آپ بیتی شہر لاہور از ڈاکٹر چندر تریکھا
آپ بیتی شہر لاہور از ڈاکٹر چندر تریکھا
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
جب میں نے کتاب "لاہور: ایک شہر کی آپ بیتی" پڑھی تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ ایک اہم دستاویز ہے، جس میں تاریخ کے حوالوں کے ساتھ لاہور خود متکلم کے صیغے میں نہ صرف اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور برسوں پر محیط تبدیلیوں، لوٹ مار، جنگوں اور تعمیرات کا ذکر کرتا ہے، بلکہ اس میں لاہور سے جڑی نامور شخصیات، جیسے حضرت داتا گنج بخش، میاں میر، مادھو لال حسین، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، نورجہاں وغیرہ کے بارے میں بھی مستند معلومات موجود ہیں۔ اور یوں اس کتاب کا ترجمہ شروع ہوا۔۔
ڈاکٹر صاحب 1988 میں پاکستان آئے اور لاہور کی سیر کی۔ میری ان سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کا خاندان پاکپتن کے علاقے سے ہجرت کر کے ہندوستان گیا تھا۔ یہ جو بٹوارہ ہے نا، اس نے دونوں طرف کے لوگوں کو اتنے دکھ اور تکلیفیں دی ہیں جو ان سے جڑے لوگ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم اپنے والدین سے یہ سارے حالات سنتے رہے اور اب ہم اپنے بچوں کو سناتے ہیں۔ بہرحال، ڈاکٹر صاحب نے جی بھر کر لاہور کی سیر کی اور واپس جا کر انہوں نے لاہور شہر کی آپ بیتی لکھ دی۔ تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں لاہور ہی پنجاب کا سب سے بڑا اور اہم ادبی و معاشی مرکز تھا۔ دہلی کے بعد لاہور کو ہی سب سے اہم سمجھا جاتا تھا۔ وہ جو مقولہ ہے "جِس لہور نئیں ویکھیا، او جمیا ای نئیں" (جس نے لاہور نہیں دیکھا، وہ پیدا ہی نہیں ہوا)، وہ ایسے ہی مشہور نہیں ہو گیا تھا۔ میرے ایک اور دوست جو اس وقت دہلی یونیورسٹی کے پی آر او ہیں، ان کے والد صاحب نے بی اے لاہور سے کیا تھا۔ وہ مرتے دم تک لاہور کو یاد کرتے رہے اور اردو پڑھنے کے دیوانے تھے۔ یہ کتاب ہمیں ایک ہندوستانی کی نظر سے دیکھا گیا لاہور دکھاتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ جو انہوں نے تاریخ کے حوالے دیے ہیں، ان سے اس کتاب کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
میرے لیے یہ امر باعثِ اعزاز ہے کہ مجھے اس اہم تصنیف کو ہندی سے اردو کے قالب میں ڈھالنے کا موقع ملا۔ یہ کتاب محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے عہد کی فکری، ادبی اور تاریخی روایت کی آئینہ دار ہے۔ اسی لیے اس کے ترجمے کا عمل میرے نزدیک ایک ذمہ دارانہ علمی و ادبی فرض تھا، جس میں اصل متن کی روح، اسلوب اور تہذیبی پس منظر کو برقرار رکھنا بنیادی مقصد رہا۔
ہندی اور اردو دونوں برصغیر کی ہم رشتہ زبانیں ہیں، جن کی جڑیں ایک ہی تہذیب کی مٹی میں پیوست ہیں۔ تاہم، ان کے اسالیبِ بیان، محاورات اور ادبی رنگ میں بعض باریک فرق موجود ہیں۔ اس فرق کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میں نے اس ترجمے میں ایسی زبان اختیار کرنے کی کوشش کی ہے جو نہ صرف بامحاورہ اور رواں ہو بلکہ علمی و ادبی وقار کی حامل بھی ہو۔ جہاں ضروری محسوس ہوا، وہاں مفہوم کی وضاحت اور تاریخی تناظر کی درست ترجمانی کے لیے مناسب اسلوبی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔
اختر مرزا
شیئر کریں
