{"product_id":"big-capital-in-an-unequal-world-the-micropolitics-of-wealth-in-pakistan-rosita-armytage-بندر-بانٹ-khalid-mehmood-advocate","title":"ایک غیر مساوی دنیا میں بڑا سرمایہ: پاکستان میں دولت کی مائیکرو پولیٹکس | روزیتا آرمیٹیج | بندر بانٹ | خالد محمود ایڈووکیٹ","description":"\u003cdiv class=\"product__description rte quick-add-hidden\"\u003e\n\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eعصر حاضر کے پاکستان کو سمجھنے کے لیے بہترین کتابوں میں سے ایک\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003ca href=\"https:\/\/www.amazon.com\/Big-Capital-Unequal-World-Micropolitics\/dp\/1789206162\/ref=cm_cr_arp_d_product_top?ie=UTF8\"\u003eBIG CAPITAL IN AN UNEQUAL WORLD: THE MICROPOLITICS OF WEALTH IN PAKISTAN\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e \u003c\/span\u003eاز\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003ca href=\"https:\/\/www.amazon.com\/s?ie=UTF8\u0026amp;field-author=Rosita+Armytage\u0026amp;search-alias=books\"\u003e\u003cspan lang=\"EN-US\" dir=\"LTR\"\u003eROSITA ARMYTAGE\u003c\/span\u003e\u003c\/a\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eداناؤں کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے تو کوئی دوسرا یہ کام کرے گا۔ وطنِ عزیز میں مسخ شدہ تاریخ کے ذریعے نوجوانوں کو لوری دے کر سلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ وہ حقیقت سے غافل رہیں اور اس کی آڑ میں سرمایہ دار، جاگیردار، تمن دار اور نوکر شاہی قومی وسائل پر ہاتھ صاف کر کے اپنی عیاشیوں کا سامان کرتے رہیں۔ لیکن یہ خدا کی قدرت ہے کہ جب آپ حقیقت کو چھپانے یا مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں سے محکوم طبقہ کو اس کا سراغ مل ہی جاتا ہے۔ آج کل وطنِ عزیز پر بھی یہ بات صادق آتی ہے جہاں قصیدہ گو مورخین اور فتویٰ فروش فقیہوں نے حقائق کو مسخ کرنے کی کمینگی کی ہے، وہیں بعض ملکی و غیر ملکی محققین نے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں خورشید کمال عزیز کی کتاب \"تاریخ کا قتل\"، وکیل انجم کی \"سیاست کے فرعون\" اور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی \"خاکی وردی\" جیسے درخشاں نام شامل ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نام نہاد ترقی پسند قلمکاروں نے اپنے سابقہ آقاؤں اور موجودہ حکمرانوں کی چیرہ دستیوں اور کالے کرتوتوں کو مصلحت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کوشش قارئین کے ایک محدود حلقے تک ہی رہی۔ اس کے برعکس، حق و صداقت کے علمبردار محققین نے پوری ایمانداری اور فرض شناسی سے سیاستدانوں اور فوجی و شہری نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ کو طشت از بام کر کے عوام کو حقیقت سے روشناس کرنے کی کوشش کی ہے، جنہیں وطنِ عزیز میں کافی پذیرائی ملی ہے کیونکہ ان صاحبِ نظر لوگوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے حقائق کو بے نقاب کر کے اشرافیہ کی منافقت کا پردہ چاک کیا اور انقلاب کی راہ ہموار کی۔ ان میں فاضل مصنفہ روزیٹا آرمیٹیج بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے علمی منصوبے پر کام کرنے کے دوران پورے ملک کے سیاسی، صنعتی، فوجی، علمی اور کاروباری حلقوں کا بغور مشاہدہ کر کے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی، جسے تعلیمی اور صحافتی شعبدہ بازی کے ذریعے عوام الناس سے چھپایا جاتا رہا ہے۔ فاضل مصنفہ نے مذکورہ بالا حلقوں کے سرکردہ لوگوں سے ملاقاتوں کے علاوہ ان خاندانوں کی مختلف سماجی تقریبات میں بھی شرکت کی، جس سے ان پر اشرافیہ کے ایسے پہلو آشکار ہوئے کہ کس طرح یہ لوگ خود کو عوام الناس اور باقی طبقات سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ یہی بالادستی اور احساسِ برتری کا تصور ایک زہر آلود خنجر ہے جو خلقِ خدا کی رگِ جاں میں اترا ہوا ہے۔ فاضل مصنفہ نے اپنے مشاہدے سے واضح کیا کہ صنعتکار، سیاستدانوں سے گٹھ جوڑ کرنے کے بجائے فوجی افسر کے ساتھ رشتہ قائم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، شاید انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اسی طبقے کی وطنِ عزیز کے طول و عرض پر حکمرانی ہے، باقی سب تو مہرے ہیں جو ان کے اشارے پر حرکت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں مصنفہ نے سیالکوٹ شہر کو نوجوان فوجی افسروں کا سسرالی شہر قرار دیا ہے۔ خاندانی پس منظر کے پیش نظر یہ طبقہ برطانوی سامراج کے قائم کردہ اداروں میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور وہاں سے فارغ ہو کر ملک کے بڑے بڑے سیاسی، معاشی، صنعتی، علمی، کاروباری اور نوکر شاہی عہدوں پر براجمان ہو کر ایک خاص طبقہ کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اسی طرح یہ طبقہ اپنی عیاشیوں کا سامان کرنے کے لیے ملک میں بڑے بڑے کلبوں کی رکنیت حاصل کرتا ہے جہاں ہر امیر آدمی کو جانے کی اجازت نہیں، خواہ اس کے پاس اربوں روپے ہی کیوں نہ ہوں، کیونکہ فاضل مصنفہ کے مطابق ان کلبوں کی رکنیت کے لیے خاص قسم کی پہچان درکار ہوتی ہے اور یہ سہولت وہی لوگ حاصل کر سکتے ہیں جن کی ماضی میں برطانوی حکمرانوں کے درباروں میں کسی نہ کسی حوالے سے رسائی رہی ہے۔ اس گروہ کے مقابلے میں نیا امیر طبقہ جسے مصنفہ \"نئے راجے\" کہہ کر پکارتی ہے، نے اپنے احساسِ کمتری کو مٹانے یا کم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب میں بڑے بڑے کلب قائم کر لیے ہیں جن کی فیس۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq'; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cb\u003e\u003cu\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eISBN 9786273001692\u003c\/span\u003e\u003c\/u\u003e\u003c\/b\u003e\u003cb\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/b\u003e\u003c\/p\u003e\n\n\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":47169527840865,"sku":null,"price":675.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0716\/2449\/1105\/files\/9.jpg?v=1790425446","url":"https:\/\/rohtasbooks.com\/ur\/products\/big-capital-in-an-unequal-world-the-micropolitics-of-wealth-in-pakistan-rosita-armytage-%d8%a8%d9%86%d8%af%d8%b1-%d8%a8%d8%a7%d9%86%d9%b9-khalid-mehmood-advocate","provider":"Rohtas Books","version":"1.0","type":"link"}