جمال عبدالناصر: قاہرہ دستاویز، محمد حسنین ہیکل
جمال عبدالناصر: قاہرہ دستاویز، محمد حسنین ہیکل
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
جمال عبد الناصر 15 جنوری 1918 کو اسکندریہ کے محلے باکوس کی ایک کچی آبادی میں واقع ایک کچے مکان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محکمہ ڈاک میں پوسٹ ماسٹر تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سمندر کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں الخطاطیبہ میں حاصل کی، جبکہ ہائی اسکول کی تعلیم کے لیے وہ قاہرہ میں اپنے چچا کے پاس چلے گئے، جو حال ہی میں برطانوی قید سے رہا ہوئے تھے۔ ہائی اسکول مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے قانون کی تعلیم کے لیے لاء کالج میں داخلہ لیا، جہاں سے وہ رائل ملٹری اکیڈمی چلے گئے اور فوج میں کمیشن حاصل کر لیا۔
23 جولائی 1952 میں جمال عبد الناصر اور 89 دوسرے فوجی افسران نے ایک پرامن انقلاب کے ذریعے شاہ فاروق کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا اور شاہ فاروق کو ملک بدر کر دیا۔ نجیب کو مصر کا کٹھ پتلی حکمران مقرر کیا گیا جس کی ڈوریاں جمال عبد الناصر کے زیر کمان کام کرنے والی گیارہ رکنی کمانڈ کونسل کے ہاتھ میں تھیں۔ 1954 کے اوائل میں جنرل نجیب کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور حکومت کی باگ ڈور براہ راست جمال عبد الناصر نے سنبھال لی۔ جنوری 1956 میں انہوں نے مصر کو سوشلسٹ عرب ریاست قرار دیا اور جون کے انتخابات میں مصر کے صدر منتخب ہو گئے۔
جمال عبد الناصر کی سب سے بڑی کامیابی اپنے طاقتور مخالفین، جن میں کمیونسٹ، یہودی، مسلم انتہا پسند، پرانی سیاسی پارٹیاں، مخالف فوجی عناصر، زمین سے محروم کیے گئے جاگیردار اور برطانوی نوآبادیاتی باقیات شامل تھے، کی موجودگی میں 18 سال تک بلا شرکتِ غیرے مصر کا واحد سیاسی رہنما بنے رہنا ہے۔ اگرچہ اپنی عوامی زندگی میں جمال عبد الناصر ایک انقلابی اور شدت پسند لیڈر کے طور پر نظر آتے ہیں، لیکن ذاتی زندگی میں وہ ایک روایت پسند اور سادہ انسان تھے۔ کوئی بھی دوسرا عرب لیڈر عرب عوام کی وہ والہانہ محبت اور حمایت حاصل نہ کر سکا جو جمال عبد الناصر کو اپنے اقتدار کے آخری پندرہ سالوں میں حاصل رہی۔ دو جنگوں میں بری طرح شکست سے دوچار ہونے کے باوجود، جو مصر کی مکمل تباہی و بربادی کا باعث بنیں، ان کی عوامی مقبولیت میں کوئی کمی نہ آ سکی۔ وہ ہمیں ایک ایسے دیومالائی حکمران کے طور پر نظر آتے ہیں جس کی مثال مصر کی ہزاروں سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ لیکن اپنی تمام تر سحر انگیزی اور خداداد صلاحیتوں کے باوجود وہ اپنے "متحدہ عرب دنیا" کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہ کر سکے اور 1970 میں اپنی موت سے پہلے سوویت یونین کی عسکری حمایت کی خاطر انہیں مصر کی سیاسی آزادی کی بھی کسی حد تک قربانی دینا پڑی۔
صفحات 400
شیئر کریں
