زندگی کا کھیل قاضی جاوید
زندگی کا کھیل قاضی جاوید
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
"زندگی کا کھیل" آپ کے ہاتھ میں ہے۔
یہ کتابوں کے اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے حوالے سے میری دو کتابیں ”بھرپور زندگی گزاریے“ اور ”جینے کا سلیقہ“ پہلے ہی شائع ہو چکی ہیں۔ ازدواجی زندگی اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے مسائل پر دو اور کتابیں جلد ہی منظر عام پر آ جائیں گی۔
یہ کتابیں ڈیل کارنیگی کی تحریروں کا نیا ایڈیشن نہیں ہیں۔ میں اس شہرہ آفاق مصنف کی اہمیت کو کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ البتہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کتابیں ڈیل کارنیگی کی طرح آپ کو محض کامیاب زندگی گزارنے کے ڈھنگ نہیں سکھاتیں، ان کا حقیقی مقصد خوبصورت اور تخلیقی زندگی گزارنے میں آپ کی مدد کرنا ہے۔
اصل میں یہ کتابیں ایک نیا کلچر اور نیا انسان پیدا کرنے کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ ہمارے معاشرے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران مادی اور معاشی عوامل نے زندگی کا چلن بدل دیا ہے۔ زندگی کے تقاضے تبدیل ہو گئے ہیں لیکن زندگی کی رہنمائی کرنے والے اصول، ضابطے اور اقدار نہیں بدلی ہیں۔ یوں زندگی اور کلچر میں کشمکش شروع ہو گئی ہے جو بیگانگی، منافقت، خوف، بزدلی، کھنچاؤ اور بے شمار دوسری ذہنی اور سماجی بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔ یہ کتابیں آپ کو بتائیں گی کہ ہم اس کشمکش پر کس طرح قابو پا سکتے ہیں۔ یہ آپ کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل بنائیں گی۔ آپ کو نئی ثقافتی اقدار اور متبادل سماجی ضابطوں سے متعارف کروائیں گی۔
یہ کتابیں طبع زاد نہیں ہیں۔ ان کے لیے اکثر بنیادی تصورات اور مواد متعلقہ موضوعات کے ماہرین کی تحریروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ کچھ مواد اپنے تجربے، مشاہدے اور تجزیئے سے اخذ شدہ ہے۔ اس سارے مواد کو اپنے ماحول اور مسائل کے مطابق ڈھال کر سیدھے سادھے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ قارئین اس سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔ ان کتابوں میں جو تصورات، پروگرام اور تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان کے پیچھے ایک منظم فلسفہ کارفرما ہے۔ یہ فلسفہ آج کی پیچیدہ زندگی کا چیلنج قبول کرنے پر اکساتا ہے۔ یہ نیکی، محبت، حسن اور سچائی کا درس دیتا ہے، حوصلہ مندی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور ہماری شخصیت کے پوشیدہ امکانات کو بروئے کار لانے کی ترغیب دیتا ہے۔
"زندگی کا کھیل" میں مختلف نکات کی وضاحت کے لیے درجنوں مثالیں درج ہیں۔ ان کے کرداروں کے نام اور مقامات بدل دیے گئے ہیں۔ لہٰذا ان کو حقیقی نہ سمجھنا چاہیے۔
قاضی جاوید
30 جولائی 1999ء
211 - آر ماڈل ٹاؤن لاہور
Pages 395
شیئر کریں
