مصنوعات کی معلومات پر جائیں
1 کا 36

The Reformation: The Story of Civilization, Volume 6 | اصلاحِ مذہب: تہذیب کی کہانی، جلد 6

The Reformation: The Story of Civilization, Volume 6 | اصلاحِ مذہب: تہذیب کی کہانی، جلد 6

عام قیمت Rs.3,850.00 PKR
عام قیمت Rs.7,000.00 PKR فروخت کی قیمت Rs.3,850.00 PKR
سیل فروخت ہو چکا
شپنگ کا حساب چیک آؤٹ پر لگایا جائے گا۔
تعداد
اصلاحِ مذہب: تہذیب کی کہانی، جلد 6 | تہذیب کی کہانی | مذہبی بیداری

اس کتاب کا عنوان "اصلاحِ مذہب" درحقیقت مکمل دیانت داری کا حامل نہیں ہے، لہٰذا قاری کو پیشگی مطلع کرنا ضروری ہے۔ اگر عنوان میں تمام تر باریکیاں ملحوظ رکھی جاتیں تو یہ کچھ یوں ہوتا: "یورپی تمدن کی تاریخ، جو اٹلی کے سوا 1300ء سے 1564ء تک محیط ہے، جس میں اٹلی کی مذہبی تاریخ کے ساتھ ساتھ یورپ، افریقہ اور مغربی ایشیا میں اسلامی اور یہودی تمدن کا سرسری جائزہ بھی شامل ہے۔" اتنی وسیع اور پیچیدہ موضوعاتی سرحد کیوں؟ اس لیے کہ "تاریخِ تہذیب" کے سلسلے کی چوتھی جلد، جس کا عنوان "عہدِ ایمان" ہے، یورپی تاریخ کو محض 1300ء تک لائی تھی اور پانچویں جلد "نشاۃِ ثانیہ" صرف اٹلی تک محدود رہی، وہ بھی 1304ء سے 1576ء تک، اور اس نے اٹلی میں اصلاحِ مذہب کی بازگشت کو مؤخر کر دیا تھا۔ چنانچہ یہ چھٹی جلد اپنی کہانی کا آغاز 1300ء سے کرتی ہے اور قاری کو مسکراہٹ آئے گی جب وہ دیکھے گا کہ لوتھر کا ظہور داستان کے ایک تہائی حصے کے گزر جانے کے بعد ہوتا ہے۔ لیکن آئیے ہم اس بات پر خاموشی سے متفق ہو جائیں کہ اصلاحِ مذہب کا آغاز دراصل چودہویں صدی میں جان وِکلف اور لوئیس آف بادیرا سے ہوا، پندرہویں صدی میں جان ہس کے ہاتھوں آگے بڑھا اور سولہویں صدی میں وٹن برگ کے بے باک راہب کے ہاتھوں زور و شور سے اپنے عروج کو پہنچا۔ جن قارئین کی دلچسپی صرف اس مذہبی انقلابی تحریک میں ہے، وہ بلا تامل ابواب سوم تا ششم اور نہم تا دہم کو چھوڑ سکتے ہیں، اس سے ان کے علم میں کوئی ناقابلِ تلافی کمی واقع نہ ہوگی۔

یوں اصلاحِ مذہب اس کتاب کا مرکزی موضوع تو ہے، مگر یہ تنہا عنوان نہیں۔ ہم آغاز کریں گے مذہب کے عمومی تصور سے، اس کے روحانی اور اجتماعی کردار سے اور کلیسائے روم کے ان حالات و مسائل سے جو لوتھر کی آمد سے دو صدی قبل موجود تھے۔ ہم انگلستان (1376ء تا 1382ء)، جرمنی (1320ء تا 1347ء) اور بوہیمیا (1402ء تا 1485ء) پر نظر ڈالیں گے، جہاں اصلاحِ مذہب کی فکری تیاری اور نظریاتی کشمکش کی جھلکیاں پہلے ہی نمودار ہو چکی تھیں۔ اس کے ساتھ ہم دیکھیں گے کہ سماجی انقلابات، جن میں اشتراکی امنگیں بھی پوشیدہ تھیں، کس طرح مذہبی بغاوت کے ہمراہ گامزن رہے۔ ہم قسطنطنیہ کے زوال کی گونج سنیں گے اور محسوس کریں گے کہ جب ترکوں کی پیش قدمی ویانا کے دروازوں تک پہنچی، تو ایک انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ بیک وقت بادشاہ اور پوپ دونوں کو للکار سکے۔ ہم اراسمس کی ان مخلصانہ مساعی کا بھی مطالعہ کریں گے جو کلیسا کی پرامن اندرونی اصلاح کے لیے کی گئیں۔ ہم لوتھر سے قبل کے جرمنی کا جائزہ لیں گے تاکہ یہ ادراک ہو سکے کہ اس کی نمود کتنی ناگزیر تھی۔ کتاب دوم میں اصلاحِ مذہب کا اصل منظرنامہ پیش کیا جائے گا، جس میں جرمنی میں لوتھر اور میلانکتھن، سوئٹزرلینڈ میں زونگلی اور کیلوں، انگلستان میں ہنری ہشتم، اسکاٹ لینڈ میں ناکس اور سویڈن میں گستاؤ واسا شامل ہوں گے، نیز فرانس اول اور چارلس پنجم کی طویل کشمکش پر سرسری نگاہ ڈالی جائے گی اور اس ہنگامہ خیز نصف صدی (1517ء تا 1564ء) کے دیگر پہلوؤں کو فی الحال مؤخر کیا جائے گا تاکہ مذہبی داستان پوری شان سے ابھر سکے۔ کتاب سوم میں اُن "اجنبیوں" پر نظر ڈالی جائے گی جو یورپ کی دہلیز پر تھے: روس اور خاندانِ ایوان، کلیسائے آرتھوڈوکس، اسلام جس کا عقیدہ، تمدن اور قوت ایک گہری للکار تھی؛ اور یہودیوں کی یہ جدوجہد کہ وہ مسیحی دنیا میں اپنی بقا کا راستہ تلاش کریں۔

مکمل تفصیلات دیکھیں