مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 1

مکتبہ سلیمانی | مکتبہ سلیمانی حسن رضا نقوی

مکتبہ سلیمانی | مکتبہ سلیمانی حسن رضا نقوی

عام قیمت Rs.780.00 PKR
عام قیمت Rs.1,200.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.780.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد
یہ کتاب ایک ایسی شخصیت کے بارے میں ہے جنہیں اہل فلسطین ’’شہیدِ قدس‘‘، اہل لبنان ’’شہیدِ مزاحمت‘‘، عراق و شام کے عوام ’’سالارِ شہدائے مدافعینِ حرم‘‘، افغانستان کے لوگ ’’تاریخی ہیرو‘‘، اہل یمن ’’مظلوموں کا سہارا‘‘، اہل پاکستان ’’محاذِ مزاحمت کے بانی‘‘، اور ایرانی عوام ’’سردارِ دلہا‘‘ اور ’’سردارِ آسمانی‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ امریکی حکام انہیں مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا تعین کرنے والا اور لائقِ دشمن، اسرائیلی حکام انہیں ’’ایران کے سیاسی نظام کا ذہین ترین شخص‘‘، برطانوی حکام انہیں ’’ایسا طاقتور شخص کہ کوئی چیز بھی اس کے قدم نہ اکھاڑ سکے‘‘، جرمن حکام انہیں ’’عسکری مغزِ مفکر اور اعلیٰ اسٹریٹجسٹ‘‘، فرانسیسی حکام انہیں ’’بغیر سائے کے فوجی جنرل‘‘ اور روسی حکام انہیں ’’شکاریوں کا شکاری‘‘ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔ دنیا میں فوجی شعبے کے اندر کسی شخص کا چند دہائیوں تک ایک اعلیٰ فوجی منصب پر فائز رہنے کی کہیں اور مثال نہیں ملتی۔ ان کی شہادت کے بعد رہبرِ انقلابِ اسلامی ایران آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ’’اگر قاسم سلیمانی مزید دس سال بھی زندہ رہتے اور میں بھی زندہ رہتا اور ان کے منصب کے تعین کا اختیار بھی میرے پاس ہی ہوتا تو میں انہیں اسی منصب پر باقی رکھتا‘‘۔ رہبرِ انقلابِ اسلامی کا یہ جملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی درحقیقت فوجی شعبے میں ایک نابغۂ روزگار شخصیت تھے۔ اسی طرح ان کی نمازِ جنازہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک فوجی جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ ہر دلعزیز عوامی شخصیت بھی تھے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جس عمر کا انسان بھی یہ کتاب پڑھے گا، اسے جنرل قاسم سلیمانی کے بارے میں ایسے مطالب ضرور مل جائیں گے جن کی اسے تلاش ہوگی۔ حسن رضا نقوی
مکمل تفصیلات دیکھیں
  • 5 stars: 1 (100%)
  • 4 stars: 0 (0%)
  • 3 stars: 0 (0%)
  • 2 stars: 0 (0%)
  • 1 star: 0 (0%)
U
Urooj Wahab
My first session experience

I read this book daily and right now iam on page no 52 i really enjoyed the first session of this book qasim sulaimani childhood and his young time experience in kerman 🙂