سندھ کی سیاست | ڈاکٹر تنویر احمد طاہر
سندھ کی سیاست | ڈاکٹر تنویر احمد طاہر
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
جناح نے بطور گورنر جنرل سندھ میں اردو بولنے والی کمیونٹی کو مضبوط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس کے لیے سندھیوں کے مفادات کو بھی نظر انداز کردیا۔ قیام پاکستان تک سندھی مسلمانوں کی تقریباً 25 لاکھ ایکڑ اراضی ہندو بنیوں کے پاس رہن ہو چکی تھی۔ سندھ اسمبلی نے مارچ 1947 میں "سندھ اسمبلی لینڈ اونرز مارٹگیج بل" منظور کیا اور توثیق کے لیے گورنر سندھ کو بھیج دیا۔ اس قانون کے مطابق ہندوؤں کے پاس رہن شدہ اراضی ان کے حقیقی مالکان کو واپس مل جانی تھی۔ یہ بل ابھی گورنر کے پاس زیر التواء تھا کہ اگست میں پاکستان بن گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد گورنر جنرل (محمد علی جناح) کی ہدایت پر گورنر سندھ نے اس بل کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا، جس کا واضح نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوؤں کی چھوڑی ہوئی تمام زمین متروکہ جائیداد کے زمرے میں چلی گئی جسے مہاجرین میں ان کے کلیموں کے عوض تقسیم کیا جانا تھا۔
مقامی آبادی کے مفادات پر منفی اثرات مرتب کرنے میں ایک اور عنصر بھی شامل تھا۔ مہاجرین کی ایک قابل ذکر تعداد نے مہاجرین کی آبادکاری و بحالی کے محکموں اور سرکاری افسران سے تعلقات اور ملی بھگت سے جعلی کلیموں پر متروکہ دکانیں، گھر اور اراضی وغیرہ حاصل کر لیں۔ جبکہ مقامی سندھیوں کو شہروں میں گھروں کی خریداری سے قانونی طور پر روک دیا گیا۔ آبادکاری کے قوانین میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا گیا جس کے مطابق دس ہزار سے زائد مالیت کی پراپرٹی مقامی سندھیوں کو نہیں دی جائے گی۔ اسی طرح دکانوں کی خریداری کے لیے بھی مقامی افراد پر پابندی لگا دی گئی۔
سندھ کی سیاست از ڈاکٹر تنویر احمد طاہر
|
Title |
سندھ کی سیاست |
|
Author |
ڈاکٹر تنویر احمد طاہر |
|
PAGES |
248 |
شیئر کریں
