قطرہ میں دجلہ افسانے از محمد شفیق پنوں خیل
قطرہ میں دجلہ افسانے از محمد شفیق پنوں خیل
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
اگر ادب حیات اور کائناتی سچائیوں سے کٹ جائے، بین کرتی بلکتی خلقت کی عکس گری سے ہاتھ کھینچ لے، یقین کی جگہ اوہام اور حقیقت شناسی کی بجائے اوہام کی ترویج میں بہہ جائے تو ایسا ادب شاہ مدار یا بیتِ مقتدرہ کے لیے تو اہم ہو سکتا ہے لیکن لوکائی کے لیے وہ محض پھوگ، بھوسے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اس وقت دوہرے معیارات کے تعفن سے اٹا معاشرہ نہ صرف اخلاقی گراوٹوں کی انتہا پر ہے بلکہ ریا کا عفریت تو ہر پیکرِ انسانی میں حلول کیے ہوئے ہے۔ ہر مانوس لہجہ اپنے پس منظر میں لوبھ اور دروغ چھپائے ہوئے ہے۔ استعمار کی منڈلی سجی ہوئی ہے اور ساہوکاروں نے پوتر جذبوں کو بھی دام و درہم سے خرید کر گوداموں میں اجناس کے ساتھ ذخیرہ کر رکھا ہے۔ اس سے اگر کوئی لکھاری پورے حواس سے لوکائی کو درد کے پاتال میں دھکیلنے والوں پہ گرفت کرے، دوغلے چہروں، مکار ریاستی رہبروں کو للکارے اور تکفیر کا بیج بوتے فتنہ پروروں کی بیخ کنی کرے تو وہ منٹو یا عصمت سے لے کر منشا یاد کی افسانوی حمیت کا تسلسل لگتا ہے۔
محمد شفیق پنوں خیل ایک ایسے افسانہ نگار ہیں کہ انہیں افسانے کی تلاش میں قریہ قریہ بھٹکنا نہیں پڑتا بلکہ وہ مشاہداتی حس سے کام لے کر عصری سچائیوں، سفاکیوں اور تلخیوں سے کہانی کا متن کشید کرتے ہیں۔ ان کا بے پناہ مطالعہ، عصری تحریکوں کا گیان اور عالمی تناظر کا درک انہیں آج کا کھرے افسانہ نگار بنا دیتا ہے، جو قطرے میں دجلہ دیکھ ہی نہیں سکتا بلکہ اپنے تخلیقی تجربے سے قارئین کو بھی دکھا سکتا ہے۔
پروفیسر عمران میر
ISBN 978-627-30-4296-4
صفحات 96
شیئر کریں
