شونیہ مہجل سریندر رازد
شونیہ مہجل سریندر رازد
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
کبھی کبھی ایک کہانی صرف کہانی نہیں ہوتی۔ وہ ایک دروازہ ہوتی ہے، جو قاری کو اس کی اپنی ذات کے گہرے، ان دیکھے گوشوں تک لے جاتی ہے۔ شونیہ ایسا ہی ایک دروازہ ہے۔ یہ ناول محض ایک روایتی قصہ نہیں ، بلکہ ایک فکری، روحانی اور فلسفیانہ جستجو ہے۔ ایک ایسا شجر ہے جو کپل منی کی سانکھیہ درشن سے شروع ہو کر اننت اور اویکتا کے عشق ، ہجر ، یوگ ، فلسفے کی گہرائیوں تک پھیلتا ہے۔
شونیہ یعنی کچھ نہ ہونا اس ناول کا مرکزی استعارہ ہے۔ مگر یہ عدم صرف ریاضیاتی صفر نہیں، بلکہ وہ روحانی مقام ہے جہاں شعور اپنی آخری حد کو چھو لیتا ہے، جہاں ’میں‘ کا پردہ ہٹتا ہے اور سب کچھ ایک ’کچھ بھی نہیں‘ میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ جب کپل منی کی تحقیق کو اننت نے اپنی ریاضت اور سمادھی کے ذریعے دریافت کیا، تو یہی دریافت اس ناول کی بنیاد بنی۔
یہ ناول سترہ ابواب پر مشتمل ہے، اور ہر باب ایک الگ جہت، ایک نئی پرت ، اور ایک تازہ سوال کو جنم دیتا ہے۔ اننت کا کردار ایک عاشق بھی ہے، ایک فلسفی بھی، اور ایک یوگی بھی۔ اویکتا صرف محبوبہ نہیں، بلکہ ایک روحانی علامت ہے۔ وہ اننت کے موکش کی کنجی ہے، جو خود بھی ایک تپسیا سے گزرتی ہے۔ منی اکھنڈ، ایک خاموش رہنما کی صورت، اننت کو اس کے اندر کے تضاد سے روشناس کراتا ہے۔
ناول میں عشق کی بے قراری، ہجر کی اذیت، اور وصال کی روحانی کیفیت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو ان جذبات میں ڈوبا ہوا پاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف جذباتی نہیں؛ ہر منظر، ہر مکالمہ، ہر کیفیت ایک فلسفیانہ پس منظر رکھتی ہے۔ یہاں یوگ کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
شونیہ میں سائنس اور دھرم کے درمیان مکالمہ بھی ہے، تضاد بھی، اور تکمیل بھی۔ جب اننت ان دونوں کے بیچ ادراک کا راستہ چلتا ہے، تو وہ قاری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر جھانکے، اپنے شعور کی آواز سنے، اور خود کو جانے۔
یہ ناول صرف پڑھنے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہے۔ یہ ایک ایسا رس ہے، جیسا کہ مصنف خود کہتے ہیں، جو فلسفے، عشق، اور شعور کے پھلوں سے نچوڑا گیا ہے اور ادب کے قاری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اگر آپ نے کبھی سوچا ہے کہ میں کون ہوں؟، آتما کیا ہے؟، پرماتما اور ایشور میں کیا فرق ہے؟، یا محبت اور موہ میں کیا فرق ہے؟، تو یہ ناول آپ کو بہت سی الجھنوں سے آزاد کرتا ہے۔
سنیل گرڑو
شیئر کریں

- 5 stars: 3 (100%)
- 4 stars: 0 (0%)
- 3 stars: 0 (0%)
- 2 stars: 0 (0%)
- 1 star: 0 (0%)
میرے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ فِکشن ہاؤس نے شونیہ ناول کے بیک کور پر میری تحریر اور رائے کو جگہ دی۔ ایک قاری اور لکھاری کے طور پر کسی تخلیق کے بارے میں اپنے تاثرات کو کتاب کا حصہ بنتے دیکھنا ایک خوشگوار احساس ہے.
"شونیہ" محض ایک ناول نہیں بلکہ عشق، شعور، ذات اور روحانی جستجو کا ایک منفرد سفر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کو ضرور متاثر کرے گی۔
مہاجل سریندر راز کو اس شاندار ادبی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد، اور فکشن ہاؤس کا شکریہ کہ انہوں نے میری رائے کو اس خوبصورت کتاب کا حصہ بنایا۔
آپ سب سے درخواست ہے کہ "شونیہ" ضرور پڑھیں اور اپنے تاثرات شیئر کریں۔
#شونیہ #MahajalSurendarRaz #UrduNovel #FictionHouse #BookLovers #UrduLiterature
Great book
Recommended to the readers