گھوسٹ وارز: دی سیکرٹ ہسٹری آف دی سی آئی اے، افغانستان، اینڈ بن لادن | خفیہ افغان جنگ
گھوسٹ وارز: دی سیکرٹ ہسٹری آف دی سی آئی اے، افغانستان، اینڈ بن لادن | خفیہ افغان جنگ
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
گھوسٹ وارز: سی آئی اے، افغانستان، اور بن لادن کی خفیہ تاریخ، سوویت حملے سے از سٹیو کول
تعارف
افغانستان میں خفیہ آپریشنز، سیاست کی پیچیدہ دنیا میں آنکھیں کھولنے والا سفر، جس نے افغانستان اور وسیع مشرق وسطیٰ کا منظرنامہ تشکیل دیا۔ سٹیو کول نے سوویت یونین کے افغانستان پر حملے سے لے کر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد تک خطے میں امریکی مداخلت کی تاریخ کو باریک بینی سے کھنگالا ہے۔ تفصیلی تحقیقی کہانی میں عسکریت پسند گروپوں سے نمٹنے کے لیے مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں اور حکومتوں کے پیچیدہ جال سامنے آتے ہیں۔ کتاب میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ ماضی میں کیے گئے فیصلوں نے کس طرح خطے کی موجودہ جغرافیائی سیاست کو تشکیل دینے میں اثر ڈالا ہے۔ 'گھوسٹ وارز'، بین الاقوامی سیاست کی پوشیدہ سازشوں کے بارے میں قیمتی بصیرت پیش کرتی ہے۔ کہانی کے پس منظر میں حیران کن معلومات افغان تاریخ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ سٹیو کول ایک امریکی صحافی ہیں، اس لیے کتاب میں امریکی مفادات یا ہمدردی کا تناظر واضح ہے کیونکہ معلومات زیادہ تر امریکی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔ تاہم، سٹیو کول کے بیانیے سے مکمل متفق ہونا ضروری نہیں۔
امریکی تاریخ کی تباہ کن کہانیوں میں 'سی آئی اے' کی کہانی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ایجنسی کے افسروں اور حکام کے تنازعات، ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی کہانیاں 11 ستمبر سے پہلے کی خفیہ جنگوں کو واضح کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ صدور، سفارت کاروں، فوجی افسران اور قومی سلامتی کے مشیروں نے اسے ایک نیا نام 'دہشت گردی' کا دیا۔ 11 ستمبر کی کہانی بھی ان کی دیگر کہانیوں میں سے ایک ہے، جس کے بعد بنیاد پرستوں کے نیٹ ورک میں تیزی آئی۔ 1979 کے بعد دیگر گروپوں کی طرح طالبان اور اسامہ بن لادن کا ظہور ہوا، اور القاعدہ نے بھی جنم لیا۔
سٹیو کول کے بیانیے کا مرکز افغان جنگ میں 'آئی ایس آئی' کا اہم کردار ہے۔ سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ میں پاکستانی انٹیلی جنس اور امریکی ایجنسی کی شراکت اہم تھی۔ دونوں ایجنسیوں نے مختلف نقطہ نظر اور مقاصد کے باوجود افغان مجاہدین کی حمایت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے امریکہ، سعودی عرب اور افغان مجاہدین کے مختلف دھڑوں کے درمیان اہم ثالثی کا کردار نبھایا۔ 'آئی ایس آئی' نے اپنے مخصوص نقطہ نظر کے تحت، پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے مفاد میں پالیسی اختیار کی، اور وقت نے پاکستانی ایجنسی کی پالیسیوں کو درست ثابت کیا۔ 'آئی ایس آئی' کے افغان بیورو نے اپنے وقار اور استحقاق کی حفاظت کی۔ امریکہ کی تمام عالمی افواج کے درمیان اس کی منفرد حیثیت تھی، لیکن افغان جنگ کے دوران امریکی عسکری قیادت اپنے کانفرنس رومز میں روزانہ پیچیدہ ریاضیاتی پہلوؤں پر دلائل دیتی رہی اور آخرکار 'سی آئی اے' بھی پاکستانی انٹیلی جنس کی برتری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئی۔ آئی ایس آئی نے سوویت علاقے میں کارروائیوں کے لیے بہترین حکمت عملی اپنائی تھی۔ اتحادی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے افغان مجاہدین کو مدد فراہم کی، جس میں جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی شامل تھی، جیسے کہ سٹنگر میزائل۔ سٹنگر میزائل نے مجاہدین کو سوویت فضائی طاقت کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل بنا کر جنگ کا رخ موڑنے میں مدد کی۔ 1992 میں یہ بات سامنے آئی کہ افغانستان میں موجود ہتھیاروں کی تعداد بھارت اور پاکستان دونوں کے مشترکہ ہتھیاروں سے بھی زیادہ تھی۔ کچھ اندازوں کے مطابق، افغانستان میں اتنا اسلحہ پہنچایا گیا کہ شاید دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں پہنچایا گیا ہوگا۔
گورباچوف نے 1986 میں اس جنگ کو "خون رستا زخم" قرار دیا، اس لیے انہوں نے افغانستان سے مکمل انخلا کا دلیرانہ فیصلہ کیا تھا۔ امریکی پالیسی میں اسلامی دنیا کی پرامن لیکن مایوس اکثریتی آبادیوں کے ساتھ تعلق، جمہوریت، تعلیم اور معاشی ترقی کے لیے حکمت عملی کا فقدان نظر آیا۔ ان اہم ترجیحات کے بجائے واشنگٹن نے اکثر مسلم ممالک میں غیر جمہوری اور بدعنوان حکومتوں کی حمایت کی۔ حتیٰ کہ ان ممالک میں مایوسی کا شکار متوسط طبقہ اپنے معاشی، سماجی اور بہتر سیاسی نظام کے لیے پریشان رہا۔ پس پردہ کہانی کا بنیادی کردار 'سی آئی اے' ہی تھا، جس نے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت مخالف جہاد کو شکل دی۔ پھر پیسوں کے ذریعے اسامہ بن لادن کو 1990 کی دہائی کے آخر میں پکڑنے اور مارنے کی خفیہ مہم چلائی۔ 11 ستمبر سے دو برس قبل 'سی آئی اے' کے انسدادِ دہشت گردی مرکز نے اسامہ بن لادن کے خلاف احمد شاہ مسعود اور دیگر افغانوں کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔ امریکہ کا بنایا ہوا ہیرو احمد شاہ مسعود بھی 20 برس تک افغانستان کے لیے امریکی پالیسی سے مایوس رہا۔ شمالی اتحاد کو ایک بوجھ سمجھا گیا۔ اسامہ بن لادن کے حوالے سے مسعود کے معاونین کہتے تھے، "امریکہ نے پیادوں کو چھیڑے بغیر بادشاہ کو پکڑنے کی کوشش کی ہے۔" بن لادن کو کیسے قابو کرنا ہے؟ امریکی ایجنسی نے پاکستان اور سعودی عرب کی ایجنسیوں سے اپنے اکثر عدم اعتماد والے اتحاد کو سنبھالنے کے لیے جدوجہد کی۔ امریکہ نے خفیہ معاملات اور حربوں کے ذریعے بن لادن کو افغانستان میں پناہ لینے کے حالات پیدا کیے۔ صدر کلنٹن کے بس میں ہوتا تو وہ اسامہ بن لادن کو جلد ہی منظر سے ہٹا دیتے۔ امریکی طالبان کے ساتھ فوجی تصادم کا خطرہ مول لینے سے ہچکچاتے رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ، سعودی اور پاکستان کے اس موقف کو قبول کرتے رہے کہ طالبان زیادہ اعتدال پسند بن سکتے ہیں۔
سٹیو کول کی کتاب 'گھوسٹ وارز' (Ghost Wars) کو 2005 میں جنرل نان فکشن کے لیے پلٹزر پرائز (Pulitzer Prize) ملا تھا۔ مجموعی طور پر، 'گھوسٹ وارز' ایک فکر انگیز اور بصیرت افروز مطالعہ ہے، جسے جیو پولیٹکس، سی آئی اے، انٹیلی جنس آپریشنز یا مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کی لائبریری میں ہونا چاہیے۔
سیّد غضنفر محمود
صفحات 606
شیئر کریں
