مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 1

زوال | The Fall | Zawal | البرٹ کامیو | Albert Camus

زوال | The Fall | Zawal | البرٹ کامیو | Albert Camus

عام قیمت Rs.500.00 PKR
عام قیمت Rs.700.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.500.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد

زوال |  تعارف

البرٹ کامیو کا تیسرا ناول (The Fall) "زوال" اس کے جملہ فکشن میں شاید سب سے زیادہ قنوطیت پسند اور تشاؤم آمیز ناول ہے۔ اس کے برخلاف، اس کے پہلے دو ناول (The Stranger) "اجنبی" اور (The Plague) "طاعون" نسبتاً مثبت اور روشن پہلوؤں کے حامل ہیں۔ ان دونوں ناولوں میں ہمیں یہ کنایہ ملتا ہے کہ اپنی سرشت میں عوام الناس بنیادی طور پر معصوم ہیں۔ اب اگر ان سے ارتکابِ شر ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ان غلط نظریات پر عائد ہوتی ہے جن کے زیرِ اثر وہ آ گئے ہوں، لیکن "زوال" تک آتے آتے یہ سب بدل جاتا ہے۔ یہاں کامیو اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتا ہے اور ایک ایسا نظریہ پیش کرتا ہے جو اپنے حد سے بڑھے ہوئے تشاؤم کے سبب اس کے گزشتہ نظریے کا بالکل الٹ ہے۔ درحقیقت ژاں باپیست کلامینس، جو نہ صرف ناول "زوال" کا راوی ہے بلکہ اس کا مرکزی کردار بھی ہے، اجنبی کے مرسو اور طاعون کے ڈاکٹر ریوں کے عین برعکس محض خود غرض، بے ایمان، بزدل، منافق اور خود پسند ہی نہیں بلکہ اس بات پر بھی مصر نظر آتا ہے کہ ان تمام مذموم صفات میں اپنی سابقہ جملہ انسانیت کو بھی شریک ثابت کر دکھائے۔ اس ناول میں چند مرکزی تصورات ایک بے پناہ حرکی قوت کے ساتھ جاری و ساری نظر آتے ہیں اور آخرکار انسانی وجود کی ماہیت کے بارے میں کامیو کے قطعی و صریح ترین موقف کا تعین کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ تو یہ موقف کیا ہے؟ کامیو کے خیال میں (1) انسانی وجود اضطراراً گناہ آلود ہے۔ (کامیو کے نزدیک "گناہ" اور "وجود" ایک ہی چیز ہیں۔) (2) گناہ انسانی شعور میں احساسِ جرم کا محرک ہوتا ہے۔ (3) ہر چند کہ گناہ کو وجودِ انسانی سے نہ کبھی خارج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے، پھر بھی فرد کے تئیں اس کی آگہی کم از کم اسے ایک دیانت دارانہ وجود تک ضرور لے جا سکتی ہے۔ چنانچہ اس آگہی کا دائرہ وسیع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رابرٹ لپے کے بقول کلامینس "تمام خلق و بشر کی طرح بنیادی گناہ کا مجرم ہے، یہی کہ وجود رکھتا ہے۔"

 اس خیال کی وضاحت نہایت دوٹوک انداز میں ناول کے اس منظر میں ہو جاتی ہے جہاں کامیو نے دریائے سین کے ایک پل سے ایک نوجوان لڑکی کو چھلانگ لگا کر اپنی موت سے ہمکنار ہوتے ہوئے دکھایا ہے۔ کلامینس اس لڑکی کو پل کی ریلنگ پر جھکے ہوئے دیکھتا ہے، پھر چند ثانیوں کے بعد اس کے جسم کے پانی میں گرنے کے چھپاکے کو سنتا ہے اور اس کے بعد لڑکی کی وہ دل دوز چیخیں جو مدد کے لیے بلند ہو رہی ہیں۔ بایں ہمہ وہ اسے بچانے کی سرے سے کوئی کوشش نہیں کرتا اور یوں لڑکی کی موت پر شعوری طور پر کوئی خواہش نہ کرنے، نہ ہی اس کے بچاؤ کے لیے کوئی عملی قدم اٹھانے کے باوجود، کلامینس اس کی موت کا سبب بن جاتا ہے اور اگر یہ نہیں تو کم از کم یہ محسوس ضرور کرتا ہے کہ اس کی موت کا سبب وہی ہے۔ بالفاظِ دیگر کلامینس کا وجود محض کسی نہ کسی اعتبار سے اس موت کا ذمہ دار ہے۔

وجود اور گناہ کی یہ ناگزیر مساوات ناول کے اس حصے میں کچھ اور اثر انگیزی اور شدت سے واضح ہو جاتی ہے جہاں کلامینس ایمسٹرڈیم کے یہودیوں کے محلے میں اپنی رہائش گاہ کا نقشہ کھینچتا ہے۔

" میں یہودیوں کے محلے میں رہتا ہوں۔ ہمارے ہٹلری بھائیوں کی آمد سے پہلے تک اس محلے کا نام یہی تھا۔ انھوں نے اسے ذرا کھلا اور کشادہ بنا دیا! کیا صفایا ہوا ہے! پچھتر ہزار یہودی قتل یا ملک بدر ہوئے! میں تو بس اسے ویکیوم کی مستعد کارکردگی اور باضابطہ صبر کا قائل ہوں! جب آدمی کے پاس کردار نہیں ہوتا تو پھر اسے ایک طریقہ کار اور تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے اور میں اس جگہ سکونت پذیر ہوں جو تاریخ کے ایک عظیم ترین جرم کے ارتکاب کا محلِ وقوع تھی۔"

گو کلامینس براہِ راست یا بالواسطہ نازی جرائم اور بربریت کا بالکل ذمہ دار نہیں جن کا مظاہرہ انہوں نے یہودیوں کے خلاف کیا تھا، بایں ہمہ اس کا وجود اور اس علاقے میں اس کی رہائش گاہ جو ابھی چند برسوں پہلے تک یہودیوں کا باڑھ (Ghetto) رہ چکی تھی، اسے رہ رہ کر اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ ایک ایسے جرم میں جس کی نہ اس نے خواہش کی تھی، نہ چاہا تھا اور نہ جس کا وہ مرتکب ہوا تھا، وہ بھی برابر کا شریک ہے۔ یہ فکر اور احساسِ جرم ظاہر ہے کہ کلیتاً اخلاقی اور وجودی طور پر ہے۔ یوں کلامینس کی خود کو ملزم گرداننے کی اس کوشش کے ذریعے کامیو تمام انسانیت کی یاد دہانی بھی کراتا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کی بیخ کنی کے موقع پر مجرمانہ طور پر خاموش رہے۔ بقول لپے، کامیو نے کچھ اس طرح تصویر کشی کی ہے کہ قاری خود آپ کو اور تمام انسانیت کو کسی حد تک کلامینس میں پہچان لے گا۔ [ناول کا] موضوعِ کائنات ہے: ایک اخلاق سوز عہد کے چہرے کی نقاب کشائی۔ نتیجتاً: چونکہ انسانیت نے یہودیوں کے قتلِ عام کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی، اس لیے وہ بھی شریکِ جرم ہے۔

مکمل تفصیلات دیکھیں