{"product_id":"تاریخ-و-تہذیب","title":"تاریخ و تہذیب | تاریخ اور تہزیب","description":"\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e تاریخ و تہذیب\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e تعارف | لیاقت علی ایڈوکیٹ\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eقاضی کا شمار پاکستان کے اُن اہل علم میں ہوتا ہے۔ متعدد کتابیں لکھی اور ترجمہ کی۔ پاکستان میں فلسفے پر لکھنے والے بہت کم ہیں اور جو وہ زیادہ تر انگریزی بولتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے عام خیالات پڑھے لکھے فرد تک نہیں پہنچتے۔ قاضی جاوید نے اس موضوع کے برعکس فلسفے جیسے ادق کو اردو میں بیان کیا ہے جس کی وجہ وہ ہے۔ \u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003ca tabindex=\"-1\" data-mce-fragment=\"1\" data-mce-tabindex=\"-1\"\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e قارین کا ایک حلقہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ خود نوشت سوانح عمری، اس کے مضامین اور سارتر کی خود نوشت کو اردو میں ترجمے کرنے کے ساتھ یونانی فلسفہ کے اہم اورنامور شاعر سوانح خاکے لکھے ہیں جس میں ان کی زندگی کے ساتھ فلسفے کے اہم اور بنیادی مضامین ہیں۔ نکات کو بھی بیان کیا گیا۔ فلسف کے علاوہ قاضی جاوید نے شمالی ہند کے فکری تاریخ پر بھی خاص کام کیا ہے۔ 'ہندی مسلم' 'شاہ ولی اللہ کے افکار'، 'سرسید اقبال تک' اور 'پنجاب کے صوفی دانشور' کتابیں ان کی شمالی ہند کی فکری اور نظریاتی تحریکوں پر علمی و تحقیقی کام ہی نتیجہ ہے۔ دانشوروں اورادیبوں کے خاکے بھی لکھے ہیں۔ اپنے خاکوں میں اپنے ممدوح ادیبوں اور دانشوروں کی فکری کوششوں اور تلاش کو بیان کیا ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e'تاریخ و مہتمم' قاضی جاوید کے مقالات کا عنوان ہے جو مختلف اوقات میں لکھتا ہے۔ یہ مضمون تاریخ و ادب کے مختلف موضوعات اور پہلوؤں سے آپس میں تعلق ہے اور اسی موضوع سے کتاب کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ خیالی اور انسان دوست جو قاضی جاوید کی فکر کا بنیادی پتھر ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003e'ہندوستان میں رواداری کی تاریخ پر ایک نظر' قاضی جاوید نے ہندوستان میں رواداری، روشن خیالی اور فکری کشادگی کی تحریک اور محرکین کا تاریخی جائزہ لیا ہے۔ قاضی جاوید نے ہندوستان کے مختلف ممالک، مذہبوں، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے صوفیا، اور بھگوان کے پیغام کو تاریخی سیاق و سباق میں کیا کہا ہے۔ تحریک میں کم ہی حصہ لیا ہے۔ ا ن کی کوششوں کا محور اگر ہندو مسلم کو ابھارناور مزید گہرا کرنا تھا تو دوسری طرف فرقہ وارانہ تشدد پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ چشتی تعلقات سے تعلق رکھنے والے صوفیا اوربھگت کبیر، راما نج، گورونک بھگتی کے گیت گانے والے سنتوں اور شاعروں کو رواداری اور روشن خیالی کا پیامبر قرار دیتے ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eسرسید پر اپنے مضمون میں قاضی جاوید نے سرسید کی تعلیمی خدمات کے ساتھ روشن خیالی کی تحریک کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ وہ جہاں روشن خیالی اور خرد افروزی کے خطوط سے سرسید کی تحسین کرتے ہیں وہاں وہ داخلی پارلیمانی خدمات بھی کرتے ہیں۔ انہیں تعلیم دینے کے مخالف تھے اور تو وہ عورت کو دینا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ ترجمے کے بغیر قرآن مجید پڑھنے کے حق میں تھے کیونکہ وہ عورت کو قرآن پڑھنے کے حق میں بات کرتے تھے۔ کوئی\u003c\/div\u003e\n\n \u003cdiv data-mce-fragment=\"1\" style=\";text-align:right;direction:rtl\"\u003eمضمون کے اس مضمون کو پڑھنے میں سارتر کا شامل مضمون بہت جامع ہے اور قاری کو سارتر کی شخصیت اور فلسفے سے عام فہم زبان اور انداز میں متعار ف کراتا ہے۔ اس کے لیے قاضی صاحب نے مختصر طور پر اپنے اسفار، علمائے کرام اور دانشوروں کا احوال بھی لکھا ہے جن میں یہ مضامین پڑھے گئے تھے۔\u003c\/div\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":46507322573076,"sku":"9789695627051-6","price":350.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/products\/IMG_20190323_164442.png?v=1693301291","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d9%88-%d8%aa%db%81%d8%b0%db%8c%d8%a8","provider":"RohtasBooks","version":"1.0","type":"link"}