مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 1

وساخ | وساخ | نذیر لغاری

وساخ | وساخ | نذیر لغاری

عام قیمت Rs.600.00 PKR
عام قیمت Rs.1,200.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.600.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد
مصنف: نذیر لغاری
صدی کا عظیم ناول 'وساخ'
سرائیکی دیس کے کسی علاقے سے نہ شائع ہوا اور نہ ہی کہیں دستیاب ہے، سوشل میڈیا پر چرچا تھا، 'وساخ' آ گیا ہے، اشتیاق بہت تھا، جاوید عنبر کا شکریہ کہ انہوں نے 'وساخ' تک رسائی دی۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک چاول پوری دیگ کا ذائقہ بتا دیتا ہے۔ میں نے بھی 25، 30 صفحات دیکھے تو دل باغ باغ ہو گیا۔ میری تو اللہ نے مراد پوری کر دی، حسرت تھی کہ میری زندگی میں ایک ایسی کتاب آئے جس میں سرائیکی کے آغاز سے انجام تک کی بات ہو۔ 'وساخ' کے آنے سے میرا خواب پورا ہوا، یہ صدی کا سب سے بڑا ناول ہے۔ یہ وہ کتاب ہے اگر آدھی صدی پہلے آتی تو ہمیں اپنے دیس کے بہت سے معاملات کی سمجھ آ گئی ہوتی۔ میں نے 'وساخ' کو صدی کا بڑا ناول کہا ہے، میری بات صرف سرائیکی کی نہیں بلکہ تمام زبانوں کی ہے۔ یہ خوشامد والی بات بھی نہیں کیونکہ میں نذیر لغاری کو اچھا نہیں سمجھتا، اب وہ مجھے بھی اچھا نہیں لگتا۔ سیاسی اختلاف بھی ہے کہ اس کے دل کے اندر کوئی اور بستا ہے اور میرے دل میں سرائیکی کے سوا کوئی نہیں ہے۔
یہ تو آپس کی باتیں ہیں جو ہوتی رہیں گی، ہم 'وساخ' کی بات کریں، 'وساخ' سرائیکی کا ایک ایسا نصاب ہے جس میں تاریخ، فلسفہ، تصوف، شاعری، موسیقی، سب کچھ ہے۔ ہر تحریر کا ایک دائرہ ہوتا ہے، دائرہ ایک 'وساخ'، ایک بستی، ایک وسیب، ایک ملک بھی ہو سکتا ہے اور سارا جہاں بھی ہو سکتا ہے۔ 'وساخ' میں سارا جہاں آ جاتا ہے۔ کتاب میں وقت اور زمانے کی بات بھی ہوتی ہے، سال چھ مہینے کا قصہ ہوتا ہے، صدی دو صدی کی بات ہوتی ہے اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں ازل سے لے کر اب تک اور آگے آنے والے وقت کی جھلکیاں بھی ہوتی ہیں۔ 'وساخ' ایک ابدی ناول ہے۔
پہلا صفحہ دیکھیں تو بہادر شاہ ظفر کے دور کی بات ہے، اور تارا بائی کے ٹھاٹھ بھیروی کی بات ہے۔ پہلے لفظ ’’چھن چھن چھن چھنن چھن چھنن چھن‘‘ ہیں۔ ناول میں ایک فلسفی کی بات کو آگے بڑھایا گیا ہے، پروفیسر اختر خان بتاتے ہیں انسان کیا ہے؟ انسان کا وطن کیا ہے؟ اس کی جنم بھومی کیا ہے؟ ریاستی ایجنٹ اس کے خلاف ہو جاتے ہیں کہ یہ شخص وطن پرستی اور زبان و زمین کی بات کر کے تعصب پھیلا رہا ہے۔ یہ ملک اور مذہب کا دشمن ہے۔ درحقیقت 'وساخ' کی بات پروفیسر اختر کی زبان میں نذیر لغاری کی بات ہے۔ لغاری صاحب آپ کو پیشگی مبارک ہو، پروفیسر اختر والے فتوے آپ پر بھی آئیں گے۔ 'وساخ' میں رنجیت سنگھ کی بات بھی آئی ہے جو کہ بالکل ان پڑھ، انتہائی ظالم، دنیا کا سفاک انسان تھا جس نے 20 شادیاں کر رکھی تھیں۔ 