قید بامشقت شہزاد حسین بھٹی
قید بامشقت شہزاد حسین بھٹی
پک اپ کی دستیابی لوڈ نہیں ہو سکی۔
۵ دسمبر، بروز جمعہ، فکشن ہاؤس میں اپنی شاعری کی نئی آنے والی کتاب "ضیا ابھی تک مرا نہیں ہے" کی پروف ریڈنگ کرواتے ہوئے میری ملاقات نوجوان افسانہ نگار شاہ زاد حسین بھٹی سے ہوئی تو اس نے اپنا حال ہی میں شائع ہونے والا افسانوں کا مجموعہ "قیدِ بامشقت" عنایت فرماتے ہوئے کہا کہ پہلی کتاب آپ کو ہی دے رہا ہوں۔ میں نے کتاب کا پہلا افسانہ "برگر ڈیل" پڑھا تو احساس ہوا جیسے میں منشی پریم چند کا کوئی افسانہ پڑھ رہا ہوں۔ اس کے بعد کتاب کے ۱۵ افسانے میں نے ایک دن میں پڑھے۔ تمام افسانے بہت دلچسپ تھے۔ افسانوں کی خاص بات سماجی حقیقت نگاری اور طبقاتی شعور سے بھرپور ہونا تھا۔ کسی بھی افسانہ نگار کے ترقی پسند ہونے کے لیے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری اور طبقاتی شعور کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مذہب کے ٹھیکیداروں اور دین کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف لکھنا بھی ضروری ہے۔ اس کتاب میں یہ سب صفات موجود ہیں۔ کتاب کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے جیسے کتاب کی سب کہانیاں ہمارے سماج کی کہانیاں ہیں۔ میں شاہ زاد حسین بھٹی کو افسانوں کی اتنی شاندار کتاب لکھنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
طاہر شبیر
شیئر کریں
