شاہ لطیف اور جمالیات | شبنم گل
شاہ لطیف اور جمالیات | شبنم گل
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
شبنم گل سے ان کے قاری فکری و ذہنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ ان کے کالموں میں سندھ کے جھرنوں، مرغزاروں، پھولوں اور سبزہ زاروں کی خموشی ہم کلام ہوتی ہے۔ شاہ لطیف پر ان کے کالم بہت پسند کیے گئے؛ شاہ سائیں کے عارفانہ کلام میں انسان دوستی اور انسانیت کے درس سے پھیلتی ہوئی روشنی کے ان گنت زاویوں کو شبنم گل نے بڑے سحر انگیز پیرائے میں بیان کیا ہے۔
نادر شاہ عادل
__________________________________
شبنم اپنی ذاتی وقار، قابلیت اور خود انحصاری کو محض اپنی ذات تک محدود نہیں رکھ رہیں، بلکہ اپنی دھرتی اور لوگوں کے سارے رشتوں، یہاں کے پھولوں اور پتوں کی خوشبوؤں، ڈالیوں پر لہراتے رسیلے پھلوں، چہکاریں مارتی یا آہ بھرتی آوازوں، حتیٰ کہ یہاں کی جھاڑیوں کے کانٹوں اور بہتی ریت پر ننگے پاؤں چلنے والے چھالوں کو اپنے لہو میں بسا کر، اس سب کے اندر سے زندگی میں سکھ بھرنے کا راستہ سمجھا رہی ہیں۔
محمد حمید شاہد
__________________________________
شبنم کی گفتگو میں سندھ کے لہجے کی سادگی، مٹھاس اور دھرتی کے انسانوں سے محبت اور دردمندی کی مہکار ہے۔ دھرتی، فطرت، محبت و امن کی پرچار کرنے والی شبنم بذاتِ خود صوفی مزاج رکھتی ہیں۔
گوہر تاج
__________________________________
شبنم گل کی تحریر میں ظلم و جبر کے خلاف ردعمل پایا جاتا ہے۔ وہ دردمند دل رکھنے والی حساس قلمکار ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسان دوستی، رواداری اور صوفیانہ سوچ کی عکاسی کی گئی ہے۔
ڈاکٹر شیر شاہ سید
__________________________________
شبنم گل تقابلی ادب کی تخلیق میں مہارت رکھتی ہیں۔ دورِ جدید میں ان کا نام تقابلی ادب کے حوالے سے نمایاں طور پر لیا جا سکتا ہے۔ صوفی ازم کے موضوع پر وہ دو دہائیوں سے لکھ رہی ہیں۔ شاہ لطیف کو انہوں نے جدید سائنسی، ما بعد الطبیعاتی اور ما بعد نفسیات کے حوالوں سے بیان کیا ہے۔
اشتیاق انصاری
شیئر کریں

- 5 stars: 1 (100%)
- 4 stars: 0 (0%)
- 3 stars: 0 (0%)
- 2 stars: 0 (0%)
- 1 star: 0 (0%)
شاہ لطیف اور جمالیات | شبنم گل | Shah Lafif Aur Jamaliya | Shabnum Gull