آبِ نیل پر آوارگی | نجیب محفوظ | Adrift on the Nile | Naguib Mahfouz
آبِ نیل پر آوارگی | نجیب محفوظ | Adrift on the Nile | Naguib Mahfouz
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
"کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں کس چیز سے خائف ہوں؟ کہ خدا ہم سے ناراض ہے۔"
"جس طرح ہر شے دوسری شے سے نالاں ہے۔"
"بالکل اسی طرح جیسے اس سے نالاں ہونا، بذاتِ خود نالاں ہونے سے نالاں ہونا ہے۔"
آبِ نیل پہ آوارگی ۔۔۔۔ نجیب محفوظ
کتاب....... آبِ نیل پہ آوارگی ۔۔۔مصنف..... نجیب محفوظ
تبصرہ...... کوثر اسلام
نجیب محفوظ عرب اور انگریزی جاننے والی دنیا میں بیک وقت سب سے ممتاز، سنجیدہ، مقبول ترین اور مستند ناول نگار ہیں۔ اگر ہم انہیں عرب معاشرے کا نباض کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔
زیرِ نظر ناول نوجوان طبقے سے متعلق ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذہین اور باشعور ہے، مگر اس کے ساتھ عیش پرست اور نشے کی عادی ہے، جس کی وجہ سے وہ اخلاقی اور روحانی طور پر پست اور دیوالیہ ہے۔
انیس زکی ایک سول ملازم ہے، جب ڈائریکٹر اسے غلطی پر ڈانٹتا ہے تو وہ چھٹی کے بعد کشتی گھر (بجرے) پر آجاتا ہے۔ یہاں اس کے دوست رجب القعدی، خالد عزوز، علی السید، مصطفی رشید اور احمد نصر وغیرہ آ جاتے ہیں۔ یہ سب کے سب اعلیٰ ملازم ہیں اور ہر شام کشتی گھر میں اکٹھے ہوتے ہیں۔
یہاں آ کر وہ دنیا اور اس کے تمام غم، یہاں تک کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں... بس وہ ہوتے ہیں اور حقہ۔
معاشرے کی اقدار اور روایات سے فرار کے لیے یہ کشتی گھر ان کے لیے بہترین جگہ ہے۔
(ناول پڑھتے ہوئے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کبھی کبھی ہم بھی فرار کے لیے ناولوں اور کتابوں کا سہارا لیتے ہیں۔)
ایک دن ایک حادثہ پیش آ جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی یہ بیٹھک بکھر جاتی ہے۔
کرداروں کے درمیان مکالمے اتنے جاندار اور شاندار ہیں کہ پڑھتے وقت قاری گرد و پیش سے بے خبر ہو جاتا ہے، اور خود کو اس محفل کا ایک فرد سمجھنے لگتا ہے۔
شیئر کریں
