انقلابی سیاسی نظریات (دو جلدیں) از خورشید جاوید
انقلابی سیاسی نظریات (دو جلدیں) از خورشید جاوید
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
مصنف: خورشید جاوید
سماجی نظام کے قیام کے وقت سے ہی انقلاب اور تبدیلی کی خواہش نے مظلوم و محکوم انسانوں کے دلوں میں جنم لیا۔ اسی لیے مفکرین، دانشوروں اور سیاسی کارکنوں کے درمیان انقلاب کی نوعیت اور تبدیلی کے طریقہ کار پر بحث و مباحثہ جاری رہا۔
انقلابِ فرانس کے بعد سماج میں تبدیلی کی نوعیت پر بحث و مباحثے اور پمفلٹ بازی نے ریاست، معیشت، طبقات اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں مختلف نظریات و تصورات تشکیل دیے۔ ان نظریات کی باہمی آویزش نے دورِ حاضر میں جمہوریت اور سماجی فلاح و بہبود کے تسلیم شدہ افکار کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ کتاب انہی نظریات اور ان کے نظریہ سازوں کے حالاتِ زندگی پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ انارکسزم، مارکسزم، سوشل ازم، کمیونزم اور قانون کی حکمرانی جیسے فلسفوں کے آغاز و ترقی پر مکمل معلومات فراہم کرتی ہے۔ کتاب میں وسطِ انیسویں صدی سے شروع ہو کر پہلی جنگِ عظیم کے خاتمے تک کے مفکرین و قائدین شامل ہیں، کیونکہ یہی وہ عہد تھا جس کے دوران تشکیل پانے والے سیاسی نظریات آج بھی سیاست، معیشت اور انقلابی جدوجہد کو متاثر کرتے ہیں۔
عہدِ حاضر میں ہمارے ملک میں انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ گونج رہا ہے، نت نئے گروہ سماجی طاقت حاصل کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، بین الاقوامی سطح پر نئی صف بندیاں اور نئے توازن قائم ہو رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں کی ماہیت سمجھنے میں یہ کتاب مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک سمیت تمام ریاستوں کے امورِ حکمرانی گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی اخراجات کی ادائیگی عوام کے استحصال سے ہوتی ہے۔ حکومت کا نظام کیسا ہی کیوں نہ ہو، روز افزوں بڑھتے انتظامی و معاشی اخراجات کی فراہمی صرف ٹیکسوں سے ناممکن ہو گئی ہے۔ مجبوری میں تعلیم، صحت، تفریح، پبلک ٹرانسپورٹ، یہاں تک کہ سیکیورٹی کے شعبے بھی سرمایہ داروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جن کا واحد مقصد منافع کا حصول ہے۔ اس لیے متوسط اور غریب طبقوں کی زندگی کا زیادہ تر وقت تعلیم، صحت اور تفریح کے اخراجات پورے کرنے میں گزر جاتا ہے۔ یہ تضاد معاشرتی بے چینی اور انتشار میں اضافہ کرتا رہے گا اور تب تک ختم نہیں ہوگا جب تک ایک نیا معاشرہ تشکیل نہیں دیا جاتا۔ اس نئے معاشرے کے خدوخال کا تصور کرنے کے لیے ان فلسفیوں کا مطالعہ ضروری ہے جنہوں نے سماجی و معاشی نظام کو سمجھنے کی کوشش کی۔
اس کتاب میں شامل ہر فلسفی نے اپنے تاریخی حالات اور ملکی سیاست کے تقاضوں کے مطابق سماجی حالات کی تشریح و تعبیر کی۔ غربت کی وجوہات تلاش کرنے اور امارت و غربت میں فرق ختم کرنے کے نظریاتی سفر میں انہوں نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ ان کے افکار کا مطالعہ ممکن ہے کہ ہمیں اپنا نقطہ نظر بنانے میں مدد دے سکے۔
شیئر کریں
