لاہور: پنجاب کا ایک اہم باب از مفتی غلام سرور لاہوری
لاہور: پنجاب کا ایک اہم باب از مفتی غلام سرور لاہوری
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
مفتی غلام سرور قریشی چشتی لاہوری ایک عالم، فاضل، ادیب، شاعر، مؤرخ اور سوانح نگار تھے۔ مفتی غلام سرور لاہوری 1244ھ بمطابق 1837ء میں اپنے آبائی محلے کوٹلی مفتیاں، لاہور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مفتی غلام محمد سے حاصل کی۔ طب بھی اپنے والد سے پڑھی۔ سلسلہ سہروردیہ میں مفتی صاحب اپنے والد سے بیعت تھے۔ بعد ازاں مولانا غلام اللہ لاہوری کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور ان سے علومِ تفسیر و حدیث، فقہ، عربی ادب، صرف و نحو، معانی و منطق اور تاریخ پڑھی۔ اپنے زمانے میں مفتی صاحب بے مثل عالم، ادیب، شاعر، بے نظیر تاریخ گو، مؤرخ اور شہرہ آفاق تذکرہ نویس کہلائے۔
زندگی کا ابتدائی حصہ ملازمت میں بھی گزارا۔ اولاً سردار بھگوان سنگھ، رئیسِ لاہور اور جاگیردار فتح گڑھ، چونیاں کی جائیداد کے مہتمم بھی رہے۔ پھر رائے بہادر کنہیا لال ہندی (ایگزیکٹو انجینئر لاہور ڈویژن) نے آپ کو اپنے محکمے میں ایک معقول مشاہرے پر ملازمت دلوادی تھی۔ کنہیالال ہندی مفتی صاحب کے تلامذہ میں سے تھا۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد مفتی صاحب نے یہ ملازمت ترک کر دی۔
آپ کی طبیعت تصنیف و تالیف اور شعر و ادب ہی کے لیے موزوں تھی۔ طبعِ عالی میں حد درجہ استغنا تھا۔ حکامِ وقت سے ملنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پنڈت بیچ ناتھ، فقیر شمس الدین اور ڈاکٹر لائٹز (رجسٹرار جامعہ پنجاب) نے بارہا کوشش کی کہ آپ حکامِ وقت کے ساتھ راہ و رسم رکھنے سے گریز نہ کریں، مگر آپ جیسی فاضل شخصیت نے حکومت کے ساتھ کسی قسم کا ادبی و سیاسی اتحاد نہ کیا۔
سرسید احمد خان 1884ء میں علی گڑھ کالج کی مالی امداد کے لیے پنجاب کے دورے پر لاہور بھی آئے۔ اپنے دوست خان بہادر ڈپٹی برکت علی کے پاس فروکش ہوئے۔ خان بہادر نے اکابرِ لاہور کا ایک نمائندہ اجلاس اپنی کوٹھی واقع بیرون موچی دروازہ، لاہور میں بلوایا، جس میں مفتی صاحب بھی مدعو تھے۔ خان بہادر نے آپ کا تعارف سرسید احمد خان سے کروایا۔ سر سید احمد خان آپ کی ذات سے بہت متاثر ہوئے۔ ماہ جون 1890ء میں مفتی صاحب اپنے برادرزادہ مفتی جلال الدین بن مفتی سید محمد کی معیت میں حج کے لیے روانہ ہوئے۔ 20 ذوالحجہ 1307ھ کو مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں مسافروں میں اچانک وبائے ہیضہ پھوٹ پڑی، سب اس مرض میں مبتلا ہو گئے۔ آپ بھی اس مرض کا شکار ہو گئے اور جمعرات 27 ذوالحجہ 1307ھ بمطابق 14 اگست 1890ء کو بدر کے مقامی علاقے منزل بئر بالا حسانی میں انتقال کر گئے اور بئر بالا حسانی منزل (مضافاتِ جنگ بدر) میں دفن ہوئے۔ مولانا غلام دستگیر قصوری، جو رفیقِ سفر تھے، نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ مفتی صاحب کثیر التصانیف تھے۔ ان کی مشہور تصانیف یہ ہیں: تاریخ مخزنِ پنجاب، حدیقۃ الاولیاء، گلدستہ کرامت، تاریخ گنجِ سروری، جس کا اصل نام گنجینہ سروری ہے۔ زیر نظر کتاب تاریخ مخزنِ پنجاب میں سے ضلع لاہور اخذ کیا گیا ہے۔
صفحات 160
شیئر کریں
