{"product_id":"کتاب-شناسی-katab-e-shanasi-کتاب-کی-تاریخ","title":"کتابیات | کتاب شناسی | کتاب کی تاریخ","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب شناسی\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e | کتاب شناسی\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب کی تاریخ\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e۔۔۔۔۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکہتے ہیں کہ کتاب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب۔ کتاب کا آغاز تب ہی ہو گیا تھا جب انسان نے مٹی پر نشانات بنانا شروع کیے تھے۔ اگر تاریخ میں کتاب کے آثار ڈھونڈیں تو میسوپوٹیمیا میں سب سے پہلے سمیری قوم کے نشانات ملتے ہیں۔ یہ چار ہزار سال قبل کا زمانہ تھا۔ لکھائی کا جو قدیم ترین نمونہ تاریخ میں ملتا ہے وہ تصویری علامتوں پر مشتمل ہے جو گِل کی لوح پر ہڈی یا پتھر کے قلم سے لکھی ہوئی ہے۔ کتاب کی تاریخ میں اسے مٹی کے اوراق کہا گیا ہے۔ پھر جوں جوں انسان تہذیب کی منزلیں طے کرتا گیا تو کتاب کی ساخت بھی بدلتی چلی گئی۔ کتاب نے جدت کی منزلیں کیسے طے کیں، اس کتاب میں اول تا آخر دلنشیں انداز میں بیان ہوا ہے۔ مٹی کے اوراق سے پیپر تک کا سفر کتنی صدیوں میں کیسے طے ہوا، لکڑی کی تختی پر کب اور کیسے کتاب لکھی جاتی تھی۔ پھر سندھ میں پتھر کی کتابوں کی تاریخ، ایران اور ہندوستان کی کتابوں کا احوال؛ شایان قدوائی نے عرق ریزی سے بیان کیا ہے۔ اپنی نوعیت کی یہ بہترین اور انوکھی کتاب ہے جو اپنے موضوع پر علمی خزانہ ہے۔ ہر علمی ادارے، لائبریری، اس کول، کالج اور ہر اس انسان کی ضرورت ہے جو کتاب سے وابستہ ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eعبدالوارث ساجد\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c!----\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169566998625,"sku":"9789695623732","price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/siaysat_ciama_samaj_1.jpg?v=1790425756","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8-%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%b3%db%8c-katab-e-shanasi-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}