تاریخ کی جمالیات | مجنوں گورکھپوری
تاریخ کی جمالیات | مجنوں گورکھپوری
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
مصنف: تعارف
مجنوں گورکھپوری اردو کے ممتاز ترین نقاد، شاعر، مترجم اور افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے ترقی پسند ادب کو تنقیدی سطح پر نظریاتی بنیادیں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مجنوں کی پیدائش 10 مئی 1904 کو ملکی جوت، ضلع بستی میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی۔ مجنوں کے والد فاروق دیوانہ بھی شاعر تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔ مجنوں کی ابتدائی تعلیم منجھور گاؤں میں ہوئی۔ اوائل عمری میں ہی عربی، فارسی اور ہندی میں دسترس حاصل کر لی تھی۔ درسِ نظامیہ کی تکمیل کے بعد بی اے تک کی تعلیم گورکھپور، علی گڑھ اور الٰہ آباد میں مکمل کی۔ 1934 میں آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی میں اور 1935 میں کلکتہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔
مجنوں کی تمام شناختوں پر ان کی تنقیدی شناخت حاوی رہی، انہوں نے بہت تسلسل کے ساتھ اپنے عہد کے ادبی و تنقیدی مسائل پر لکھا۔ مجنوں کی تنقیدی کتابوں کے نام یہ ہیں: ’ادب اور زندگی‘، ’دوش و فردا‘، ’نکاتِ مجنوں‘، ’شعر و غزل‘، ’غزل سرا‘، ’غالب: شخص اور شاعر‘، ’شوپن ہار‘، ’تاریخِ جمالیات‘، ’پردیسی کے خطوط‘، ’نقوش و افکار‘۔ مجنوں کے چار افسانوی مجموعے بھی شائع ہوئے: ’خواب و خیال‘، ’سمن پوش‘، ’نقشِ ناہید‘، ’مجنوں کے افسانے‘۔ ان کے افسانے اس عہد کی یادگار ہیں جس میں نثرِ لطیف مقبول ہو رہی تھی اور عقلیت پسندی کے بجائے رومانیت اور جذباتیت تخلیقی ادب کا مرکزی محرک تھی۔ مجنوں نے آسکر وائلڈ، ٹالسٹائی اور ملٹن کی بعض تخلیقات کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ مجنوں کی نظر مغربی ادبیات پر بھی گہری تھی۔ 4 جون 1988 کو کراچی میں انتقال ہوا۔
شیئر کریں
