٹ پر بحث ہوئی ہے اس کواپنی کا موضوع بنایا گیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eہمارے نظام تعلیم کی بدولت جو مائینڈ سیٹ متشکل ہوا ہے خیال ہے، حسد، ہر خوف سے، محصورت اور خودساختہ برتری اس کی نمایاں خصوصیات۔ زیر نظر کتاب 'آواز عصر' ارشد کے متفرق مضامین کا مضمون محمود۔ مضامین میں شامل کچھ مضامین تو وہ ہیں جو گائے گا مختلف جرائد ورسائل میں چھپے ہوئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو مصنف نے اپنے فیس بک پر پوسٹ کیے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eہمارے ملک کے تعلیمی اداروں میں جو نصاب دیا جاتا ہے اس کو بدولت اذہان سے پڑھا جاتا ہے فکری مغالطے، مبالغے، جامد عقائد میں، بہت غلط بیانی سے آلودہ خیالات اپنے جما بیٹھے ہیں۔ ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کی بالعموم اور تعلیم یافتہ افراد کی بالخصوص سوچ، فکر کو ابہام اور فرضی قصے کہانیوں کے گورکھ دھندوں سے نجات دلائی۔ ارشد محمود کے یہ مضمون انہی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eمغربی تہذیب کے بارے میں ہمارے ہاں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ مغربی معاشرہ 'جنسی بے راہ روی کا شکار'۔ زنا اور قانونی تعلق کے بغیر بچوں کی پیش کش اور خود غرضی ہمارے سامنے۔ ارشد اس تصور کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'مغرب میں عورت کی عزت محفوظ ہے کسی محمود میں نہیں ہے جو خود کو پاکباز سمجھتا ہے۔ ہوٹلوں میں بسا اوقات اجنبی لوگوں کے ساتھ روم دیکھتے ہیں لیکن مجال ہے کہ کوئی زبردستی کر لے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eاس کے بر عکس ہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں۔ ہمارے ہاں زنا بالجبر روزمرہ کا معمول ہیں یہاں تک کہ نابالغ لڑکیاں بھی اس پر ظلم و زیادتی سے محفوظ نہیں ہیں۔ یہاں ہر سال غیرت کے نام پر قتل عام کو ان کے قریبی عزیز ہونے کا احساس ہے۔ اکیلی خاتون کے لیے سفر کرنا جانوں کا کام۔ شرافت، حیا اور پردے کے نام پر ہمارے نوجوان جنسی مریض بنے۔ لوگ (خوشحالی سے مغرب میں) گزار رہے ہیں کہ جب مشرق میں ارشد محمود کے بقول' لوگ عذاب کے طور پر گزار رہے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eایک ایسا مسئلہ ہے جس کی بدولت پاکستان اور بھارت کے کشمیر تین مکمل اور دو ادھ جنگی حالات ہیں۔ مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ اس آواز کے بارے میں بھی ارشد محمود کی سوچ اور عملی۔ وہ پاکستانی قوم پرستی کی وجہ سے اس بات کو درست تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا موقف ہے کہ کشمیر کو الانے میں زیادہ ہاتھ پاکستان کی اشرافیہ کا ہے۔ سیاسی اور حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو ہمیشہ طول دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔ کشمیر کے عوام کو اگر کبھی یہ موقع ملا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لیں تو ارشد محمود کا خیال ہے کہ وہ دونوں پاکستان اور بھارت کے ساتھ ہمارے ساتھ آزادانہ طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eارشد محمود آخر کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو کشمیر کے نام پر مفسر پرستوں نے یرغمال بنایا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اور بھارت باہم بات چیت کریں اور بتدریج تمام پاکستانی امور کو حل کر لیں۔ یہ کہنا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات حقیقت پسندانہ نہیں ہیں، غیر پسندانہ حکمت عملی۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eارشد محمود نے اپنے ایک مضمون 'ہماری ملکی اسلامی ایسٹیبلشمنٹ ہیروز' میں ان حملہ آوروں کی حقیقت بیان کی ہے کہ ہم آپ کے نوجوان کو غیر تسلیم شدہ ہیرو سمجھتی ہیں۔ ہمارے نصاب تعلیم کے صدقے جائیے جس کی بدولت ہم نے اپنے نوجوان نسل کو یہ باور کرایا کہ بیرونی حملہ آور جو حادثاتی طور پر مسلمان تھے ہمارے ہیرو۔ یہ اس تعلیمی نصاب کا پھل ہے کہ ہمارے انتظامی انتظامی ورانہ ہتھیاروں اور ہتھیاروں کو بیرونی حملہ آوروں کے ناموں سے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eہمارے نوجوان یہ ہیں کہ محمود غزنوی اسلام کا شیدائی اور مقابلہ تھا۔ اس نے جو سترہ ہندوستانی ہندوستانی تھے وہ 'اسلام کا پیغام لکھنے' کے لیے نہیں کہا کہ مار کی خواہش سے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے اسلامی مورخین نے غزنویوں کے قاتل اور ان کی حکومت کا تختہ الٹنے والا شہاب الدین غوری کو بھی مسلم اسلام قرار دے دیا۔ بیرونی حملہ آوروں کا کوئی دین ایمان نہیں تھا۔ ملا مار ہی ان کا مذہب اور قتل و غارتگری ان کا مشن تھا۔ ان کے راہنماء میں انتخاب والا خواہ مسلمان ہوتا ہے یا کوئی دوسرا مذہبی عقیدہ رکھنے والا اس کا قتل انتہائی سفاکی سے جواب دیتا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eمحمود غزنوی کا کہنا ہے کہ اسلام سے محبت کا خیال ہے کہ بغداد کا بھی حشر کرنا چاہتا تھا۔ اسے ستم ظریفی نے ہی کہا ہے کہ ہماری ایس ایس ٹی نے اپنے آپ کو کنٹرول کرنے والوں کو اپنا نام بنا لیا ہے اور ہم نے اپنے آپ کو طاقتوں کے نام پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہمارے عسکری اشتیاق کا ایک اور ہیرو احمد شاہ ابدالی نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ اس نے دلی کی اینٹ بجادی تھی اور اس سے قوم کو تہیغ کیا تھا۔ شاہت کو کیا اور ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی راہ ہموار کی تھی۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eارش محمود کے یہ مضامین غیر روایتی سوچ اور فکر کے حامل ہیں۔ یہ اپنی پڑھنا پڑھنا غورو فکر کی نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں جیسے دنیا جو عقل، معروض اور عمل پسندی سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ مضامین ان فکری الجھنوں کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ امید ہے یہ مضمون غورو فکر کے نئے در وا کرتے ہوئے جامد عقائد میں جکڑے ہمارے معاشرے میں فکری گشادگی کا سلسلہ جاری ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507303633172,"sku":"9789695622537-5-1-2-1-2","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/Awaz-e-Asar-Copy-scaled.jpg?v=1693300996","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b9%d8%b5%d8%b1","provider":"RohtasBooks","version":"1.0","type":"link"}