تسلسلِ وجدان: مکالمہ رومی، خواجہ فرید، اقبال
تسلسلِ وجدان: مکالمہ رومی، خواجہ فرید، اقبال
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
سوال و جواب
سوال و جواب کی دنیا عجیب ہوتی ہے
سوال کے اندر جواب موجود ہو نہ ہو
ہر جواب کے اندر سوال ہوتا ہے
وہ جسے چشمہ بن کے اپنا سارا وجود پاکیزہ شفاف قطروں کی لڑی میں پرویا ہوا بن کے زندہ ہستی کی شہ رگ میں چمکنا ہوتا ہے، وہ ہمیشہ بلندی سے اہل کے، اچھلتا ہوا، آبشار بن کے مسکراتا اتراتا اتر کے گنگناتی ندی کی صورت میں پتھروں کے گھروندوں میں گھر بناتا ہر علم اور گیان کے گھروندے میں گھرا رہنا ہے۔
سمندر، دریا یا کوئی ندی ہو، قطرے قطرے کی زندگی کا جواب ہر قطرے میں ہی موجود ہوتا ہے۔
سوال و جواب کی دنیا عجیب ہوتی ہے
سوال وہی پوچھتا ہے، جو جواب جانتا ہو
شمس تبریز کبھی سوال بنتا ہے تو خود ہی مولائے روم کی صورت میں جواب بن کے ابھرتا ہے، وہی سوال کبھی شکوہ بن کے اقبال کے لبوں پر آتا ہے تو جواب شکوہ کی صورت میں اس کے قلم سے لپک جاتا ہے، وہیں ریگزاروں میں علم و آگہی کے پھول کھلاتا خواجہ فرید اٹھتا ہے اور آسمانوں سے اترے سوال، اس سے بڑھ کے جواب کی صورت میں لکھ دیتا ہے۔
سوال و جواب کی دنیا نرالی ہوتی ہے۔ وہ جو سقراط کا انداز تھا، سوال و جواب میں اندر باہر کا ہر موسم، ہر موسم کا بھید، ہر بھید میں چھپے راز، سب سوال و جواب میں کہہ دیتا۔ اس طرح میرے دوست مسعود الحسن ضیاء نے بھی سوال بن کے تسلسلِ وجدان کے نام سے وہ سارے جواب لکھ دیئے ہیں جن کے سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہوتے یا پیدا ہوں گے۔
ابدال بیلا
اسلام آباد
صفحات 334
ISBN 9786273002996
شیئر کریں
