خودنوشت | مدر میری کمز ٹو می | آزاد عورت ،،، آزاد اڑان | اروندھتی رائے
خودنوشت | مدر میری کمز ٹو می | آزاد عورت ،،، آزاد اڑان | اروندھتی رائے
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
اروندھتی رائے کی خودنوشت
اروندھتی رائے عالمی ادب میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہیں کہ وہ اپنے تخلیقی دورِ آغاز سے ہی سیاسی اور سماجی موضوعات کو اپنی فکر ونظر کا محورومرکز بنا کر ادبی شہ پارہ کی صورت میں پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا پہلا ناول ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘ نہ صرف عالمی شہرت کا حامل بُکر پرائز حاصل کر سکا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے عالمی ادب میں ایک ’ہاٹ کیک‘ بن گیا۔ واضح ہو کہ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘‘ ۱۹۹۷ء میں شائع ہوا تھا، اس کے بعد ان کا دوسرا ناول ’’دی منسٹری آف آٹ موس ہیپّی نیس‘‘ ۲۰۱۷ء میں شائع ہوا اور اس کی بھی گونج عالمی ادب میں برسوں تک رہی۔ اب ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب، جسے خود نوشت کے زمرے میں بھی رکھا جا سکتا ہے، ’’مدر میری کمس ٹو می‘‘ ۲۰۲۵ء میں منظر عام پر آئی ہے اور اس سوانحی تحریر نے علمی و ادبی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ اگرچہ اس میں انہوں نے اپنی والدہ ’’میری رائے‘‘ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو فکشن کا روپ دیا ہے اور ماں بیٹی کے پاکیزہ رشتے کی پیچیدگیوں اور فکری و نظری تضادات کو ایک منفرد اندازِ بیان میں تخلیقیت عطا کی ہے، لیکن نہ جانے کیوں اس کتاب کے شائع ہوتے ہی نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر ممالک میں بھی ایک خاص نظریاتی طبقے کے شدت پسندوں کی طرف سے اسے متنازع بنایا جا رہا ہے، اور خاص کر کتاب کے کور پر ان کی سگریٹ نوشی کرتی تصویر پر نازیبا تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ہندوستان میں ان تمام ادیبوں، شاعروں اور انصاف پسندانہ اظہارِ خیال کے علمبرداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں غیر مہذبانہ القاب سے نوازا جا رہا ہے جو حقیقت بیانی کو اپنی فکر و نظر کا حصہ بناتے ہیں۔ ایسے وقت میں اگر اروندھتی رائے پر جارحانہ تبصرہ کیا جا رہا ہے تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ اس سوانحی تحریر میں مصنفہ نے اپنے سماج کی روایتی قیود کو نہ صرف توڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ معاشرے کی دقیانوسیت کے خلاف آوازِ بغاوت بھی بلند کی ہے۔ انہوں نے اپنی ماں میری رائے کو ایک خود مختار اور باغی فکر و ذہن کی عورت قرار دیا ہے اور اروندھتی رائے نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کی شخصیت کی تشکیل میں ان کی ماں کے افکار و نظریات اور عملی کردار کا بنیادی رول ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اروندھتی رائے اپنے ناولوں اور دیگر مضامین میں ہمیشہ پسماندہ اور محروم طبقے کے لیے بیداری مہم کی علمبردار رہی ہیں اور بالخصوص آزادیٔ نسواں کی مبلّغ رہی ہیں۔ اس تازہ ترین کتاب کا طرزِ بیان بیانیہ ہے اور مصنفہ نے بچپن سے لے کر اب تک کے تلخ و شیریں تجربات و مشاہدات کو ایک تخلیقی شہ پارہ بنانے کی جو علمی کوشش کی ہے، اس میں وہ کامیاب ہیں۔ اس خود نوشت میں وہ نہ صرف اپنی ذات کی نفسیاتی اور جذباتی پرتوں کو کھولتی ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورے معاشرے کی تصویر سامنے گردش کر رہی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کی زندگی میں کس طرح کے مسائل اور مشکلات رہے ہیں اور جنوبی ہند میں عورتوں کی زندگی کس قدر دشوار کن ہوتی ہے۔ وہ یہ دکھانے کی کوشش کرتی ہیں کہ ہندوستانی معاشرے میں جہاں صدیوں تک عورت کو قید و بند میں رکھا گیا، وہاں ان کی ماں میری رائے کس طرح اپنے لیے نئی راہ بناتی ہیں اور دوسروں کے لیے مثالی بن جاتی ہیں۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی یہ واقعاتی تحریر ایک نئے انداز کا تخلیقی تجربہ ہے جس میں انہوں نے منظر نگاری، مکالمہ، بیانیہ اور جذباتی لہروں کو اپنے مخصوص اندازِ بیان میں پیش کیا ہے۔
ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اروندھتی رائے کی نثر بھی شاعرانہ اوصاف سے بھرپور ہوتی ہے، اس میں ایک خاص طرح کا بہاؤ ہوتا ہے جس میں بہتی ندی کی طرح سرگم کے سُر سنائی دیتے ہیں۔ یہ خوبی ’’مدر میری کمس ٹو می‘‘ میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
چوں کہ یہ خود نوشت ہندوستانی معاشرے کی آئینہ دار ہے، اس لیے بعض مقامات پر قاری کو یہ بات کھٹکتی ہے کہ مصنفہ نے اپنی ذاتی زندگی کی تفصیلات کو قدرے طوالت بخشی ہے، لیکن میرے خیال میں مصنفہ کے ذاتی تصورات ان جیسی لاکھوں خواتین کے محسوسات و احساسات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے قارئین کے لیے یہ کتاب اس معنی میں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اردو میں اب اس طرح کی احتجاجی و انقلابی فکر و نظر پر مبنی تحریریں، بالخصوص خواتین کے ذریعہ، کم ہی لکھی جا رہی ہیں۔ اس کتاب میں نہ صرف انسانی رشتوں اور تعلقات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے اسباق موجود ہیں بلکہ ماں کی شفقت اور بیٹی کی بغاوت دونوں ایک ایسی دنیا آباد کرتے ہیں جو ذہن و دل کو جھنجھوڑتی بھی ہے اور خود احتسابی پر مجبور بھی کرتی ہے۔ کتاب کے اوراق یہ شواہد پیش کرتے ہیں کہ مصنفہ نے اپنی ماں میری رائے کو تعلیمی اصلاحات کی علمبردار اور ایک بہادر خاتون کے طور پر پیش کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ ان کے فکری و نظری تضادات کو بھی بے باکانہ طور پر تحریر کیا ہے۔ مختصر یہ کہ اس کتاب کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ اگر فنکار کا ذہن تخلیقیت کی آماجگاہ ہے اور وہ فنِ اظہار پر عبور رکھتا ہے تو اپنی ذاتی زندگی کے بیانیے کو بھی اعلیٰ ادب کا نمونہ بنا سکتا ہے اور اس میں انسانی معاشرے کے تمام تر نشیب و فراز کے ساتھ سیاسی اور سماجی بصیرت کا اچھوتا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ اس لیے اس کتاب میں ماں اور بیٹی کے درمیان محبت اور نفرت کے قوس و قزح صرف ایک خاندانی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک وجودی اور تخلیقی بحران بھی ہے۔ اس کتاب کو نسائی سیاست اور سماجی انصاف کی جدوجہد کا آئینہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
شیئر کریں
