مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 2

فقیر نگر کے باسی | شخصی خاکے | جاوید خان

فقیر نگر کے باسی | شخصی خاکے | جاوید خان

عام قیمت Rs.330.00 PKR
عام قیمت Rs.600.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.330.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد

کتاب سے اقتباس

اس بھرے پڑے جہاں میں کئی نگر ہیں۔ جیسے پریم نگر ہے، جہاں صرف پریت کرنے والے رہتے ہیں اور پریم کہانیوں کے وارث ہیں۔ ایسے ہی نگروں میں دو نگر اور ہیں۔ سری نگر اور ہنزہ نگر۔ یہ گہرائیوں میں سامنے سامنے کے نگر ہیں۔ میری (Sri) کا سنسکرت میں مطلب ہے، دولت، خوب صورتی اور جمال کی بہت ہی بہتات، جب کہ نگر کسی آباد شہر یا جہاں کو کہتے ہیں۔ وقت ایک دریا ہے، ایک بہتی ہوئی ندی ہے، جانے کتنا پانی بہہ چکا؟ شمار مشکل ہے اور ناممکن بھی۔ اس بہاؤ میں ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، ان گنت انسان، ادوار اور زمانے بہہ چکے ہیں۔ گاؤں کا نام بدلا نہیں، وہی ہے، ’سون ٹو پہ‘۔ یہ نام کس زبان نے دیا، قصہ نامعلوم۔ آج کی پہاڑی لغت جو غیر مرتب شدہ ہے، میں ان دو لفظوں کا شجرہ نہیں مل رہا۔ کسی زمانے، کس دور یا وقت کے کس نگر میں میرے گاؤں کے معنی محفوظ ہیں؟ میں نہیں جانتا۔ بس یہ پتا ہے کہ میرے لڑکپن اور بچپن میں یہ ان فقیروں کا نگر تھا اور بہت آباد تھا۔ نگر میں فقیر بستے تھے، عالم تھے اور علم کے پیاسے تھے۔

اس سے قبل بھی اس گاؤں کی کہانیاں ہوں گی، سنی سنائی یا آنکھوں دیکھی تاریخ ہوگی، مگر سنانے والا کوئی نہیں۔ حال ہی میں بازار کے نزدیک ایک کھیت کی کھدائی کے دوران کچھ پتھر کی مورتیاں ملی ہیں۔ انھیں کس نے تراشا اور کیوں تراشا؟ تب اس نگر میں کون لوگ بساؤ کیے ہوئے تھے؟ وہ لوگ کہاں چلے گئے؟ اب کیسے ہیں؟ کہاں ہیں؟ کس دیس میں ہیں؟ واپس مڑے نہیں۔ ان فقراء کی طرح... اس جہاں کے یہ سب لوگ آخر کس دیس میں چلے جاتے ہیں کہ واپس مڑنے کا نام تک نہیں لیتے۔ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، دہریے، خدا پرست یا منکر، ایک مسلک پر تو سب ہی متفق ہیں کہ یہ نگر، یہ جہاں ایک پڑاؤ ہے اور جو بھی اس نگر سے اُس دوسرے نگر میں گیا، آج تک واپس نہیں آیا۔ لوگ بس جاتے ہی ہیں، پھر واپس نہیں آتے۔ یہ جانے والوں کا نگر ہے۔ مگر پھر بھی مسافر یہاں کی رونق میں محو، منزل بھول کر مسافر خانے کی آرائش میں الجھ جاتے ہیں۔ ہر مسافر اپنی عارضی سرائے میں محو ہے، منزل بھول کر اسے ہی دائمی منزل جان بیٹھا ہے۔ مجھ سمیت ہر مسافر یہاں کے عارضی بساؤ کو مستقل سمجھ بیٹھا ہے۔ سوائے کچھ لوگوں کے، یہ سب لوگ ہر دور میں خال خال ضرور نظر آتے ہیں۔ پراگندہ، بکھرے ہوئے، ٹوٹے ہوئے، الجھے ہوئے، مسکراتے ہوئے، من کا دامن جھاڑیں تو حرص سے خالی۔ ان کے من کے نگر میں کوئی اور آباد ہوتا ہے، جسے ہر نگاہ دیکھنے سے قاصر ہے۔ یہ کس نگر کے لوگ ہیں؟ شاید یہی فقیر نگر کے لوگ ہیں۔

مکمل تفصیلات دیکھیں