{"product_id":"استغاثہ-ناول-غافر-شہزاد","title":"استغاثہ | ناول | غفار شہزاد | Ghaffar Shahzad","description":"\u003cdiv style=\"text-align: right;\"\u003eاستغاثہ | ناول | غافر شہزاد\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eانسانی ضمیر پر بڑھتے بوج ھ اور سینوں کو نچوڑتے فشار سے کہانی اٹھانا غافر شہزاد ہی کا کمال ہو سکتا تھا۔ ہنر وری کی بے توقیری کا نوحہ لکھنا ایک کربِ بے کنار سے دوچار ہونا ہے۔ سرکاری دفاتر کی جو تصویر غافر نے کھینچی ہے وہ حقیقت سے اتنی قریب ہے کہ ہر سرکاری ملازم خود کو اس میں بغیر کسی کاوش کے شناخت کر سکتا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eدفاتر میں جاری سازشیں اور ریشہ دوانیاں جس سادگی سے بیان کی گئی ہیں وہ قابلِ ستائش ہیں۔ ہر انسان جہاں مادی وجود رکھتا ہے وہاں اس \u003ca tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003eکا ایک جمالیاتی وجود بھی ہے۔ مادی ترقی کی خواہش کوئی عیب نہیں اور ملازمت میں منصفانہ سلوک اور وقت پر ترقی پانا کوئی ایسی خواہش نہیں جس پر سزائیں دی جائیں اور ناروا سلوک کیا جائے۔ زندگی کا سارا وقت جس سرکاری پیشے پر لٹا دیا جاتا ہے اگر وہاں جائز مقام اور مرتبہ بھی نہ مل سکے تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہے۔ لیکن ایماندار اور فرض شناس سرکاری ملازمین کی جو درگت ہمارے موجودہ نظام میں بنائی جاتی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس نظام میں صرف زکوٹا جنوں کی ستائش کی جاتی ہے جو ہر جائز و ناجائز کام کی سرعت سے تکمیل کریں اور کبھی کسی کام سے انکار نہ کریں۔ خود بھی خوشحال رہیں اور بڑے صاحب کو بھی خوش کر دیں۔ ناول کا سب سے اہم کردار \"بڑے صاحب\" ہے جو ہر سرکاری ادارے میں موجود ہے۔ جو سرکاری طبقاتی تقسیم میں برہمن ہے اور اس کا ساتھ دینے والے زکوٹا جنوں کی فوج کھشتری ہے۔ سرکاری کنٹریکٹر ویش اور باقی سب شودر ہیں۔ شودروں کا کام صرف جھڑکیں کھانا اور کانپتے رہنا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eاستغاثہ دائر کرنے کی خواہش ہر شودر کے دل کی آواز ہے مگر خوف کا عفریت اسے کھا جاتا ہے۔ غافر کا استغاثہ کسی عدالت کے روبرو نہیں کیونکہ اتنی لمبی سماعت کی اجازت دنیاوی عدالت میں کسی شودر کو نہیں دی جاتی۔ ناول کا آخری حصہ پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ غافر سجدہ گاہیں اور زندہ عمارتیں بناتے بناتے ایک صوفی بن چکا ہے، اسے اب نہ ماضی سے کوئی گلہ رہا ہے نہ مستقبل سے کوئی امید۔ وہ خود سپردگی کی حالت میں ہے اور اب اسے کسی استغاثے یا کسی شنوائی کی حاجت نہیں رہی۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eکوئی دکھ ساتھ ہے نہ کوئی خوشی ہمنوا\u003cbr\u003eصرف راستہ ہے جو بڑھتا چلا جاتا ہے\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eمیں غافر کو اس کامیاب کاوش پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\" style=\"text-align: right;\"\u003eتجمل عباس کے قلم سے.......... بصد شکریہ\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169551663201,"sku":null,"price":330.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/nw_day_56_4a2dc1be-81d4-4331-97f6-a4f246b1dad8.jpg?v=1790425580","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ba%d8%a7%d8%ab%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%88%d9%84-%d8%ba%d8%a7%d9%81%d8%b1-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}