1
/
کا
1
نوجوان ورتھر کی داستانِ غم
نوجوان ورتھر کی داستانِ غم
عام قیمت
Rs.250.00 PKR
عام قیمت
Rs.500.00 PKR
فروخت کی قیمت
Rs.250.00 PKR
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
نوجوان ورتھر کی داستانِ غم
یہ ناول جرمنی کے ایک عالمگیر شہرت یافتہ فلسفی، شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نگار یوحان وولف گانگ گوئٹے (1749) نے لکھا تھا۔ آپ نے قدیم زبانوں کے علاوہ مذہب و سائنس، تاریخ و جغرافیہ، ادب و فنونِ لطیفہ، شہسواری اور سپہ گری کی تعلیم حاصل کی۔ پہلی ہی ملاقات میں نپولین نے لکھا کہ بلاشبہ گوئٹے ایک مکمل انسان ہیں۔
ناول کے مرکزی کردار ورتھر اور شارلوٹے ہیں۔ دونوں حسین و جمیل نوجوان جوانی کی آب و تاب کے ساتھ جی رہے ہیں۔ دونوں پہلی مرتبہ ایک محفلِ رقص میں روبرو ہوئے اور ورتھر کا دل پہلی ہی نظر میں اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور دل کے ساتھ ساتھ صبر و قرار بھی رخصت ہو گیا۔ لیکن ورتھر کی بدقسمتی تب شروع ہوتی ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ شارلوٹے پہلے سے ہی البرٹ سے منسوب ہو چکی ہے۔ شروع میں ورتھر اس بات کی پروا کیے بغیر اپنے خیالوں میں مست رہتا ہے۔ دونوں ملتے جلتے ہیں اور ورتھر اپنا دل بہلاتا رہتا ہے۔
یہ زمانہ بہرحال لطف سے گزرتا ہے۔
جب یورپ میں سرما کی شدت ختم ہو جاتی ہے اور موسم معتدل ہو جاتا ہے، اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آتا ہے۔ پھولوں اور سبزے سے ہری بھری وادیاں دل کو لبھاتی ہیں۔ پہاڑ کی طراوت گدگدی پیدا کرتی ہے، اور فضا میں تتلی کو مصروفِ رقص دیکھ کر بے اختیار پرواز کی خواہش ہوتی ہے۔ جب میں نے وادی پر نظر ڈالی تو اس منظر سے بہت متاثر ہوا۔ سامنے درختوں کا جھنڈ ہے۔ اس کے سائے میں بیٹھنا کتنا فرحت بخش ہے اور وہاں پہاڑ کی چٹانیں کتنی خوبصورت نظر آتی ہیں۔ کاش تم آ کر اس دلفریب منظر کا مشاہدہ کرتے۔ اور پھر وہاں سے پہاڑوں اور وادیوں کا وہ خوشگوار سلسلہ!!! اے کاش میں ان وادیوں میں گم ہو جاتا اور ان وادیوں میں بھٹکتا رہا مگر جس چیز کی مجھے تلاش تھی وہ نہیں ملی۔
شارلوٹے کی البرٹ سے شادی ہو جاتی ہے۔ شروع میں تو ورتھر اور شارلوٹے بنا کسی رکاوٹ کے ملتے جلتے رہتے ہیں۔ البرٹ کو ورتھر سے آہستہ آہستہ جلن سی ہونے لگتی ہے، کیونکہ شارلوٹے کو ہنستے اور گھل مل کر دیکھنا اسے آگ بگولہ کر دیتا ہے اور شارلوٹے کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے ورتھر پوری کائنات سے بیزار ہو جاتا ہے۔ اُدھر شارلوٹے ایک کرب سے گزرتی ہے۔ ایک طرف خاوند سے وفاداری اور دوسری طرف ورتھر سے ہمدردی۔ بیچاری چاہتے ہوئے بھی کسی ایک کو ٹھکرا نہیں سکتی۔ ورتھر کا تڑپنا حد سے تجاوز کر جاتا ہے اور وہ مجبور ہو کر اپنے تڑپنے کا مستقل حل تلاش کر لیتا ہے۔
~ کس کے گھر جائے گا سیلابِ فنا میرے بعد۔۔۔۔۔۔
شیئر کریں
