ساحر لدھیانوی، کلیاتِ ساحر
ساحر لدھیانوی، کلیاتِ ساحر
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
کتاب: تعارف
ساحر لدھیانوی کا نام تصور میں ابھرتے ہی بالی ووڈ کے کئی خوبصورت گیتوں کے ساتھ ان کی کئی لازوال نظمیں بھی آپ کے ذہن میں آ گئی ہوں گی۔ یہ اردو کا واحد ایسا شاعر تھا جو فلمی اور ادبی دونوں دنیاؤں کے لیے بخوبی جیا۔ فلمی دنیا کے لیے تو انہوں نے بے شمار نغمے لکھے۔ ان کا رجحان ترقی پسندی کی جانب تھا اور ان کو ترقی پسندی کی ترویج کے لیے فلمی دنیا میں ایسے ساتھی ملے جو ان کے ہم خیال تھے، اسی لیے تو ان کی شاعری میں آپ کو یاس کم اور امید زیادہ ملے گی۔ وہ ایک نئی صبح کی تعمیر کرنا چاہ رہے تھے اور ترقی پسندوں کے منشور میں بھی یہ تھا کہ وہ مزدور طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، تو ساحر کی بھی اکثر تخلیقات میں متوسط و کمزور طبقے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ حسن و عشق کا حسین احساس بھی ان کی شاعری میں آپ کو ملے گا۔ وقت کے بدلتے رنگ و ڈھنگ کے لیے ان کی شاعری بہت مقبول رہی ہے۔ ان کے یہاں درد کا لہجہ بھی آپ کو پڑھنے کو ملے گا۔ ان کی شاعری تین دہائیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ ان کے یہاں شور و پکار نہیں بلکہ احتجاج ہے، شان و شکوہ نہیں ڈرامائی تناؤ ہے اور ان کی شاعری میں طمطراق نہیں بلکہ ہر ایک منظر اپنی اذیت یا مسرت کا اظہار ہے۔ زیرِ نظر کلیات میں ساحر کے ابتدائی حالات بھی مذکور ہیں۔
صفحات: 592
شیئر کریں
