{"product_id":"پاکستان-میں-تہذیب-کا-ارتقا-سبط-حسن","title":"تہذیبِ پاکستان کا ارتقا | سبطِ حسن","description":"\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xdj266r x126k92a\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eپاکستان میں تہذیب کا ارتقا از سبط حسن - چند تاثرات\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e\n\u003cdiv class=\"x11i5rnm xat24cr x1mh8g0r x1vvkbs xtlvy1s x126k92a\"\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتہذیب کیا ہے؟ ریاست اور قوم میں کیا فرق ہے؟ ریاست کی سرحدیں تو جغرافیہ کی مدد سے مقرر کی جاسکتی ہیں لیکن قوم کی کوئی سرحد ہو سکتی ہے؟ مادی اور جغرافیائی عوامل تہذیب و تمدن کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟ آیا ہم پہلے پنجابی ہیں یا پاکستانی یا پھر مسلمان؟ پاکستان کی کوئی تہذیبی شناخت وجود رکھتی ہے یا یہ محض قومی وحدت برقرار رکھنے کی ریاستی مجبوری سے زیادہ کچھ نہیں؟\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eسبط حسن نے ان تمام سوالات پر سیر حاصل بحث سے اس کتاب کا آغاز کیا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حدود میں پنپنے، پروان چڑھنے اور شکست و ریخت کا شکار ہونے والی ان تمام تہذیبوں کا تجزیہ تاریخی اور مادی عوامل کے تغیر سے کیا گیا ہے۔ وادی سندھ کے زمانے سے لے کر مغلوں کے زوال تک کا تین ہزار سالہ تاریخی سفر نہایت سہولت سے بیان ہوا ہے۔ وادی سندھ کی قدیم تہذیب، آریائی حملے، یونانی، ساکا، پارتھی، کشن اثرات، پھر سندھ میں اسلام کا آغاز، ایران و ترک سلطنت، سلاطین دہلی اور مغلوں کے زوال سے انگریز کی آمد، ان سب پر الگ الگ ابواب میں بات کی گئی ہے۔ محمد بن قاسم کی سندھ پر مہم سے پہلے امیر معاویہ کے دور میں بھی دو مہمیں ہند کو فتح کرنے کے لیے بھجوائی گئیں مگر وہ ناکام لوٹیں۔ محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو مقامی بودھ قبائل کی مدد سے سندھ میں شکست دی۔ ان بودھ قبائل کی حکومت راجہ چچ (راجہ داہر کے باپ) نے غصب کی تھی۔ یہی اس زمانے کا دستور تھا کہ مغضوب گروہ کسی طاقتور حملہ آور سے مل جاتا اور اپنے پرانے بدلے چکاتا۔ ابراہیم لودھی سے بھی جب اس کے پٹھان امرا ناخوش ہوئے تو بابر کو بلاوا بھیجا کہ بھئی آ اور اس سالے سے ہماری جان چھڑا، مگر وہ ایسا آیا کہ پھر اگلے کئی سو برس تک ہندوستان میں باہر سے کوئی حملہ آور نہ آسکا۔ اسی کے خاندان نے حکومت جمائی۔ ٹیکسلا کا زمانہ قدیم میں علم پرور شہر سے زمانہ جدید میں توپوں و ٹینکوں کی فیکٹری والے شہر کا سفر بھی ازحد دلچسپ ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eتہذیب حملہ آوروں کی مار کٹائی کا نام نہیں بلکہ حملہ آوروں اور مقامی انسان کے باہمی میل ملاپ سے جنم لینے والے سماج کا نام ہے۔ اس تہذیب کو سینچنے میں لوگوں کا رہن سہن، مذاہب کی ادلا بدلی، فنِ تعمیر، نظامِ فکر و احساس اور فنونِ لطیفہ، سب کا اپنا اپنا حصہ ہے۔ کیسے مذہب پر قابض راجائوں اور پنڈتوں کے زیرِ عتاب طبقے نے اسلام کو خوشی خوشی قبول کیا۔ ملتان میں کئی ایسے اسماعیلی داعی آئے جنہوں نے اسلامی عقائد کی ترویج مقامی زبانوں میں کی۔ صوفیا ریاستی مولویوں کے نشانے پر رہے۔ مولوی مذہب کا ٹھیکیدار بنا رہا، عوام کو دوزخ سے ڈرایا اور خود بادشاہ سے ڈرا، مال و متاع کے لیے مذہب فروشی کی، آج بھی کرتا ہے۔ ہندوستان میں کئی تہذیبیں آئیں اور اپنا وقت پورا کر کے فنا ہو گئیں، لیکن اس ارتقائی عمل میں ان کی کئی نشانیاں باقی بچ گئیں جن سے تہذیب کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ شیر شاہ سوری، مادھو لال حسین، امیر خسرو، بھگت کبیر، داراشکوہ، اکبر و اس کے نو رتن، چند پرشکوہ عمارات اور بہت سے گمنام اس کہانی کے نمایاں کردار ہیں۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eمملکت خداداد کے شناختی بحران کے تار و پود بھی اسی تہذیب کے ارتقائی عمل میں پیوست ہیں۔ گزرے ہوئے کل کو سمجھنا گویا حال کو سمجھنا ہے۔ نظریہ ضرورت کے تحت وضع کردہ شناخت کی ریاستی پروپیگنڈا سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ جن گروہوں کا مفاد وحدت اور اکائی کے ڈھکوسلے سے جڑا ہے وہ اسی کا راگ الاپتے رہتے ہیں اور جو طبقات صوبائیت پرستی اور تکثیریت (pluralism) میں اپنا منافع دیکھتے ہیں وہ اسی کا ڈھول پیٹتے ہیں۔ جاگیردار کبھی بھی وحدت نہیں چاہے گا کیونکہ یہ اس کے جبر کو سوٹ ہی نہیں کرتی، اسی طرح سرمایہ دار وحدت کا حامی ہوگا، ایک ملک ایک قوم کا راگ الاپتا رہے گا کیونکہ منڈی کا بھاگ سرمایہ ہے اور وہ مال بیچنے سے آتا ہے۔ یہ نعرے طبقات کی باہمی کشمکش کا ایندھن ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔ آج اس ملک میں بسنے والے شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں۔ سبط حسن صاحب کی کتاب ہر اس شخص کو لازماً پڑھنی چاہیے جو خود کو ریاستی شناخت کے مسلط کردہ جبر سے ذہنی طور پر آزاد کرنا چاہتا ہے۔ ضرور پڑھیں۔ کراچی سے مکتبہ دانیال نے پبلش کی ہے۔\u003c\/div\u003e\n\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003eفرقان وحید\u003c\/div\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169549271137,"sku":null,"price":1695.0,"currency_code":"PKR","in_stock":false}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/azdawjikhushiya.png?v=1790425561","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%db%81%d8%b0%db%8c%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d9%82%d8%a7-%d8%b3%d8%a8%d8%b7-%d8%ad%d8%b3%d9%86","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}