'وساخ' میں احمد خان کھرل کی بات کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ملکہ برطانیہ 1837ء سے 1857ء یعنی 20 سال کے عرصے تک اس قدر پریشان نہیں ہوئی تھی جتنی وہ نیلی بار، ساندل بار، گنجی بار میں 70 سال احمد خان کھرل کی دلیری، بہادری، بے خوفی اور اس کی حریت پسندی سے پریشان رہی تھی۔ 'وساخ' میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جب انگریزوں نے دہلی فتح کی تو لاہور، سیالکوٹ، جالندھر اور ہوشیار پور بہت خوش تھے۔ سرائیکی دیس کا گوگیرہ انگریز سے لڑ رہا تھا۔
پیر اور پیرانیاں، جاگیردار اور جاگیردارنیاں ہر دور میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں، آج بھی ہیں، 'وساخ' میں شرمین جاگیردارنی اور سلطانہ پیرانی کا ذکر بھی ہے۔ جاگیرداروں کی شاہی میں ایک غریب جب کچا مکان بنانے کے لیے اینٹیں لاتا ہے، صرف اس کی اینٹیں ہی نہیں چوری کی جاتیں بلکہ بھٹہ بھی چھین لیا جاتا ہے۔ غریب جب تک زندہ رہتا ہے پکے مکان کے خیال سے بھی ڈرتا رہتا ہے۔ جاگیردارنی شرمین اپنی سہیلی سلطانہ سے جو کہ پیرانی ہوتی ہے، پوچھتی ہے کہ ڈہرکی کے پیر کا کیا حال ہے، ابھی بھی الٹا سوتے ہیں یا سیدھا سونا شروع کر دیا ہے؟
مختصر یہ کہ یہ سارا احوال پڑھنے کے لائق ہے، اس میں ٹھگ پیر اور ظالم جاگیرداروں کے دوہرے معیار اور برے کردار کی ساری کہانی آ جاتی ہے۔ کتاب میں دولت کے پجاری پیر کا ذکر بھی ہے۔ پیر معشوق کی بیٹی جتنی بہت خوبصورت ہے وہ خود اتنا ہی بدصورت ہے، ہر جگہ بیٹی کو آگے کرتا تھا۔ رات کی کالی چادر اوڑھ کر ہر رات بیٹی کو بھیجتا تھا، آخر تھک کر بیٹی کہتی ہے ابا! اب بس کرو۔ تم نے دولت کے انبار لگا دیے ہیں، منوں کے حساب سے سونا اکٹھا کر لیا ہے، میں تھک گئی ہوں، پچھلی رات بھی جہاں بھیجا تھا وہ تم سے بیس سال بڑا تھا اور منہ کھولے پڑا تھا۔ 'وساخ' میں اس طرح کی باتوں کا ایک جہاں آباد ہے۔
'وساخ' میں بہت سارے سرائیکی کے ٹھیٹھ الفاظ آئے ہیں جو اب فراموش ہوتے جا رہے تھے، 'وساخ' کی ایک لغت بھی بن سکتی ہے۔ اسلوب وہی سرائیکی اور دل پسند ہے، کتاب کے 525 صفحات ہیں اور ایک کم سو ابواب ہیں۔ ہر حصہ الگ ایک کہانی ہے۔ 'وساخ' مجھ جیسے کم پڑھے لکھے سے لے کر پی ایچ ڈی اسکالر تک سب کی ضرورت ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اردو اور انگریزی کے ناولوں سے خیال لیے گئے ہیں، کچھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ناول کے معیار پر پوری نہیں اترتی کیونکہ اس میں ربط نہیں ہے، ایک خیال کی بجائے بہت سے خیالات، بہت سے نظریے اور بہت سی سوچیں آ گئی ہیں۔ میں اس بات کو نہیں مانتا کیونکہ یہ افسانہ نہیں ہے، افسانے میں ایک داستان ہوتی ہے اور ناول میں ایک جہاں ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کون لکھ رہا ہے؟ جیسے کنویں کا پانی صرف کیاریوں کی پیاس بجھاتا ہے، دریا اور سمندر کی بات الگ ہوتی ہے۔ لکھنے والے نذیر لغاری کو لوگ علم کا دریا اور میں سمندر کہتا ہوں۔
ظہور دھریجہ
مکمل تفصیلات دیکھیں