{"product_id":"ذلتوں-کے-مارے-لوگ-zalto-kay-maray-log-فیودردستوئیفسکی-fyodor-dostoevsky","title":"ذلتوں کے مارے لوگ | فیودر دوستوئیفسکی","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eفیودر دستوئیفسکی\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eفیودر دستوئیفسکی 1821 میں ماسکو، روس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک ہسپتال میں سرکاری ملازم تھے۔ ان کا خاندان زندگی بھر معاشی بدحالی کا شکار رہا۔ اسکول کی ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پیٹرزبرگ انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فوج میں ملازمت کر لی۔ 1843 میں انہوں نے فوج سے استعفیٰ دے دیا اور ناول نگاری کی طرف مائل ہو گئے اور اسی کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیا۔ وہ نو عمری میں ہی انقلابی بن گئے تھے۔ اس عرصے میں وہ ایک ایسی تنظیم سے وابستہ ہو گئے جو مزدوروں اور کسانوں کو زمینداروں کی غلامی سے آزاد کروانا چاہتی تھی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eزار نکولس اول نے 1849 میں اس تنظیم پر پابندی لگا دی اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ پندرہ نوجوانوں کو سزائے موت سنائی گئی جن میں دستوئیفسکی بھی شامل تھے۔ لیکن سزا کے نفاذ کے وقت ان کے تین ساتھیوں کو گولی مار دی گئی اور باقی نوجوانوں کی جان بخشی کرکے سائبیریا میں قیدِ بامشقت کے لیے بھیج دیا گیا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eدستوئیفسکی نے سائبیریا میں چار سال قیدِ بامشقت میں گزارے۔ سائبیریا کی قید سے وہ اس شرط پر رہا کیے گئے کہ وہ اپنی خدمات فوج کے لیے وقف کریں گے۔ 1859 میں انہیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا اور انہیں پیٹرزبرگ جانے کی اجازت دے دی گئی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eدستوئیفسکی نے شاندار ادب تخلیق کیا جس نے عالمی سطح پر ادبی حلقوں میں دھوم مچا دی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو چھیالیس میں پہلا ناولٹ \"غریب لوگ\" (Poor Folk) شائع ہوا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو ساٹھ میں \"ذلتوں کے مارے لوگ\" شائع ہوا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو اکسٹھ میں اپنے بھائی میخائل کی شراکت میں ایک ماہوار رسالہ \"زمانہ\" جاری کیا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو باسٹھ میں \"نہایت افسوس ناک واقعہ\" ناولٹ شائع ہوا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو چونسٹھ میں \"زیرِ زمین کے مراسلات\" (Notes from Underground) شائع ہوئے جن میں پہلی بار انسانی شعور پر بحث ہوئی۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو پینسٹھ میں دستوئیفسکی کو افلاس کے ہاتھوں تنگ آ کر روس واپس جانا پڑا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ چھیاسٹھ میں \"جواری\" ناولٹ اور \"جرم و سزا\" ناول شائع ہوئے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eاٹھارہ سو اناسی میں عظیم ناول \"برادرز کرامازوف\" شائع ہوا۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf jikcssrz n3t5jt4f\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\u003cstrong\u003eدستوئیفسکی روس کے عظیم ناول نگار تھے جنہوں نے عالمی ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ دنیا کے عظیم ناولوں کی تاریخ دستوئیفسکی کے \"برادرز کرامازوف\" اور \"جرم و سزا\" کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔\u003c\/strong\u003e\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169563197537,"sku":"9789695628218","price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/Layer-211-1-scaled.jpg?v=1790425714","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d8%b0%d9%84%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%84%d9%88%da%af-zalto-kay-maray-log-%d9%81%db%8c%d9%88%d8%af%d8%b1%d8%af%d8%b3%d8%aa%d9%88%d8%a6%db%8c%d9%81%d8%b3%da%a9%db%8c-fyodor-dostoevsky","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}