1
/
کا
1
اور ڈان بہتا رہا
اور ڈان بہتا رہا
عام قیمت
Rs.800.00 PKR
عام قیمت
Rs.1,000.00 PKR
فروخت کی قیمت
Rs.800.00 PKR
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
ناول "اور ڈان بہتا رہا"
مصنف-: "میخائل شولوخوف"
مترجم-: "مخمور جالندھری"
"انقلابیوں کے اپنے ہی ہم وطن کاسکوں کے ہاتھوں قتل ہو جانے سے قبل کے چند لمحات۔"
"قیدی کندھے سے کندھا ملائے بیٹھے تھے۔ ایک کونے میں پوٹیلکف بھی تھا۔ وہ پتلون سے کاغذ کے نوٹ نکال کر پھاڑ رہا تھا۔ اس نے کریفاشلیکف کا بازو پکڑ کر کہا، 'ہم سے دھوکا ہوا ہے سؤر... جب میں لڑکا تھا تو باپ کے ساتھ جنگل میں شکار کھیلنے جایا کرتا تھا۔ بطخیں بیٹھی دیکھتا تو ان پر شست باندھتا، لیکن مجھ سے نشانہ ٹھیک نہ بیٹھتا اور میں بے حد شرمندہ ہوتا۔ یہاں بھی میں نے حالات کو خراب کر دیا ہے۔ اگر ہم راستوف سے تین دن پہلے آ جاتے تو آج موت کے منہ میں نہ ہوتے۔ ہم نے حالات کی رو بدل دی ہوتی۔'"
کریفاشلکیف بولا، "مارو گولی، وہ ہمیں قتل کرتے ہیں تو کر لیں۔ میں مرنے سے نہیں ڈرتا، اگر خوف ہے تو مجھے یہ ہے کہ دوسری دنیا میں ہم ایک دوسرے کو پہچان نہ سکیں گے فیوڈر! ہم اور تم وہاں ہوں گے لیکن اجنبیوں کی طرح ملیں گے۔"
"مذاق نہ کرو کریفاشلکیف...!"
بنچک دروازے سے لگا بیٹھا تھا اور وہ دروازے کی دراز میں سے باہر دیکھ رہا تھا۔ آج اسے ماں یاد آ رہی تھی لیکن درد اور تکلیف کی چبھن نے اس کے خیالات کو کسی اور ہی طرف موڑ دیا۔ اسے انا (اس کی محبوبہ) یاد آنے لگی۔ انا کی یاد سے اسے کچھ قرار سا آ گیا۔ اب اس کی ریڑھ کی ہڈی کا درد بھی جاتا رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے لیکن موت اسے پیغامبرِ سکون دکھائی دے رہی تھی۔ ایک تکلیف دہ مسافت کا اختتام نظر آ رہا تھا۔
دور ایک کونے میں قیدیوں کا گروہ مصروفِ گفتگو تھا۔ وہ عورتوں کے متعلق ہنستے ہوئے اور افسردہ لہجے میں باتیں کر رہے تھے۔ عشق و محبت کی باتیں اور دوسری عارضی خوشیوں کے تذکرے چھڑے ہوئے تھے جن سے وہ دوچار ہو رہے تھے۔ کنبوں کی باتیں، دوستوں کی باتیں اور رشتہ داروں کی باتیں، غرض باتیں ہی باتیں۔۔۔ برے اور اچھے گیہوں کا ذکر، گیہوں کے اتنے بڑے پودے کہ کوا بھی ان میں سے اڑے تو دکھائی نہ دے۔۔۔ واڈکا شراب کی صفات۔۔! جسمانی و اخلاقی طور پر وہ سب کے سب تباہ ہو چکے تھے۔ کھڑے کھڑے، بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے تھے۔
ابھی صبح ہونے ہی والی تھی کہ ان میں سے ایک سسکیاں بھرنے لگا اور زور زور سے رونے لگا۔
معمر آدمی کا رونا، جسے آنسوؤں کی نمکینی چکھے برسوں گزر چکے ہوں، نہایت اندوہناک بات ہے۔ بے شمار آوازیں آئیں۔
"چپ رہو، خدا تمھیں غارت کرے۔"
"مرد ہو یا عورت؟"
"یہاں مرد سوئے ہوئے ہیں اور ادھر وہ ہوش و حواس کھو رہا ہے۔"
مرد نے ناک پونچھی اور خاموش ہو گیا۔ سبھی سگریٹ پی رہے تھے لیکن کوئی بول نہ رہا تھا۔ ہوا بھاری ہو چکی تھی۔ اجسام کا پسینہ ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔
گاؤں میں ایک مرغ کی بانگ نے صبح کی آمد کا پتا دیا۔ کوٹھڑی کے باہر قدموں کی آواز سنائی دی۔
سنتری نے پوچھا، "کون ہے؟"
"دوست۔۔ ہم پوٹیلکف کے آدمیوں کے لیے قبریں کھودنے آئے ہیں۔"
کوٹھڑی میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔"
شیئر کریں

- 5 stars: 2 (67%)
- 4 stars: 1 (33%)
- 3 stars: 0 (0%)
- 2 stars: 0 (0%)
- 1 star: 0 (0%)
T
TAUQEER ARSHAD اور ڈان بہتارہا | Or Dan byhata raha
M
Muhammad Bilal I have been purchasing books from Fiction House Publishers since graduation. It is one of the best experience of my life. Quality of the books is top notch , also with sensible prices. Sometimes I order some books and they inform me that they are going to offer discounts on those books. So sincere people.... 🙏
I recommend others to order book from them...
S
Shakirullah Afridi Hard cover book, best page quality, no misprinting and delivery on time... Highly recommended