داستان انقلابِ ایران، محمود تلوى
داستان انقلابِ ایران، محمود تلوى
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
پیش لفظ
اسلامی انقلاب بلاشبہ عالمی تاریخ کے سب سے زیادہ حیران کن اور دورِ حاضر کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اب تک اس سے متعلق مختلف زبانوں میں سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، اس کے باوجود ابھی تک بہت سے معاملات اور ان سے متعلق جزویات پسِ پردہ ہیں جن کے بارے میں نہ بتایا گیا ہے اور نہ لکھا گیا ہے۔
انقلابِ ایران کے بارے میں پہلی کتابیں انقلاب کے دوران اور اس کی کامیابی کے بعد ایران سے باہر شائع ہوئیں۔ ایران کے مسائل کے ماہرین، غیر ملکی یونیورسٹیوں کے محققین، اور دیگر مصنفین و صحافی جو انقلاب کے دوران ایران میں موجود تھے، انہوں نے انقلابِ ایران سے متعلق پہلی کتابیں 1979ء میں یورپ اور امریکہ میں شائع کیں۔ اس کے بعد ان امریکی اور انگریزی سفیروں نے جو سابقہ حکومت کے آخری ایام میں وہاں تعینات تھے، نیز کئی ممالک کے صدور اور عہدیداروں نے اپنی تحریریں پیش کیں اور ہر ایک نے ایرانی انقلاب کے عمل کو اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھا اور لکھا۔ انہوں نے انقلاب سے جڑے مسائل کو داخلی یادداشتوں، مقالات، گفتگوؤں یا سیمیناروں کی شکل میں پیش کیا تاکہ دوسرے ممالک میں انقلابِ ایران کو سمجھا جا سکے۔ انہوں نے اس ضمن میں تجزیہ و تحلیل کے اسلوب اختیار کیے۔
اس کتاب کے مصنف نے غیر ملکی لکھاریوں کی شائع شدہ تحریروں کے تراجم کو تاریک گوشوں اور تاریخ کے اہم ترین اور ناشناختہ پہلوؤں کو روشن کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ان تحریروں کے فارسی تراجم میں پیش رفت ہوئی اور انقلابِ ایران سے متعلق پانچ اہم کتابیں، جن کی فہرست اس کتاب کے آخر میں دی گئی ہے، فارسی زبان میں شائع ہوئیں۔ اس کے بعد دیگر لکھاریوں، مترجمین اور غیر ملکی مصنفین کی تحریروں کے تراجم بھی منظرِ عام پر آ گئے۔ جس تاریخ تک یہ کتاب اشاعت کے لیے تیار ہوئی، مجموعی طور پر تقریباً بیس کتابیں مختلف محققین، مصنفین اور غیر ملکی حکومتی عہدیداروں کی جانب سے انقلابِ ایران کی کیفیت اور سابقہ رجیم کے خاتمے کے عوامل کے بارے میں فارسی میں ترجمہ ہو کر شائع ہو چکی ہیں۔
اس کے باوجود، ماضی کے سالوں میں اور انقلابِ ایران کے بعد گزشتہ حکومت کے بارے میں، اور انقلاب کی وجوہات، عوامل، کیفیت اور اس کے نتائج کے بارے میں ملک سے باہر شائع ہونے والی سینکڑوں کتابوں میں سے ایک بڑی تعداد ابھی تک فارسی میں منتقل نہیں ہو سکی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایران سے متعلق جن کتابوں کا ذکر اس کتاب کے آخر میں کیا گیا ہے، یہ کتاب بہت سے ایسے عنوانات کو بخوبی نمایاں کرتی ہے جو ابھی تک شائع نہیں ہوئے۔ اور قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس قبیل کی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ، جو سابقہ حکومت کے خاتمے کی وجوہات و عوامل اور انقلابِ ایران کے اثرات کے بارے میں ہے، بیرونِ ممالک ابھی بھی جاری ہے۔ انقلابِ ایران، تاریخ کے اہم ترین انقلابات میں سے ایک کے طور پر، یونیورسٹیوں کے ہزاروں لیکچروں اور تحقیقات کا موضوع بنا ہوا ہے اور بہت سے ایسے لیکچروں اور مقالات میں، جو ان یونیورسٹیوں میں نشر ہوئے، اس کا موازنہ حالیہ تاریخ کے بڑے عالمی انقلابات سے کیا جاتا ہے۔
اگرچہ اسلامی انقلابِ ایران اور اس کے نتائج و اثرات کے بارے میں ملک سے باہر سینکڑوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں، مگر وہ کتابیں جو اس انقلاب کے دل اور مرکز میں ایرانیوں کی طرف سے لکھی گئی ہیں، انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے، جبکہ یہ عظیم تاریخی واقعہ اس لائق ہے کہ اسے مختلف زاویہ ہائے نگاہ اور گوناگوں سمتوں سے سمجھا جائے اور اس کا تجزیہ و تحلیل کیا جائے۔ تاریخِ اسلامی انقلابِ ایران کسی ایسے فرد کو لکھنی چاہیے جو خود انقلاب کے عمل میں شامل رہا ہو اور ان حقائق سے جن سے ابھی تک صحیح۔۔۔
صفحات 784
شیئر کریں

- 5 stars: 1 (100%)
- 4 stars: 0 (0%)
- 3 stars: 0 (0%)
- 2 stars: 0 (0%)
- 1 star: 0 (0%)
All good