انفرادی شعور اور اجتماعی زندگی | شمیم حنفی
انفرادی شعور اور اجتماعی زندگی | شمیم حنفی
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
انفرادی شعور اور اجتماعی زندگی | شمیم حنفی
جب لکھنے بیٹھا تو دماغ کو منتشر پایا۔ کوشش کے باوجود ہندوستان کو پاکستان سے اور پاکستان کو ہندوستان سے علیحدہ نہ کر سکا۔ بار بار دماغ میں یہ الجھن پیدا کرنے والا سوال گونجتا... کیا پاکستان کا ادب علیحدہ ہوگا؟ اگر ہوگا تو کیسے ہوگا؟ وہ سب کچھ جو سالم ہندوستان میں لکھا گیا اس کا مالک کون ہے؟ کیا اس کو بھی تقسیم کیا جائے گا؟ کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے مسائل ایک جیسے نہیں؟ میں اپنے عزیز دوست احمد ندیم قاسمی سے ملا۔ سب میری طرح ذہنی طور پر مفلوج تھے۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ یہ جو اتنا زبردست بھونچال آ رہا ہے، اس کے کچھ جھٹکے آتش فشاں پہاڑ میں اٹکے ہوئے ہیں۔ باہر نکل آئیں تو فضا کی نوک پلک درست ہوگی۔ پھر صحیح طور پر معلوم ہوگا کہ صورتِ حالات کیا ہے۔ سوچ سوچ کر میں عاجز آ گیا۔ چنانچہ آوارہ گردی شروع کردی۔
صفحہ نمبر ۲۱
شیئر کریں
