{"product_id":"دیوندر-اسر-ادب-کی-آبرو-adb-ki-abro-devendar-issar","title":"دیوندر اسر | ادب کی آبرو","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb style=\"mso-ansi-font-weight: normal;\"\u003e\u003cspan lang=\"UR\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eتعارف\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif; mso-bidi-font-weight: bold;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb style=\"mso-ansi-font-weight: normal;\"\u003e\u003cspan lang=\"UR\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eنئی صدی کی دہلیز پر\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif; mso-bidi-font-weight: bold;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif; mso-bidi-font-weight: bold;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb style=\"mso-ansi-font-weight: normal;\"\u003e\u003cspan lang=\"UR\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eابھی بیسویں صدی ختم نہیں ہوئی کہ ادیبوں اور دانشوروں نے ہر فکر، شے اور فن کے خاتمے یا موت کا اعلان کر دیا ہے۔ خدا، انسان، مذہب، تاریخ، نظریہ، مارکسیت، فن، ادب اور ادیب نابود یا \"پوسٹ\" ہو گئے ہیں (احساسِ مرگ اور لکھنا مستقبل کا)۔ اس عہدِ مرگ میں دنیا کی تاریخ ایک ایسے موڑ پر آ گئی ہے جہاں جدیدیت اور مارکسیت اپنی کامرانیوں کے تمام تر دعووں کے باوجود شکست و ریخت کا شکار ہو چکی ہیں۔ لہذا ان کے بعد آنے والے دور کو مابعد جدیدیت کے عہد سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ کیا یہ احساسِ مرگ ایک بھولا ہوا بھیانک خواب بن کر رہ جائے گا یا اپنے گرداب میں سب کچھ بہا کر لے جائے گا؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb style=\"mso-ansi-font-weight: normal;\"\u003e\u003cspan lang=\"UR\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb style=\"mso-ansi-font-weight: normal;\"\u003e\u003cspan lang=\"UR\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003eآخر یہ مابعد جدیدیت کیا ہے؟ کیسے وجود میں آئی؟ اس کی شناخت کے خدوخال کیا ہیں (مابعد جدیدیت کا منظر نامہ)؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جدیدیت نے جو ریڈیکل موڑ لیا ہے مابعد جدیدیت اُسے ازسرِ نو لکھ رہی ہے؟ اور ہم جدیدیت کا خاتمہ نہیں بلکہ نئی جدیدیت کا آغاز دیکھ رہے ہیں۔ اُس جدیدیت کا جو کلاسیکی اور صنعتی دور کی جدیدیت سے الگ ہے، کیونکہ جدید کاری ایک نہ ختم ہونے والا مسلسل عمل ہے۔ (مابعد جدیدیت یا جدیدیت: تحریرِ ثانی) - نئی صدی میں داخل ہوتے ہوئے ہمارے سامنے یہ اہم سوال ہے کہ کلاسیکی دور کی ماضی پرستی، جدیدیت کی حال پرستی اور مابعد جدیدیت کی مستقبل پرستی کے بعد 'پوسٹ-پوسٹ ماڈرن ازم' کا منظر نامہ کیا ہوگا؟\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif; mso-bidi-font-weight: bold;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb style=\"mso-ansi-font-weight: normal;\"\u003e\u003cspan lang=\"UR\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif;\"\u003eدنیا کی تاریخ میں ہر چند سو سال بعد کمیتی اور کیفیتی طور پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گزشتہ تاریخ، معاشرہ، تہذیب، فکر اور فن سب بدل گئے ہیں۔ اور حیات و کائنات کے بارے میں ہمارا رویہ، ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام، ہمارا ادب اور فن، ہمارا ورلڈ ویو، ہمارا ظاہر و باطن، ہماری بنیادی قدریں، غرضیکہ پرانی تعمیریں منہدم ہو جاتی ہیں اور فکر و اظہار کے نئے پیکر اور اسلوب جنم لیتے ہیں۔ جسے تاریخ کا تسلسل کہا جاتا ہے اس میں مسلسل عدم تسلسل کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی نئی امید، نئے خدشات اور نئے\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e  \u003c\/span\u003eامکانات کو جنم دیتی ہے۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی تبدیلی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیا نئی صدی کے دہانے پر ہم ایک بار پھر ایسی ہی تبدیلیوں کے روبرو ہو رہے ہیں؟ سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسان اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہی نہیں بدلا بلکہ انسان اور کائنات کو ہی بدل دیا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan style=\"font-size: 11.0pt; font-family: 'Dubai',sans-serif; mso-bidi-font-weight: bold;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169530167393,"sku":null,"price":540.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/59.jpg?v=1790425454","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d8%af%db%8c%d9%88%d9%86%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%a8%d8%b1%d9%88-adb-ki-abro-devendar-issar","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}