مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 3

ادب اور نفسیات | دیوندر اسر

ادب اور نفسیات | دیوندر اسر

عام قیمت Rs.500.00 PKR
عام قیمت Rs.700.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.500.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد

پیش لفظ

ادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کو واضح کرنے کے لیے گوناگوں نظریات کے مطالعے اور تجزیے کی ضرورت آج کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ادبی مسائل پر بحث کے دوران میں سماجی، سیاسی، سائنسی، مذہبی اور اخلاقی نکات اٹھائے جاتے رہے ہیں، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب بھی ادیب کی شخصیت اور اس کے تخلیقی عمل پر بحث ہوگی، نفسیات کا ذکر ناگزیر ہوگا۔ انسان کا ہر شعوری عمل بنیادی طور پر اس کے ذہن سے وابستہ ہے۔ چنانچہ اس کے تخلیقی عمل کو سمجھنے کے لیے اس کی ذہنی ساخت اور اس کے ذہنی عمل کا مطالعہ ضروری ہے۔ علمِ نفسیات کے ذریعے ہم ادیب کا مطالعہ اس کی انفرادی اور مثالی (ٹائپ) حیثیت سے کرنے کے بعد اس کے تخلیقی عمل کے سرچشمے کا راز پا سکتے ہیں اور اس طرح ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اس کا تخلیقی عمل کس طرح پایہ تکمیل کو پہنچا ہے اور اس کا اظہار ایک مخصوص شکل میں ہی کیوں ہوا ہے؟

ادب میں نفسیاتی صداقت سے کیا مراد ہے؟ ادبی تخلیقات میں نفسیاتی ٹائپ اور نقطہ نظر کو کیا مقام حاصل ہے؟ ادیب داخلی یا خارجی محرکات سے جو محسوسات اخذ کرتا ہے، انہیں کس طرح ذہنی طور پر فن کے پیکر میں ڈھالتا ہے اور پھر کیسے انہیں خارجی شکل میں پیش کرتا ہے؟ کیا یہ سوال محض تکنیک سے متعلق ہے یا اس کی کچھ نفسیاتی وجوہ بھی ہوتی ہیں؟ کسی ادیب کی تخلیقی قوت کو بروئے کار لانے کے لیے کون سے خارجی یا داخلی محرکات ضروری ہوتے ہیں اور مختلف ادیبوں میں ان کی ماہیت یکساں رہتی ہے یا بدل جاتی ہے؟ کیا تخلیقی عمل شعوری ہوتا ہے یا لاشعوری؟ کیا ادیب نارمل انسان ہوتا ہے یا ابنارمل؟ ادیب اپنی ذہنی ساخت کی مناسبت سے ادب اور سماج سے کس طرح منسلک ہوتا ہے؟ ادیب اپنی تخلیقات سے کیوں اور کس طرح قارئین پر اثر انداز ہوتا ہے؟ اس نوعیت کے جملہ سوالات کا تعلق ادب اور نفسیات کے باہمی رشتے کے علاوہ علم کے دوسرے شعبوں سے بھی ہے۔ جدید ادب نفسیات کے نئے نظریوں کی روشنی میں فرد اور اس کے ذہنی عمل میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینے لگا ہے۔ جدید ادب میں ایک مخصوص نظریہ تو کردار کی ذہنی کیفیت کے بیان ہی کو اپنا مقصود سمجھتا ہے۔ جدید ادب میں ہمیں اکثر اوقات فرد، اس کے ذہن، اس کی لاشعوری قوت اور ذہنی کیفیت کے گوناگوں تجربات کا بیان ملتا ہے۔ ادب میں ان رجحانات کی اشاعت کا باعث فرائیڈ، یونگ اور ایڈلر کے نظریات ہیں، لیکن یہ کہہ دینا صحیح نہیں کہ فلاں ادیب فرائیڈ پرست ہے یا یونگ پرست۔ عموماً ادیب کی تخلیقات میں کم و بیش ان تمام نظریات کی آمیزش ملتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ بنیادی طور پر کسی ایک ماہرِ نفسیات سے متاثر ہوا ہو۔

مکمل تفصیلات دیکھیں