1
/
کا
1
سارا نامی ایک لڑکی تھی | امرتا پریتم
سارا نامی ایک لڑکی تھی | امرتا پریتم
عام قیمت
Rs.400.00 PKR
عام قیمت
Rs.400.00 PKR
فروخت کی قیمت
Rs.400.00 PKR
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
ایک تھی سارا | امرتا پریتم
سارا شگفتہ کا زندگی نامہ
سارا شگفتہ نے جتنی زندگی پائی، اس کی موت کے بعد اس سے کافی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن سوشل میڈیا پر اب بھی اس کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔ یہی نہیں، اس کے بارے میں متعدد ناول بھی شائع ہوچکے ہیں۔ ایک تو ابھی تازہ آیا ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اس کی عمدہ شاعری کا ذکر بہت کم ہوتا ہے، اس کی زندگی، شادیوں، شوہروں اور اسکینڈلز کو دہرایا جاتا ہے۔ یہ عام بات ہے کہ خواتین کی شاعری کو ان کی ڈائری سمجھ کر مطلب نکالے جاتے ہیں۔ سارا کی شاعری بھی اسی طرح پڑھی جاتی ہے لیکن وہ جتنی اچھی شاعرہ تھی، میں اسے اتنی ہی اچھی فکشن رائٹر بھی مانتا ہوں۔ اس نے اپنے جو دکھ لکھے ہیں، وہ بیشتر طبع زاد ہیں۔ مردہ بچہ، ہسپتال، سب افسانہ ہے۔ اس کے دو شاعر شوہر اتنے برے نہیں تھے۔ ان کی موجودہ بیویاں ان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہیں۔ احمد جاوید کا البتہ اس عمر میں آکر دوسرے لوگوں کی باتوں کے ردعمل میں اسے 'کال گرل' کہنا گھٹیا پن ہے۔ اتنے برسوں کی کوششوں سے بنایا ہوا امیج خود ہی تباہ کر دیا۔
سارا شگفتہ کے پس منظر اور خاندان کے بارے میں جو کچھ لکھا جاتا رہا ہے، وہ ظاہر ہے نقل در نقل ہے۔ ابھی ریختہ اور وکی پیڈیا پر یہی پڑھا کہ اس کا خاندان ان پڑھ اور غریب تھا۔ کئی جگہ پڑھا کہ والد کوچوان تھا۔
جب کہ معروف سینئر صحافی جبار مرزا صاحب Jabbar Mirza Rani نے بتایا کہ سارا کے والد حکیم نور حسین راجپوت، گوجرانوالہ کے اچھے خاصے طبیب تھے۔ سارا کی والدہ سے مرزا صاحب کی کم از کم تین ملاقاتیں ہوئیں۔ جن میں انہوں نے تاریخِ پاک و ہند، پاکستانی زبانوں اور دوسرے موضوعات پر بہت عمدہ گفتگو کی۔
مرزا صاحب نے بتایا کہ سارا کی سب سے بڑی بہن حمیدہ اسلام آباد میں ہوتی ہیں؛ 1968ء میں انڈونیشیا کے سفارت کار مسٹر حنان سے شادی ہوئی تھی، حنان سات آٹھ سال قبل نیویارک میں فوت ہوئے۔ حمیدہ کا شمار اسلام آباد کے معززین میں ہوتا ہے۔ سارا کی بیٹی اسی خالہ کی بہو ہے اور اپنے شوہر حنیف حنان کے ساتھ امریکہ میں رہتی ہے۔
سارا کے بڑے بھائی جمال محمد راجپوت سعودی عرب کے شہر ریاض میں کوئی تیس سال چیف الیکٹریکل انجینئر رہے، تین سال قبل وفات ہوئی اور اسلام آباد میں ہی مدفون ہیں۔ ایک بہن لاہور کے ایک تعلیمی ادارے کی پرنسپل ہیں۔
سارا کی بہن ساجدہ کی برقع پوش بیٹی حمیرا نے اسلام آباد کی خبروں میں رہنے والی ایک بڑی مسجد کے واقعات سے شہرت پائی۔
کوچوانوں کے بچے کم ہی اتنی ترقی کرتے ہیں۔
جہاں تک سارا شگفتہ کا تعلق ہے، وہ گھونسلے سے گرے ہوئے پرندے کی طرح کبھی سیٹل نہ ہو سکی۔ دماغی امراض کے شفا خانے میں زیرِ علاج رہی۔ وہ 'کیوٹ ڈپریشن' (acute depression) کی مریض تھی جس کی آخری اسٹیج خودکشی کا رجحان ہوتا ہے۔ خودکشی کی متعدد کوششوں کے بعد بالآخر وہ کامیاب ہو گئی۔
شیئر کریں

- 5 stars: 1 (50%)
- 4 stars: 0 (0%)
- 3 stars: 0 (0%)
- 2 stars: 0 (0%)
- 1 star: 1 (50%)
T
Tehmina Shah Wonderful
H
Huma Fatima ایک تھی سارا | امریا پریتم