ہندوستان کے ٹھگ | ہندوستان کے ٹھگ | کنفیشنز آف اے ٹھگ | فلپ میڈوز ٹیلر
ہندوستان کے ٹھگ | ہندوستان کے ٹھگ | کنفیشنز آف اے ٹھگ | فلپ میڈوز ٹیلر
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
کتاب کا نام: Confessions of a Thug
مصنف: Philip Meadows Taylor
اردو ترجمہ بنام: ہندوستان کے ٹھگ
ترجمہ: حسن عابد جعفری
صفحات: 568
" مترجم نے انگریزی میں اس کتاب کو دھڑکتے دل سے پڑھا اور کانپتے قلم سے ترجمہ کیا۔ 1839 میں جب یہ کتاب لندن میں چھپ رہی تھی، ملکہ وکٹوریہ آنجہانی کا حکم تھا کہ اس کے پروف کی تصحیح کے بعد روزانہ ان کے پاس صبح ناشتہ کے وقت پہنچائے جایا کریں بلکہ وہ ان صفحات کو شوق سے پڑھتی تھیں اور دوسرے پروف کی منتظر رہتی تھیں۔ پڑھتی تھیں اور روتی تھیں۔ مگر پڑھنا ترک نہ ہوتا۔ یہی کیفیت انگلستان کی سوسائٹی کی تھی، پڑھنے والوں کی نیند اڑ جاتی تھی، مگر کتاب پڑھے بغیر چین نہ آتا تھا۔ کچھ ایسی ہی وجوہ ترجمہ کے بھی ذمہ دار ہیں ! "
نوٹ: یہ تحریر کتاب کے شروع میں "دیباچہ مترجم" کے عنوان سے شائع دیباچے سے لی گئی ہے۔
" ریاست کے خلاف خفیہ جماعتیں یا تو انقلابی بناتے ہیں یا جرائم پیشہ لوگ، دونوں صورتوں میں جماعتیں یا برادریاں اپنے اتحاد اور یگانگت کو قائم رکھنے کے لیے خفیہ علامات، اشارے اور زبان کی بھی تشکیل کرتی ہیں۔
دونوں مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گردی اور قتل کے ہتھیاروں کو بھی استعمال کرتی ہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ انقلابی ریاست کو کمزور اور توڑ کر ایک مثالی معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ جرائم پیشہ خفیہ جماعتیں، محدود دائرے میں رہتے ہوئے ذاتی یا جماعتی مفاد کو اپنے پیش نظر رکھتی ہیں۔
برصغیر ہندوستان میں ٹھگوں کی جماعت بھی ایسی ہی ایک خفیہ تنظیم تھی جس کے اپنے اشارے، علامات اور زبان تھی۔ یہ انگریزی حکومت کے لیے اس وقت خطرہ بن گئی جب اس نے ریاست کی اتھارٹی کو چیلنج کیا اور معاشرے کے امن و امان کو تہس نہس کر دیا۔ اس وجہ سے انگریزی حکومت کی اتھارٹی اور عوام میں اعتماد کے لیے ضروری ہو گیا کہ اس تنظیم کو ختم کیا جائے۔ اس کے خاتمے نے حکومت کی بنیادوں کو نہ صرف مستحکم کیا بلکہ اس کے وقار کو بھی بڑھایا۔
امیر علی کی کہانی، اس تنظیم کی ایک داستان ہے جو نہ صرف ٹھگوں کی کارروائیوں کو منظرِ عام پر لاتی ہے، بلکہ یہ انیسویں صدی کے ہندوستان کی بھی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس میں عام لوگ، تاجر و دکاندار بھی، اور کاروانوں کی شکل میں سفر کرنے والے مسافر بھی، ذرا غور کریں تو ان سطروں میں اس عہد کا ذہن بھی موجود ہے۔
ٹھگوں نے کس طرح سے اردو زبان پر اثر ڈالا اس کا اندازہ لفظ 'ٹھگی' سے لگائیے جو آج تک مروج ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ہوا کہ ٹھگوں کے وارث بھی کسی نہ کسی شکل میں آج معاشرے میں موجود ہیں۔
شیئر کریں

- 5 stars: 0 (0%)
- 4 stars: 1 (100%)
- 3 stars: 0 (0%)
- 2 stars: 0 (0%)
- 1 star: 0 (0%)
ہندوستان کے ٹھگ | Hindustan Kay Thug | Confessions of a Thug | Philip Meadows Taylor