قبائے دریدہ | طاہر حنفی | Tahir Hanfi
قبائے دریدہ | طاہر حنفی | Tahir Hanfi
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
طاہر حنفی 26 نومبر 1955ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی اردو ادب اور شاعری میں دلچسپی لینا شروع کی اور پانچ عشروں سے زائد عرصے سے باقاعدگی سے مشقِ سخن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 13 مئی 1972ء کو ان کی پہلی غزل روزنامہ تعمیر راولپنڈی کے ادبی صفحے میں شائع ہوئی۔ تعلیمی سال 1973-1974ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج سیٹلائٹ ٹاؤن، راولپنڈی کے مجلے 'آہنگ' کے پہلے طالب علم مدیر رہے۔
1974ء میں ایک عامل صحافی کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور دس برس کے عرصے میں وفاقی دارالحکومت میں روزنامہ جنگ اور روزنامہ نوائے وقت کے علاوہ خبر رساں ادارے پی پی آئی سے منسلک رہے۔ 1983ء میں قومی اسمبلی پاکستان کے شعبہ تحقیق و تعلقات عامہ میں بطور ریسرچ افسر ملازمت اختیار کی اور مختلف عہدوں پر ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد 2015ء میں ایڈیشنل سیکرٹری کی حیثیت سے قومی اسمبلی سے ریٹائر ہوئے۔
پنجاب یونیورسٹی لاہور سے 1981ء میں ایم اے سیاسیات اور 2007ء میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک سٹڈیز کی ڈگریاں حاصل کیں اور ایشیا پیسفک سینٹر فار سیکورٹی سٹڈیز، ہونولولو، ہوائی (امریکہ) سے 2004ء میں ڈیفنس اینڈ اسٹریٹجک سٹڈیز میں ڈپلومہ کے ساتھ ساتھ برمنگھم یونیورسٹی، برطانیہ سے 2008ء میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور سیکورٹی امور میں شیونگ فیلوشپ کی۔
پارلیمانِ پاکستان کی بتیس سالہ ملازمت کے دوران امریکی کانگریس، آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان اور ترکی کی پارلیمانوں کے علاوہ امریکی ریاستوں وسکونسن اور کیلیفورنیا کے قانون ساز اداروں میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔
سرکاری فرائض کی انجام دہی، حصولِ علم اور پارلیمانی امور کے بین الاقوامی تربیتی سہولت کار کی حیثیت سے دنیا کے پانچوں براعظموں کا دورہ کر چکے ہیں۔
اب تک طاہر حنفی کے سات شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں:
'شہرِ نارسا' کے نام سے پہلا شعری مجموعہ اپریل 2014ء میں شائع ہوا جس کا دوسرا ایڈیشن صرف دو ماہ بعد جون 2014ء میں چھپا۔
دوسرا شعری مجموعہ 'گونگی ہجرت'، ستمبر 2019ء میں چھپا۔
تیسرا شعری مجموعہ 'خانہ بدوش آنکھیں' اکتوبر 2020ء میں شائع ہوا۔
2021ء میں زندگی کے 66 برس کی مناسبت سے 66 اکائیوں، 66 غزلوں اور اتنی ہی نثری نظموں پر مشتمل چوتھا شعری مجموعہ 'یرغمالِ خاک' اگست میں منظرِ عام پر آیا۔
2022ء میں قیامِ پاکستان کے جشنِ الماسی کی نسبت سے 75 غزلیات اور 75 اشعار پر مشتمل پانچواں شعری مجموعہ 'رشکِ افلاک'، جنوری میں شائع ہوا۔
'آوازِ گمشدہ' کے نام سے جنوری 2023ء میں 100 غزلوں سے زائد اور جنوبی امریکہ میں کہی گئی نظموں پر مشتمل چھٹا شعری مجموعہ
اور جنوری 2024ء میں غزلیات، نظموں اور شاعری اکائیوں پر مشتمل ساتواں شعری مجموعہ منظرِ عام پر آیا۔
طاہر حنفی کی شاعری کے مختلف پہلوؤں اور شعری مجموعوں کے تنقیدی اور فکری جائزے پر پاکستان کی مختلف جامعات میں ایم فل، ایم اے اور بی ایس لیول پر درجنوں تحقیقی مقالات لکھے جا چکے ہیں۔
پارلیمانی امور پر بین الاقوامی سہولت کاری میں، پارلیمانی نگرانی اور بہترین طرزِ حکومت کے مسلمہ ماہر ہیں اور مختلف ملکی و غیر ملکی اخبارات کے کالم نگار اور ٹیلی ویژن چینلز کے تجزیہ کار ہیں۔
شیئر کریں
