{"product_id":"ہندوکش-کے-دامن-میں-جاوید-خان-javeed-khan","title":"ہندوکش کے دامن میں | جاوید خان | Javeed Khan","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eزندگی کا پہلا تبصرہ\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eتبصرہ\/کتاب,, ہندوکش کے دامن میں,,۔۔۔۔۔۔رابعہ رفیق\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eسارے جہاں کا درد اپنے جگر میں لیے وادیوں، پہاڑوں اور فطرت کے حسین نظاروں میں گھومنے، ان کا مشاہدہ کرنے اور ان کے ماضی سے ہمکلام ہونے والے جاوید خان صاحب کا سفر نامہ “ہندو کش کے دامن میں” پڑھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اتنا حسّاس، روشن خیال اور فطرت کا عاشق انسان نجانے کس کارواں سے بچھڑا ہے، اور یوں نگر نگر گھوم کر کس کو ڈھونڈتا ہے؟ ایک حسّاس دل جو پونچھ پر توپوں کے پہرے دیکھ کر تڑپ جاتا ہے، جو امن کی فاختاؤں کی اداسی کو محسوس کرتا ہے۔ ایک باشعور دماغ جو جانتا ہے کہ بھوک ہر جنگ، ہر مسئلے، ہر لڑائی کی جڑ ہے۔ جاوید صاحب لکھتے ہیں کہ ” اس ملک میں دو بھوکیں تواتر سے پھیلتی جا رہی ہیں۔ ایک غریبوں کی بھوک ہے، دوسری امرا ء کی، دوسری سیاست دانوں، جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی بھوک ہے۔ جو مٹنے میں نہیں آتی۔ یہاں کے سرمایہ دار کا علاج، کھانا ، رہائش اور سواری الگ ہے غریب کی زندگی بالکل الگ۔” ٹھیک ہی تو کہا، دنیا میں دو طبقے ہیں اور بھوک بھی دو طرح کی۔۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eیہ سفر نامہ پڑھتے ہوئے یوں لگا جیسے میں ساتھ ساتھ جنگلوں، وادیوں، پہاڑوں میں گھوم رہی ہوں، بہتی ندیوں کا شور، پرندوں کی چہچہاہٹ سن رہی ہوں اور دریاؤں کی فراخ دِلی دیکھ رہی ہوں۔ جاوید صاحب فطرت کی رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے تھے اور میں ان کے لفظوں میں چھپے احساس میں۔ یہ ان کی منظر نگاری اور اندازِ بیاں کا کمال ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہیں ہُوا کہ میں اُن حسین نظاروں سے کہیں دور بیٹھی ہوں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eوادیوں سے ہوتے ہوئے، کٹھن راستے اور سرنگیں عبور کر کے، جب بلندیوں پہ پہنچے تو وادیِ کیلاش کی انوکھی اور دلچسپ روایات اور رسم و رواج دیکھ کر لگا جیسے کسی اور ہی دنیا میں آ گئے ہوں۔ لیکن یہ دنیا تب بہت اپنی سی لگی جب یہ معلوم پڑا کہ ” درختوں پر پھول آئیں تو کیلاشوں کے چہرے بھی مسکراتے پھول بن جاتے ہیں۔ یہ چراگاہوں سے جا کر پھول چنتے ہیں اور ایک دوسرے کو پیش کرتے ہیں”۔ ” لڑکیاں پھولوں کے گجرے بنا بنا کر بالوں میں لگاتی ہیں۔ جنگلی پھول ان کا زیور ہیں “۔ “ہر کیلاشا لڑکی بانسری بجانے میں ماہر ہوتی ہے۔ کیلاشا عورتوں کے چہروں کو کاسمیٹک کا سامان خراب کرنے کا جرم تو کر سکتا ہے،سنوارنے کا نہیں”۔ مصنوعی پن اور دھوکے سے دور کی یہ دنیا کتنی اچھی اور سچی ہے۔ جہاں خوشیوں کے تہوار ہیں، موسیقی کے سُر بکھیرتی ندیاں ہیں، جہاں رقص ہے، بانسری کے ساز اور جنگلی پھولوں کے گجرے ہیں۔ ایسے حُسن کی بانہوں سے بھلا کون رخصت چاہے گا۔ اس فطری حسن کی آغوش اور وادیِ کیلاش کی زندہ تہذیب سے رخصت ہوتے ہوئے جاوید صاحب کو رنج تھا کہ وہ اسے پوری طرح سے نہ دیکھ پائے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eپورے سفر میں جاوید صاحب کی دوستوں سے شکایت رہی کہ وہ انہیں کسی بھی منظر میں پوری طرح ڈوبنے اور ماضی کے لوگوں اور تہذیبوں سے ہم کلام ہونے سے پہلے ہی وہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے اس ظلم کا بدلہ شاید جاوید صاحب نے ان کے بارے میں یہ کہہ کر لیا کہ ” اس سارے سفر میں انہیں کوئی چیز بھلی لگی تو وہ ڈیمپری تھی”۔ واقعی “سیاحت ہر سیاح کے بس کی بات نہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e”\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eجاوید صاحب کی جمالیاتی حِس، منظر نگاری اور اندازِ بیاں تو کمال کا ہے ہی جو دل کے تاروں کو چھیڑتا ہے لیکن فلسفیانہ اور گہری باتیں بھی ہیں۔ جو دماغ کو جھنجھوڑتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ “ماضی میں ایشیاء ایک دن سُرخ اور دوسرے دن سبز ہوتا تھا۔ پھر ایسا ہُوا، کہ پوری صدی ہی سرخ ہو گئی۔۔۔۔ “سرخ اور سبز مُلا ایک دوسرے سے یہ بھی نہ پوچھ سکے کہ آخر یہ جنگ کون جیتا؟؟؟ شاید شرماتے ہوں گے ” شرمانا تو بنتا ہے ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eپہاڑوں کا یہ بیٹا پہاڑوں کے ہر وصف کو جانتا ہے تبھی تو کہا کہ “پہاڑوں میں جلال ہی نہیں جمال بھی ہوتا ہے”۔ یہ پہاڑوں کا جمال ہی تو ہے جو ہمیں ان سے بلا کا عشق ہے۔ کوئی بھی حساس اور فطرت سے محبت کرنے والا انسان مصنوعی دنیا سے دور فطرت کی آغوش میں ہی سکون پاتا ہے۔ جاوید صاحب کو بھی وہیں سکون ملا۔ شاید انہیں وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے لگ رہا تھا کہ کوئی پیاری اور قیمتی چیز یہیں چھوڑے جا رہے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ” میرے دل میں اک خواہش پیدا ہوئی کہ میں آ کر یہیں رہنے لگوں۔ دنیا کی رنگینیاں چھوڑ کر یہیں آ جاؤں۔ پرندوں کے ساز سنوں، بہتی ندیا کے پانی کی نغمگی سنوں۔ راتوں کو تاروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر کسی گڈریے کی بانسری سے میٹھے بول سنوں”۔ مگر یہ ہو نہ سکا اور انہیں لوٹنا پڑا۔ شاید یہی زندگی ہے زندگی کے سفر میں بہت کچھ چھوٹ جاتا ہے۔ کچھ بہت پیارا، انمول مگر پھر بھی چلنا پڑتا ہے۔ اس امید کے سہارے کہ آگے زندگی کی رنگینیاں ہماری منتظر ہیں۔ چلتے رہنا ہی زندگی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003eبہترین منظر نگاری، دلکش اندازِ بیاں، اور گہری باتیں۔ فطرت کی آغوش میں پلا بڑھا یہ سفر نامہ ایک شاہکار ہے جو پڑھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 12.0pt; font-family: 'Urdu Typesetting';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Rohtas Books","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":50857671786772,"sku":null,"price":300.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0819\/1963\/9828\/files\/7b3a8c4e1de47560c678644c5b8e4e16.jpg?v=1748685899","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%da%a9%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d9%86-javeed-khan","provider":"RohtasBooks","version":"1.0","type":"link"}