مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 6

آزاد خیالی کی عالمی روایت | صدیوں کا سفر: روشن خیالی کے ایک نئے عہد کی جانب

آزاد خیالی کی عالمی روایت | صدیوں کا سفر: روشن خیالی کے ایک نئے عہد کی جانب

عام قیمت Rs.900.00 PKR
عام قیمت Rs.1,300.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.900.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد

آزاد خیالی کی عالمی روایت | Freethought Across the Centuries: Toward a New Age of Enlightenment

جیرالڈ اے ۔ لاروئے

مترجم: ڈاکٹر امجد علی بھٹی

کتاب آزاد خیالی کے متعلق:

یہ تنقیدی سوچ اور آزادانہ دلائل دینے کے بارے میں ہے۔ یہ اُن بہادر مردوں اور عورتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے بادشاہت اور کلیسا، دونوں کے دعووں، خیالات اور عقائد پر سوالات اٹھانے، ان کو چیلنج کرنے، یہاں تک کہ انہیں شکست دینے کی جرات کی۔ یہ کتاب بنی نوع انسان کی زندگی کے معانی اور مقاصد سمجھنے سے متعلق ہے اور آخر میں یہ اُس سوچ اور ردِعمل کی حمایت کرتی ہے جس نے جمہوریت اور مرد و زن کے حقِ خود اختیاری کو جنم دیا تاکہ وہ اپنی بہترین استعداد کے مطابق آگے بڑھ سکیں؛ اس کے ساتھ ساتھ وہ دوسروں کو (خود سے) مختلف رہنے اور اپنی رائے کا اظہار کھلے عام اور انتقام کے خوف کے بغیر کرنے کی آزادی دیں۔

 

"آزاد خیالی" کی اصطلاح انگلستان میں سترہویں صدی کے اختتام پر وجود میں آئی۔ آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں آزاد خیال کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

"ایسا شخص جو مذہبی معاملات کے سلسلے میں اپنے دلائل کو با اختیار لوگوں یا اداروں کے قابو میں نہیں دیتا۔" یہ ایک ایسا منصب ہے جس کا اٹھارویں صدی کے آغاز پر بالخصوص ملحدوں اور عیسائیت کو رد کرنے والے دوسرے افراد نے اعلان کیا تھا۔

"ویبسٹرز نیو کولیجیٹ ڈکشنری" اس لفظ کو دو الفاظ 'Free' اور 'Thought' میں تقسیم کرتی ہے اور اس کے معنی 'آزاد سوچ یا غیر راسخ سوچ' بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق 'آزاد خیال' وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے خیالات کی بنیاد کسی اتھارٹی سے الگ رہ کر دلائل پر رکھتا ہے، خاص طور پر وہ جو مذہبی عقائد کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور انہیں رد کرتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس کے مترادف "Atheist" (دہریہ) دیکھیں۔ دوسری امریکی لغات بھی ایسے ہی معانی بیان کرتی ہیں۔

پس آزاد خیالی کا گہرا تعلق 'تنقیدی سوچ' اور شاید 'آزاد سوچ' سے بھی ہے اور یہ دونوں ہی ایک فرد کو 'اپنے بارے میں سوچنے' کی دعوت دیتی ہیں تاکہ وہ دلائل پر مبنی نتائج پر پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ یہ کھلی تحقیق کرنے اور دوسروں کے عقائد اور خیالات پر آنکھیں بند کرکے یقین نہ کرنے کا پرچار کرتی ہے۔ آزاد خیالی اس طرح کے بنیادی سوالات ابھارتی ہے جیسے:

__ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے؟

__اس نتیجے کے حق میں کون سے شواہد موجود ہیں؟

__اس عقیدے کی بنیاد کن مفروضوں پر ہے اور ہم ان کی کس طرح تصدیق کرسکتے ہیں؟ وغیرہ

یہ سب پہلے باب 'آزاد خیالی کے متعلق چند گزارشات' سے لیا گیا ہے جس میں آزاد خیالی کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ کتاب 488 صفحات اور بائیس ابواب پر مشتمل ہے۔

مکمل تفصیلات دیکھیں
  • 5 stars: 1 (100%)
  • 4 stars: 0 (0%)
  • 3 stars: 0 (0%)
  • 2 stars: 0 (0%)
  • 1 star: 0 (0%)
M
Mohsin Abbas
Freethought Across the Centuries: Toward a New Age of Enlightenment

کتاب میں مذہب عقیدے اور رسوم کا سرسرسی جائزہ لیا گیا ہے خاص کر کے کرسچن مسلم یہودی عقیدہ کو مصری یونانی ایرانی اور دوسری پرانی تہذیب کے خیالات کو اپنے نام سے نام بدل کر استعمال میں لاتے دکھایا گیا ہے۔
بہرحال کتاب میں ازادخیالی کو مذہبی خیالات سے آزادی کے طور سے ہی صرف دکھایا گیا ہے ۔