{"product_id":"نین-ترے-انجان-ناول-کنول-بہزاد","title":"نین ترے انجان | ناول | کنول بہزاد","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eنین ترے انجان\/کنول بہزاد\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eتبصرہ: رئوف کلاسرا\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\" data-mce-fragment=\"1\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمیرا لٹریچر پڑھنے کا سفر کچھ الٹ شروع ہوا۔ بچپن میں بچوں کی کہانیوں سے شروع ہو کر ٹین ایج میں ڈائجسٹ پڑھے۔ کالج میں انگریزی لٹریچر آپشنل رکھا تو وہاں سے انگریزی ناول اور کہانیاں شروع کیں اور پھر نعیم بھائی نے روسی اور فرنچ ادیبوں سے متعارف کروا دیا۔ اردو ادب پڑھا تو ضرور لیکن جتنا مجھے پڑھنا چاہیے تھا وہ نہیں پڑھا۔ لیکن اب دل کرتا ہے کہ پاکستانی ادب زیادہ پڑھوں، زیادہ اردو ناول اور کہانیاں پڑھوں۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eآپ کو شاید عجیب بات لگے لیکن آج کل جو کچھ اردو میں میرے ہاتھ لگ جائے پڑھ لیتا ہوں اور سب لکھاریوں کو پڑھتے ہوئے داد دیتا ہوں۔ کوئی تحریر اچھی لگی تو اس پر تبصرہ کر دیتا ہوں اور اگر نہ لگے تو تبصرہ نہیں کرتا، لیکن کسی ادیب یا لکھاری کے بارے میں نیگیٹو لکھ کر اس کا دل توڑنا مجھ سے نہیں ہو پاتا۔ کسی کی برسوں کی ریاضت کو محض ایک پوسٹ یا ایک جملے کے بوجھ تلے دم نہیں توڑنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں ہر کوئی اپنے تئیں اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب نہ سب برا لکھتے ہیں نہ سب اچھا۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eاگر کسی ناول کی کہانی مجھے اپنے اندر مشغول رکھے اور میں پورا ناول یا کہانی پڑھ لوں تو میں اس کا کریڈٹ ناول اور ناول نگار کو دیتا ہوں۔ ورنہ عمر کے اس حصے میں جب آپ کو کچھ ادب سے جان پہچان ہو چکی ہوتی ہے، آپ کے لیے کسی نئے لکھاری کی تحریر میں مشغول رہنا کچھ مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ تھوڑی دیر بعد بور ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور کہانی کے بہت سارے کرداروں کو پہلے سے پریڈکٹ کر سکتے ہیں کہ وہ اب کیا کریں گے یا ناول کیا موڑ لے گا۔ اچھے ناول میں ہمیشہ دلچسپ ٹوئسٹس ہوتے ہیں جو قاری کو کبھی اندازہ نہیں لگانے دیتے اور ہر موڑ پر نیا ٹوئسٹ آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ بعض ناول پڑھ کر آپ کی پیاس نہیں بجھتی جیسے علی اکبر ناطق کا \"نولکھی کوٹھی\" اور محمد حفیظ خان کا \"انواسی\"۔ آپ کا دل کرتا ہے یہ دونوں ناول کبھی ختم نہ ہوں اور آپ پڑھتے رہیں۔ حالیہ ایک برس میں یہ وہ دو ناول ہیں جو میں کچھ عرصے بعد دوبارہ پڑھنا چاہوں گا۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eجب میں نے کنول بہزاد صاحبہ کا لکھا یہ ناول \"نین ترے انجان\" شروع کیا تو میرا خیال تھا میں زیادہ دیر تک اس میں دلچسپی شاید برقرار نہ رکھ پاؤں گا۔ لیکن بہت کم ناول ہوں گے جو آپ ایک نشست میں پڑھ لیتے ہیں اور اس ناول کو میں نے ایک ہی نشست میں ختم کیا۔ لگتا ہے یہ ناول میرے جیسے دیہاتیوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ لیکن مجھے ایک خوف ہے کہ اسے ہر کوئی انجوائے نہیں کر سکے گا۔ اگرچہ دیہاتی زندگی اور کرداروں پر کنول بہزاد کی بہت گرفت اور اچھا مشاہدہ ہے۔ بعض جگہوں پر تو مجھے محسوس ہوا میں خود اس ناول کا ایک کردار ہوں اور شاید یہ شہریار کی نہیں میری اپنی کہانی ہے، میرے گاؤں کی کہانی ہے اور ناول کے بعض گوشے میری ہی زندگی کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سارے لوگوں کو یہ روایتی کہانی لگے۔ دیہاتی لڑکا اور ماڈرن شہری لڑکی کا رومانس اور اس دوران گاؤں میں انتظار کرتی ایک کزن۔۔ لیکن اس روایتی کہانی میں بھی جو ٹریٹمنٹ رکھا گیا وہ آپ کو ناول نیچے نہیں رکھنے دیتا۔ کہانی کی زبان و بیان خوبصورت ہے۔ دیہاتی ماں باپ کے دکھ اور رشتوں کی نزاکتوں کو بھی خوب نبھایا گیا ہے۔ کہانی میں ٹوئسٹ تو ہیں لیکن شاید کچھ کہانی میں تفصیلات یا مناسب منظر کشی ہوتی تو شاید کہانی کچھ طویل اور زیادہ خوبصورت ہو سکتی تھی۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eمجھے اس ناول میں کنول بہزاد کی اردو پر گرفت نے متاثر کیا۔ اچھے جملوں نے ناول کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔ اگرچہ لگتا ہے کہ ناول کو ختم کرنے کی جلدی تھی ورنہ کہانی میں اتنی جان تھی کہ مزید ایک دو سو صفحات لکھے جا سکتے تھے۔ بہرحال مصنفہ کے مشاہدے کو داد دینی پڑے گی جس طرح انہوں نے دیہاتی اور شہری زندگیوں کو ڈیل کیا۔۔ خصوصاً گاؤں کی کہانیوں اور کرداروں پر ان کی گرفت زیادہ مضبوط ہے بہ نسبت شہر اور شہری کرداروں کے۔ اگرچہ بعض جگہوں پر یہ ناول ایک فلمی رنگ لیے ہوئے ہے جو شاید سنجیدہ قاری کو اپیل نہ کرے۔ ہو سکتا ہے کوئی ٹی وی کا ڈرامہ پروڈیوسر اس ناول پر ڈرامہ بھی پروڈیوس کرنے کا سوچے کیونکہ اس میں وہ ٹچ موجود ہیں۔ بعض جگہوں پر ناول پڑھتے ہوئے آپ کچھ کرداروں کے ساتھ ایسا تعلق بنا چکے ہوتے ہیں کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا اور آپ کی آنکھیں بھی گیلی ہو جاتی ہیں۔ گاؤں میں اپنے کزن شہریار کے انتظار کی سولی پر لٹکی بے چاری پروا کا دکھ آپ کو اپنے اندر تک محسوس ہوتا ہے۔ آپ بھی اس کی اذیت کے درد کے ہر لمحے سے گزرتے ہیں۔ یہ لکھاری کی کامیابی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eکنول بہزاد کا اصل امتحان دوسرا ناول لکھنا ہوگا اور انہیں ناول کو فلمی یا کسی اخباری میگزین کو سامنے رکھ کر نہیں لکھنا ہوگا۔ انہیں سنجیدہ قاری کو سامنے رکھ کر ناول لکھنا ہوگا۔ انہیں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ ایک ادبی ناول کو کسی ڈائجسٹ کی کہانی نہیں لگنا چاہیے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\" data-mce-fragment=\"1\"\u003eناکام محبتوں اور بدلتے رشتوں کی ایک ہی کہانی ہوتی ہے لیکن ہر دفعہ ادیب ان کہانیوں کو نیا رنگ دیتا ہے اور ادیب اگر قاری کو کتاب نیچے نہ رکھنے دے تو وہی اس کی کامیابی ہے۔۔ میں نے تو خود کو اس ناول کا ایک کردار سمجھ کر پڑھا ہے۔۔ آپ بھی اس ناول میں کہیں نہ کہیں خود کو ڈھونڈ ہی لیں گے اور یہی کنول بہزاد کی کامیابی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169551302753,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/33_a7fd9295-6788-44ea-9b74-77e7bbdcca4f.jpg?v=1790425576","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d9%86%db%8c%d9%86-%d8%aa%d8%b1%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%a7%d9%88%d9%84-%da%a9%d9%86%d9%88%d9%84-%d8%a8%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}