فکر اور ادب | دیوندر اسر
فکر اور ادب | دیوندر اسر
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
ادب کی ماہیت، اس کا منصب اور اس کی پرکھ ایک دوسرے سے ہمیشہ اس طرح منسلک رہے ہیں کہ انہیں الگ الگ خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے وجود کی شرط ان کا باہمی اٹوٹ رشتہ ہے۔ کسی بھی شے کی پرکھ کے لیے اس کی ماہیت اور اس کے منصب کو جاننا ضروری ہوتا ہے۔ کسی شے کی ماہیت سے ہی اس کے منصب کا تعین ہوتا ہے اور اس کی ماہیت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ مخصوص مقصد حاصل ہو جائے جس کے لیے وہ وجود میں آئی ہے یا لائی گئی ہے۔ ہر شے کی تکمیل اس کے مخصوص استعمال میں ہے جس کو اس شے کی ماہیت نے جنم دیا ہے۔ لہٰذا جب پرکھ کی کسوٹی کا سوال اٹھتا ہے تو ان باتوں پر غور کرنا لازمی ہے کہ اس شے کی ماہیت کیا ہے؟ اس ماہیت سے کیا منصب وابستہ ہے؟ اور اس منصب کی تکمیل کیسے ہو سکتی ہے؟ اس کے بعد ہی ہم عملی طور پر کسی فنی تخلیق کی قدر و قیمت معین کر سکتے ہیں۔ ادب اور فن کی ماہیت، ان کے منصب اور لہٰذا اس کی پرکھ کے معیار میں ہمیشہ اختلافِ رائے رہا ہے، اس لیے تنقید میں مختلف نظریے کارفرما نظر آتے ہیں۔ نظریات کی ایسی کشمکش سے ادبی بحث کے رخ بدلتے رہے ہیں اور ادب میں گوناگوں تجربے ہوتے رہے ہیں جن سے تخلیقی اور تنقیدی ادب کی ترقی کی نت نئی راہیں وا ہوتی رہی ہیں۔
شیئر کریں
