امتیاز نامہ | امتیاز گلیانوی
امتیاز نامہ | امتیاز گلیانوی
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
تبصرہ
کتاب کا نام: امتیاز نامہ
مصنف: امتیاز گلیانوی
تبصرہ نگار: بسماہ خان
گلیانوی صاحب سے میرا تعارف فیس بک سے ہوا، یہ میرے لیے ایک نیا نام تھا۔ برقی دیوار پر ان کی تحاریر پڑھنے کو ملتی رہیں، مزید تعارف ہوا تو پتا چلا کہ آپ مصنف بھی ہیں۔
کتابوں کی شیدائی ہونے کی وجہ سے فوراً کتاب مانگ لی۔ لگتا تھا کہ جواب نہیں آئے گا لیکن جواب کے ساتھ وعدہ بھی ملا کہ پاکستان پہنچ کر کتاب بھجوا دیں گے، وعدہ پورا کیا اور مجھے کتاب موصول ہو گئی۔
امتیاز نامہ کیا ہے؟
اس کتاب کو میں نے ایک آپ بیتی (آٹو بائیوگرافی) کے طور پر لیا اور پڑھنا شروع کیا۔ اب تک جو بھی ایسی کتابیں پڑھی ہیں ان میں مصنف اکثر غریب ہوتا تھا، پھر محنت کر کے امیر بنتا ہے۔ مگر امتیاز صاحب کے حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ وہ بچپن سے امیر ہیں۔ اس بات نے میرا تجسس بڑھا دیا کہ آگے کیا ہوا ہوگا۔ پہلے ہی امیر ہیں تو کتاب کیوں لکھ ڈالی۔
مطالعہ جاری رکھا تو دلچسپی بھی بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ایام کو بہت خوبصورتی سے قارئین کے سامنے رکھا ہے، جس سے ہر طبقے کا فرد اپنے حالات کے مطابق سبق حاصل کر سکتا ہے۔
دوسرے ممالک میں جا کر کام کرنے والوں کے حالاتِ زندگی کو بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے، جن سے باہر جا کر قسمت آزمانے والے استفادہ کر سکتے ہیں۔ اہم یہ کہ انہوں نے تمام معلومات نہ کسی گوگل سے حاصل کیں اور نہ ہی کسی معلوماتی کتاب سے لیں، بلکہ اپنے ذاتی تجربات بیان کیے جس سے ایک حقیقی منظر قارئین کے سامنے آتا ہے۔ اور یہی بات مجھے اس میں منفرد لگی۔ مصنف نے اپنے اچھے دنوں کو کیسے برتا، اپنے مشکل دنوں کو کیسے گزارا اور پھر سے اپنے اچھے دنوں کو کیسے گزار رہے ہیں، یہ سب آپ کو پڑھنے کو ملے گا۔ کتاب بچپن سے اب تک تمام واقعات کی ایک ترتیب کے بجائے مختلف عنوانات پر لکھے گئے مضامین کی طرح ہے، جو آپ کو کبھی مصنف کے بچپن میں لے جاتی تو کبھی لڑکپن میں تو کبھی جوانی میں۔ کبھی آپ سعودیہ کی سیر کریں گے تو کبھی اٹلی کی اور کبھی گلیانہ کی۔ اس سے پہلے مجھے لگا گلیانہ شاید کسی اور ملک میں ہے۔
گلیانوی صاحب سے میں نے ایک سوال کیا کہ جناب! آپ ایک ادیب ہیں تو آپ نے خود کو پوٹھوہار تک محدود کیوں رکھا؟
اس کا جواب بہت اچھا ملا مجھے کہ میں ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بیٹا ہوں، ایک شوہر ہوں اور ساتھ ساتھ ایک باپ بھی ہوں، مجھے یہ ذمہ داریاں بھی نبھانی ہیں۔
(بہت اچھی سوچ؛ بڑھاپے میں حکومتی امداد کا منتظر رہنے سے تو بہت اچھا ہے۔)
اس کتاب میں خطہ پوٹھوہار سے تعارف ہوا جس کے بارے میں میری معلومات مطالعہ پاکستان کی نصابی کتاب تک ہی محدود تھیں۔ خطہ پوٹھوہار سے متعلق امتیاز صاحب کی کتابیں بھی موقع ملا تو ضرور پڑھوں گی۔ انشاءاللّٰہ
شیئر کریں
